Our _Blog_

Our Daily News

رمضان المبارک کی سحری کے لئے بیدار ہونے والے مسلمانوں نے پڑوسیوں کی جانیں بچا کر امت کا سر فخر سے بلند کردیا

Muslims who were awake for Ramadan hailed as heroes for helping to save people at Grenfell Tower fire

some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ لندن کے گرین فیل ٹاورمیں آتشزدگی کے بعد متاثرہ خاندانوں کی مدد میں سحری کیلئے اٹھے مسلمان پیش پیش رہے،برطانوی میڈیا نے مسلمانوں کی ہمدردی اورمدد کے جذبے کوقابل تعریف قراردیا۔ لندن میں مسلمانوں کی ہمدردی اور بہادری کے چرچے، مسلم کیمونٹی کے قابل تقلید کردار کو برطانوی میڈیا نے خراج تحسین پیش کیا اور مسلم کمیونٹی برطانوی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بن گئی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق گرین فیل ٹاور میں آتشزدگی کے بعد مسلمانوں نے اپنے پڑوسیوں کی جان بچانے کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لندن گرینفل ٹاور میں آتشزدگی کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے سب سے پہلے افراد مسلمان تھے، انہوں نے اپنے سوئے ہوئے پڑوسیوں کے دروازوں کو کھٹکھٹاتے ہوئے عمارت میں لگی آگ کا بتا کر انہیں چوکنا کیا اور عمارت سے باہر نکلنے میں ان کی مدد کی۔ سحری کے لئے بیدارہونے والے مسلمانوں نے آگ کی لپیٹ میں آئی عمارت میں پھنسے لوگوں کو باہرنکالا، متاثرہ افراد کا کہنا تھا مسلمانوں نے نہ صرف جانیں بچائیں بلکہ کھانا اورکپڑے بھی فراہم کئے

ٹاور میں آگ رات کو تقریباً دو سے ڈھائی بجے کے درمیان لگی جب اکثر لوگ سو چکے ہوتے ہیں تاہم چونکہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے لہٰذا مسلمان خاندان سحری کی تیاریوں کی وجہ سے جاگ رہے تھے اور انہوں عمارت میں پھنسے لوگوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی میڈیا نے مسلم کیمونٹی کےکردار کوسراہتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا۔ جن لوگوں کے فلیٹ اس آتشزدگی کی لپیٹ میں آئے ان کے لئے مساجد کو کھول دیا گیا اور انہیں کھانے پینے کی اشیاءدی گئیں ، کئی مسلمانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر اپنے غیر ملکی پڑوسیوں کی جانیں بچائیں۔

گرین فال ٹاور کی رہائشی نادیہ یوسف نے کہا کہ وہ سحر کی تیاری میں مصروف تھیں کہ آگ کا پتہ چلا اور انہوں نے کئی مرد و خواتین اور بچوں کو بچانے میں ساتھیوں کی مدد کی ٹاور کی رہائشی راشدہ کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے وقت کئی مسلمان سحری کے لئے بیدار ہوا تھے، مسلمان نماز تراویح کے بعد سوتے بھی نہیں اس لئے کئی افراد کی جانیں اسی وجہ سے بچائی جا سکیں۔مسلمان مرد و خواتین ریسیکیو کی گاڑیوں اور ایمبولینسز کی آوازیں سن کر باہر نکلے تو انہیں آگ کے شعلے دکھائی دئیے انہوں نے فوری طور پر لوگوں کو اٹھانا شروع کردیا او راپنی جانوں پر کھیل کر آگ کے شعلوں میں گھری ہوئی فیملیز کو باہر نکالا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

London; Muslims who were awake for Ramadan have been hailed as heroes after helping to save their sleeping neighbours from the horrific Grenfell Tower fire. Residents who had stayed up for Sehri saw the inferno break out just before 1am.

People who were up for Swhri told of how they smelled smoke in the early hours of Wednesday morning and began running around, frantically banging on people's doors to wake them up. They were dubbed a 'lifeline' in helping to get people out of their flats, amid claims that fire alarms and sprinklers were not working in the west London block.

A number of Islamic cultural centres and mosques like the Al-Manaar Mosque have opened their doors to help those affected. The culural heritage centre wrote on Facebook: 'Al-Manaar Mosque and Centre are open for use as a temporary shelter by anyone affected by the fire at Grenfell Tower.

'Anyone of any faith or no faith is most welcome to walk in to have some rest, sleep, and or have some water and food. 'Al-Manaar staff and volunteers will also be trying to deliver water, dates, and other emergency essentials to the affected area. Our thoughts and prayers are with you during this difficult time.

'Most of the people I could see were Muslim. They have also been providing food and clothes.'Even far as people from Slough region have been collecting food and cloths to deliver to victims.

Prime Minister Theresa May has ordered a full public inquiry into the fire that engulfed a west London block of flats, killing at least 17 people. That figure is expected to rise, as fire chiefs have said they do not expect to find any more survivors in the burnt-out Grenfell Tower, in north Kensington.

شاہدہ اکبر ویکسم کورٹ پیرش کونسل سلاو کی چئرمین اور راجہ فیاض وائس چیرمین منتخب

Shaida Akbar of Kallar Syedan appointed Chairman of Wexham court parish council Slough

some image some image

سلاو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) شاہدہ اکبر کو چیرمین اور راجہ فیاض کو ویکسم کورٹ پیرش کونسل کا وائس چیرمین منتخب کر لیا گیا- اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد پیرش ہال ویکسم میں کیا گیا- جس میں لیبر پارٹی کے امیدوار برائے ایم پی، سابق مئیرز، کونسلرز سابق کونسلرز کے علاوہ سلاو کے مشہور بزنس مین و سیاسی و سماجی شخصیات نے بھر پور شرکت کی اور نومنتخب چئرمین شاہدہ اکبر اور وائس چیئرمین راجہ فیاض کو مبارک باد پیش کی-

اس تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اس کے بعد نومنتخب چئرمین شاہدہ اکبر وائس چیئرمین راجہ فیاض اور لیبر پارٹی کے امیدوار ایم پی نے خطابات کیے- نماہندہ پوٹھوار ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چئرمین شاہدہ اکبر اور وائس چیئرمین راجہ فیاض نے پیرش کونسل کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہم کمیونٹی کو بہتر سے بہتر سہولیات مہیا کریں گے

اور انشاءاللہ کمیونٹی کے تعاون سے اس کو مزید بہتر بنائیں گے- آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور مہمانوں کے لیے کھانے کا خصوصی بندوبست بھی کیا گیا تھا مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ کیجئے-

Slough; A Function was held in Slough where Shaida Akbar of village Chak Mirza in Kallar Syedan was elected Chairman of Wexham court parish council and Raja Fayaz of Nanda Jatal, Chauk Pindori in Kallar Syedan was elected vice Chairman.

Wexham Court Parish Hall supplies our local community in Slough with a wide choice of services and facilities. Local residents hold meeting to discuss currents issues in the region.

Large number of social and political personalities along with local residents attended the function, Shaida Akbar and Raja Fayaz told pothwar.com If you're looking for a modern venue in Slough, then why not try your local Parish Hall? Wexham Court Parish Hall is available for rent and is ideal for many uses, from weddings through to baby and toddler groups. We always support our local community.

Slough; For more pls see video below....

سیاسی پناہ کے نام پر برطانوی حکومت سے چون لاکھ سالانہ بٹورنے والے نوسربازجوڑے کو جیل کی سزا

جوڑے نے بنک میں تین کروڑ سینتیس لاکھ موجود ہونے کے باوجود خود کو مفلوک الحال ظاہر کیا

Wealthy Pakistani asylum seekers fraudulently claiming benefit are jailed in Manchester

some image

برمنگھم نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم شاہد ہاشمی----- برطانیہ میں سیاسی پناہ کے نا م پر مفادات بٹورنے والے شوہر نے جیل سے رہائی پائی تو اْس کی بیوی کو چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ عدالت کے اس فیصلے سے پاکستانی جوڑے کے بچے چائلڈکئیر میں جانے سے بچ گئے۔سید زیدی اور رضوانہ کمال نے برطانیہ کی عدالت میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی جس کی منظوری کے بعد انہوں نے دوہزار بارہ سے دوہزار سولہ تک تقریباً 54 لاکھ روپے سالانہ بٹورے۔ اس دوران ان کے بینک اکاونٹس میں تین کروڑ سینتیس لاکھ روپے موجود تھے اور دو گاڑیاں بھی زیر استعمال رہیں۔خفیہ اطلاع پر برطانوی محکمہ داخلہ نے پاکستانی جوڑے کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیاجبکہ مانچسٹر کی عدالت نے فراڈ ثابت ہونے پر میاں ،بیوی کو چھ چھ ماہ کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان میں ایک امیر خاندان سے تعلق رکھنے اور اپنی ذاتی جائیداد ہونے کے بوجود مذکورہ جوڑے نے سیاسی پناہ حاصل کرتے ہوئے برطانوی حکومت کو بیوقوف بنایا اور اور اپنے اثاثے ظاہر نہ کیے جبکہ ان کے بنک میں دو لاکھ پچاس ہزار پونڈ سے زائد رقم موجود تھی۔ اور محکمہ داخلہ سے غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھیں سیاسی پناہ نہ ملی تو پاکستان میں انھیں قتل کردیا جائے گا۔جس کی بنا پر نہ صرف ھوم آفس نے انھی شیلٹر مہیا کیا بلکہ سالانہ چالیس ہزار پونڈ سے زائد سوشل فنڈز بھی ادا کئے۔ مگر ایک خفیہ اطلاع پر برطانوی محکمہ داخلہ نے جب مذکورہ جوڑے کے خلاف کارروائی کی تو پتہ چلا کہ جوڑے کے پاس انتہائی مہنگی دو کاریں موجود ہیں اوران کے پاس وکٹورین زمانے کا ایک خوبصورت گھر بھی موجود ہے۔

Manchester; A WEALTHY Pakistani couple who fraudulently claimed £40,000 a year in benefits after claiming asylum in Britain were jailed six months apart so their children didn’t have to be taken into care.

Syed Zaidi, 41, and his wife Rizwana Kamal, 40, claimed asylum seekers’ benefit, child tax and working tax credits and child benefits for their three children – on top of free accommodation – worth £150,000, despite having more than £250,000 in the bank.

The university graduates claimed they were being persecuted in their native Pakistan and urged the Home Office to give them shelter, claiming £150,000 worth of handouts.

They splashed out on two cars and moved into a Victorian terraced house in Denton, near Manchester, but were caught after a tip-off to the Home Office. It is thought they won the right to stay in the UK during their four-year scam between 2012 and 2016.

At Minshull Street Crown Court, Manchester Judge Bernard Lever jailed the couple for ten months each after they admitted benefit fraud.

But in an unusual move he delayed locking up Kamal until this week, after her husband was released having served half his sentence. It means their children will not be taken into care at further expense to the taxpayer.

مانچسٹر کے نواحی شہر اولڈھم میں مسجد کو آگ لگانے کی کوشش

Masjid attacked by arsonists in Oldham in suspected revenge attack for Manchester bombing

some image

(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم،پنوں خان منہاس)۔۔۔۔ مانچسٹر کے نواحی شہر اولڈھم میں مسجد کو آگ لگانے کی کوشش۔ مانچسٹر میں ہونے والے خود کش حملے کے تین گھنٹے بعد نواحی شہر اولڈھم میں جامع قاسمیہ زاہدیہ اسلامک سنٹر کو لیٹر بکس کے ذریعے آگ لگانے کی کوشش گئی جو ایک راہ گیرکی اطلاع پر ناکام بنادی گئی ۔

انگریزی اخبار کے مطابق مسجد کے امام محمد صادق نے بتایا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ واقع مانچسٹر میں ہونے والے خود کش حملے کا ردعمل ہو۔ڈیل میل کے مطابق سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں بھی مرکزی جامع مسجد کے آس پاس پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے کہ مسجد کے بیرونی حصے پر کسی شرپسند نے داعش کے اسلامی سٹیٹ کا نعرہ لکھ دیا ہے۔

ایک اور ذرائع کے مطابق مانچسٹر کے واقع کے بعد برطانیہ کی مسلم کمیونی ٹی میں سخت پریشانی پائی جاتی ہے اور رمضان المبارک کی آمد سے صرف چند پہلے اس طرح کے واقعات مسلمانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔مساجد میں تراویح کے وقت سیکورٹی کے انتظامات پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔

Manchester; A mosque in Manchester was reportedly attacked just hours after a man detonated a bomb at an Ariana Grande concert which killed 22 people. The door of the Jamia Qasmia Zahidia Islamic Centre in Oldham, Greater Manchester, was set alight and badly damaged.

“At around 2.55am on Tuesday 23 May police were called to reports of an arson attack in Oldham,” a police told. “No one was injured and enquires are on-going.”

Pakistani taxi drivers praised for giving victims free lifts after blast At Victoria Park mosque in Manchester, where imams from across the city gathered to pray for the victims of the concert blast, an imam confirmed that there had been a suspected arson attack in Oldham later that night.

صالحہ محمود نے ماسٹر شیف گلوریا کے 2017 ایڈیشن میں کامیابی حاصل کر لی

Saliha Mahmood Ahmed of Watford wins master chef title 2017 in UK

some image

برمنگھم نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم شاہد ھاشمی ----   ڈاکٹر صالحہ آنتوں اور معدے کے امراض کی سپیشلسٹ ہیں لیکن کھانے پکانے اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے جیسے موضوعات پر کتابیں لکھنا ان کا خواب ہے ایک پاکستانی ڈاکٹر نے اپنے وطن کی ثقافت اورورثے سے تحریک لیتے ہوئے ایسٹ میٹس ویسٹ کے مینیو پر مبنی بی بی سی کا ماسٹر شیف مقابلہ جیت لیا ہے۔ 29 سالہ ڈاکٹر صالحہ محمود احمد نے جو انگلینڈ کے علاقے واٹفرڈ میں رہتی ہیں اس مقابلے میں جیوانا رائن اور سٹیو کیئلٹی کو شکست دی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے کھانے پکانے کے شوق اور میڈیکل کیریئر میں اشتراک سے موزوں ترین غذا تلاش کر کے ان افراد کی مدد کرنا چاہتی ہیں جنھیں خاص قسم کی خوراک کھانے سے امراض لگ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صالحہ محمود احمد نے جو انگلینڈ کے علاقے واٹفرڈ میں رہتی ہیں اس مقابلے میں جیوانا رائن اور سٹیو کیئلٹی کو شکست دی ڈاکٹر صالحہ نے جو ایک بچے کی ماں ہیں بی بی سی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مقابلے میں کھانا بنانے کے 64 شوقین افراد کو ہرایا۔ اس مقابلے میں انھوں نے اپنی آن کال شفٹوں کو ساتھیوں کے ساتھ تبدیل کیا تاکہ وہ مقابلے میں شریک رہ سکیں۔ ڈاکٹر صالحہ آنتوں اور معدے کے امراض کی سپیشلسٹ ہیں لیکن کھانے پکانے اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے جیسے موضوعات پر کتابیں لکھنا ان کا خواب ہے۔ اپنی جیت پر انھوں نے کہا ماسٹر شیف چیمپیئن بننا زبردست ہے۔ تعریفی الفاظ اس خوشی کو بیان نہیں کرسکتے۔ میں نے اپنی زندگی میں سب سے بہترین کام یہی کیا ہے اس میں بہت محنت شامل تھی۔ مجھے بہت جلدی کام شروع کرنا پڑتا تھا اور 13- 13 گھنٹوں کی شفٹوں کے بعد دیر گئے کھانے بنانے ہوتے تھے۔ اس بیچ نہ چھٹی ملتی تھی نہ نیند پوری ہوتی تھی

صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں شیف آف دی ایئر کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا جمعہ کی رات بی بی سی ون پر فائنل مقابلے میں تین امیدواروں کو تین حصوں پر مشتمل کھانا تین گھنٹوں میں تیار کر کے ججز کو چکھنے کے لیے دینا تھا۔ جج گریگ ویلس نے صالحہ کے بنے ہوئے کھانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا مشرق و مغرب کا امتزاج اور حیران کن پلیٹ پر فن کی خوبصورت تصویر جج جون ٹوروڈ نے کہا صالحہ یہاں آئیں اور انھوں نے اپنے کھانے پینے کی ثقافت کو اجزا میں تقسیم کیا اور پھر انھیں جدید اور انتہائی زبردست انداز کے ساتھ پھر سے یکجا کر دیا

صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں شیف آف دی ایئر کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا۔میرا تعلق ایک بڑی پاکستانی فیملی سے ہے اور ہم کھانوں کے ذریعے لوگوں کو یکجا کرتے ہیں۔ میری دادی اور نانی بڑی جذباتی تھیں اور روایتی پاکستانی کھانے پکاتی تھیں۔ میری امی بھی بہت اچھا کھانے پکاتی ہیں۔ ہمیں لوگوں کو کھانا کھلانا اچھا لگتا ہے۔ یہ ہمارے جینز میں ہے

Watford; A junior doctor has won the BBC's Masterchef title, with a menu of "East meets West" dishes inspired by her Pakistani heritage. Saliha Mahmood-Ahmed, 29, from Watford, beat off fellow-competitors Giovanna Ryan and Steve Kielty.

Saliha impressed judges John Torode and Gregg Wallace as a "class act". She said she wanted to combine her love of cooking with her medical career, by helping people with special dietary conditions find their ideal foods. The junior doctor and mum-of-one, who battled from 64 amateur cooks to take the prize, swapped on-call shifts with colleagues to ensure she could take part in the contest.

In her career, she specialises in gastroenterology - but she also dreams of writing cookbooks and tackling obesity. On her win, Saliha said: "To be the Masterchef champion is fantastic and wonderful. Adjectives are not sufficient. This is definitely the coolest thing I've ever done in my life!

انجمن حیدریہ مسجد بریڈفورڈ کے امام سید سبطین کاظمی کو مولانا اعظم طارق کے قتل کے الزام میں اسلام آباد ائرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا

ان پر الزام ہے کہ چودہ سال قبل قتل ہوئے مولانا اعظم طارق کے قتل میں ان کا ہاتھ ہے

Bradford imam Syed Sibtain Kazmi arrested in Pakistan on suspicion of murder

some image some image

بریڈفورڈ، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔۔۔ انجمن حیدریہ مسجد بریڈفورڈ کے امام سید سبطین کاظمی کو چودہ سال قبل انجمن سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے قتل کے شبے میں بے نظیر بھٹو ائرپورٹ اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔ستاون سالہ سید سبطین کاظمی بریڈفورڈ میں مقیم ہیں اور انھیں اسلام آباد ائرپورٹ سے برطانیہ روانگی کے وقت گرفتار کیا گیا۔

سید سبطین کاظمی کی ولادت پاکستان کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کالعدم جماعت انجمن سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے قتل میں ان کا بھی ہاتھ ہے۔ سید سبطین کاظمی مشہور شیعہ لیڈر ہیں اور پاکستان باقاعدگی سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ایم پی ناز شاہ نے وزیر اعلٰی شہباز شریف سے تفصیلی گفتگو کی تاکہ سید سبطین کاظمی کی گرفتاری کی تفصیلات معلوم کی جاسکیں۔ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ امام مسجد کو شبہ کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔اور انھیں پانچ دن کے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔

نازہ شاہ کا کہنا ہے کہ وہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔اور کیس کے متعلق اپ ڈیٹس حاصل کرتی رہیں گی۔پاکستانی میڈیا کے مطابق جب ایف آئی اے کے حکام کو سید سبطین کی ملک سے روانگی کی اطلاعات میں تو انھوں نے ایک ٹیم ائر پورٹ روانہ کی جہاں سے انھیں گرفتار کر لیا گیا۔مولانا اعظم طارق کو چار ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔وہ اس وقت قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔

Bradford; THE imam of a Bradford Masjid Syed Sibtain Kazmi has been arrested in Pakistan on suspicion of carrying out a murder committed nearly 14 years ago. Syed Sibtain Kazmi, 57, who lives in Bradford, was held by Pakistani police this morning, reportedly after he attempted to fly home from Benazir Bhutto International Airport in Islamabad.

His arrest is understood to relate to the murder of Maulana Azam Tariq, the chief of the banned Sipah-e-Sahaba group, in 2003. Kazmi, a Shia Muslim, leads worship at the Anjuman e Haideria mosque, a former children’s hospital in St Mary’s Road, Manningham. He was born in Pakistan, and is said to make regular return visits to his home country.

Naz Shah, the Labour Parliamentary candidate for Bradford West, was in contact with the Chief Minister in Pakistan today to try to get more details of his arrest. She said she was told Kazmi had been arrested on suspicion of “historic murder” and was being held on remand for five days.

She told she would be in close contact with the country’s Home Secretary about any updates in the case. Pakistani media reported that the country’s Federal Investigation Agency had sent the team to the airport after learning Kazmi was due to leave the country on a Qatar Airline flight to Manchester via Doha. He was apprehended and handed over to the police. Maulana Azam Tariq was shot dead, along with four other passengers of his vehicle, near Islamabad in October 2003. He was then a member of the National Assembly of Pakistan.

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کارڈ فراہم کرنے کا حکم

نادراایک غیر منافعہ بخش ادارہ ہے اور شناختی کارڈ حاصل کرنا ہر ایک پاکستانی کا حق ہے

Non-resident Pakistanis seeking ID cards should be given monetary concessions: Supreme Court

some image

سٹوک آن ٹرینٹ (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم،پنوں خان منہاس)۔۔۔۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کارڈ فراہم کرنے کا حکم۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کاڑد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے 26ممالک میں نادرا سینٹرز اور سٹاف کے بارے میں بھی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اوور سیز پاکستانیوں کو جاری کیے جانے والے شناختی کارڈز کے کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی خدمات قابل ستائش ہیں اور ان کے لیے رعایت ہونی چاہیے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ نادراایک غیر منافعہ بخش ادارہ ہے اور شناختی کارڈ حاصل کرنا ہر ایک پاکستانی کا حق ہے۔

چیر مین نادرا عثمان یوسف نے موقف پیش کیا کہ لوکل پاکستانیوں کے شناختی کارڈ پر سبسیڈی دی جاتی ہے۔جبکہ بیرون ممالک میں قائم سینٹرز کے اخراجات زیادہ ہیں اسی وجہ سے اُن سے زیادہ فیس لی جاتی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ فیس میں اضافے کی ٹھوس وجوہات نظر نہیں آتیں۔بیرون ملک میں مقیم پاکستانی بھاری زرمبادلہ بھجواتے ہیں اور انھیں بھاری پیسے لے کر کارڈ دیے جارہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے نادر ا کے سینٹرز اورسٹاف کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

دوسری جانب برٹش پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے جہاں عدالت کے اس حکم کا خیر مقدم کیا ہے کہ اوور سیز پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کارڈ جاری کیے جائیں وہاں اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا موقف سننے کے لیے عدالت نے اُن کا کوئی نمائندہ طلب نہیں کیا۔برٹش پاکستانیوں نے اُمید ظاہر کی ہے آئندہ سماعت میں اُن کے کسی نمائندے کوضرور بلایا جائے گا۔بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے خصوصی شناختی کارڈ NICOP کی زیادہ فیس کے خلاف تحریک چلانے والے حاجی شیر عالم آف بلیک برن اس عدالتی حکم نامے پر تبصرہ کے لیے دستیاب نہ تھے۔

Stoke on Trent, UK; The Supreme Court said on Thursday that Pakistanis who are living abroad should be given monetary concessions by the National Database and Registration Authority (Nadra) in the issuance of identity cards.

A three-judge bench headed by Chief Justice of Pakistan (CJP) Justice Mian Saqib Nisar was hearing a suo motu case initiated after a non-resident Pakistani complained that the issuance fee for a Pakistan Origin Card (POC) had been increased to Rs22,000, and the cancellation fee to Rs31,500. Nadra had on Thursday submitted a report sought in connection with the fee hike. The Nadra chairman explained that overseas Pakistanis are issued two types of cards.

The National Identity Card for Overseas Pakistanis (Nicop) is for people who live in foreign countries for employment purposes but have kept their Pakistani nationality, Yusuf said. These Pakistanis who want to visit the country need not apply for a visa if they possess a Nicop.

The POC is for people living in foreign countries who have given up their Pakistani nationality or for foreigners who have blood relatives who are or were Pakistani nationals. At this, Justice Ijazul Hassan asked why there was a need for a Pakistan Origin Card in the presence of the identity card and passport.

The court asked Nadra why Pakistanis who live abroad and send back foreign exchange are charged a hefty amount for the POC while Pakistanis who live in the country are charged a negligible amount for their identity cards.

Pothwar. COM

+44 7763249391 | pothwar@yahoo.co.uk
© Copyright Pothwar.com | Est. 2000-2016

new graphics