Our _Blog_

Our Daily News

قومی کرکٹ کپتان سرفراز احمد کا انگلش کاؤنٹی یارک شائر سے معاہدہ ہوگیا

Pakistani community celebrate as Sarfraz Ahmed joins Yorkshire cricket club

some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ قومی کرکٹ کپتان سرفراز احمد کا انگلش کاؤنٹی یارک شائر سے معاہدہ ہوگیا۔ پی سی بی نے بھی کپتان کو این اوسی جاری کر دیا۔ وکٹ کیپر بیٹسمین 3 اگست سے کاؤنٹی سے 5 میچز کھیلیں گے۔ چیمپئنز ٹرافی کے فاتح کپتان سرفراز احمد پر کاؤنٹی کرکٹ کے دروازے بھی کھل گئے۔ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کے بعد پی سی بی نے سرفراز کو قومی ٹیسٹ کی قیادت بھی سونپ دی۔

سرفراز احمد کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے والے پاکستان کے پہلے وکٹ کیپر ہوں گے۔ یارک شائر نے سرفراز احمد سے آسٹریلیا کے پیٹر ہینڈز کومب کے متبادل کی حیثیت سے معاہدہ کیا ہے۔ جبکہ کاؤنٹی کے مقامی وکٹ کیپر جونی بیرسٹو انگلش ٹیم کے ساتھ مصروف ہیں۔ سرفراز احمد 27 جولائی کو انگلینڈ روانہ ہو رہے ہیں۔ وہ 3 اگست کو ڈربی شائر کے خلاف ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں کاؤنٹی ڈیبیو کریں گے۔ سرفراز احمد نے کہا کہ انگلش کاؤنٹی سے کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ ان کے لئے آف سیزن میں صلاحیتوں میں بہتری کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ یارکشائر سے کھیلنا اعزاز کی بات ہے، یونس خان اور انضمام بھی اس ٹیم سے کھیل چکے ہیں۔کائونٹی کھیل کر ہر کھلاڑی کی کارکردگی میں نکھار آتا ہے مجھے بھی اپنے پر وفیشنل کیرئیر کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ بطور کرکٹر اور کپتان ہر دن کچھ نیا سیکھتا ہوں ۔کاونٹی کے لئےپانچ میچز کھیلوں گا۔ کوشش ہوگی کہ اپنی کاونٹی کو سرخرو کرائوں اور فتوحات میں کردار ادا کروں۔

سرفراز احمد کائونٹی کرکٹ کھیلنے آئندہ ہفتے لیڈز جائیں گے۔اسٹار کرکٹر کا کہنا ہے کہ زندگی میں خواب تھا کہ ایک دن کائونٹی کرکٹ کھیلوں۔یارک شائر کائونٹی سے کھیل کر مجھے میرے خواب کی تعبیر مل گئی ہے۔

Leeds; Pakistan captain Sarfraz Ahmed has signed for Yorkshire as an overseas player for the NatWest T20 Blast. The Pakistani community in Yorkshire have welcomed the news and are looking forward to seeing their hero.

Sarfraz, captain of the Champions Trophy winning side a few weeks ago, replaces Australian Peter Handscomb, who is scheduled to attend a training camp ahead of Australia's tour of Bangladesh although that series could yet get caught up in the ongoing pay dispute.

Sarfraz, who has recently been appointed as Pakistan's Test captain, is expected to feature in five T20 Blast matches and has confirmed he is happy to keep wicket as required. His signing is subject to him gaining a work permit.

Yorkshire are currently second in the North Group of the Blast. They have won one, lost one, tied one and seen one match abandoned.

راشدہ سروغ نے نقاب پہننے سے منع کرنے پر بیٹی کے اسکول کی انتظامیہ پر مقدمہ کر دیا

Mother takes legal action against school over face veil ban

some image

برمنگھم شاہد ہاشمی پوٹھوارڈاٹ کوم۔۔۔۔۔۔ لندن: برطانوی دار الحکومت میں مسلمان خاتون نے نقاب پہننے سے منع کرنے پر بیٹی کے اسکول کی انتظامیہ پر مقدمہ کر دیا۔ تفصیل کے مطابق راشدہ سروغ نے اپنی بیٹی کے ہولینڈ پارک اسکول لندن کی انتظامیہ کے خلاف امتیازی سلوک کا کیس دائر کر دیا ہے۔

اسکول میں نئے طلبہ کے والدین کے اعزاز میں تقریب ہوئی جس میں باحجاب خاتون راشدہ نے بھی شرکت کی لیکن اسکول انتظامیہ نے انہیں نقاب اتارنے کا حکم دیا۔

انتظامیہ کے لوگ انہیں ایک کمرے میں لے گئے اور کہا کہ اسکول میں نقاب پہننے کی اجازت نہیں بصورت دیگر وہ واپس چلی جائیں۔ راشدہ نے کہا کہ انہیں اس حکم سے شدید صدمہ پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ نقاب پہننے پر لندن کی گلیوں میں لوگوں نے انہیں برا بھلا بھی کہا ہے اور گالیاں بھی دی ہیں لیکن اسکول میں پڑھے لکھے اور خود کو مہذب کہنے والے افراد کے رویے پر انہیں زیادہ افسوس ہوا جس کی وجہ سے انہوں نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔

London; Mum Rachida Serroukh has launched legal action against her daughter’s school, after being told she could not wear a face veil on its premises. Rachida Serroukh, 37, a single mother of three daughters, has begun a discrimination test case against the prestigious Holland Park school, dubbed the “socialist Eton”, in the Royal Borough of Kensington and Chelsea after she was told she would not be allowed to wear a face veil at the school.

At first Serroukh thought that the teacher who raised the veil issue had misunderstood and thought her daughter would be attending school in a face veil. “I explained clearly that my daughter wears a headscarf and would not be coming to school in a face veil. Then I realised she was talking about me not my daughter.”

Serroukh said the teacher then asked her to leave the school through the back exit, but she refused, explaining she needed to collect her daughter and would be leaving through the same door she had arrived – the school’s front entrance.

“I was very shaken and was in a state of shock about what had happened,” she said. “I had never experienced anything like this before. I have experienced name calling in the street from strangers about my veil but nothing like this had ever happened before. When I got home, I just broke down.”

Her solicitor, Attiq Malik of Liberty Law Solicitors, said the firm had drafted a letter to the school because it was a “straightforward” test case of discrimination on the grounds of religion. “The government constantly talks about British values. To me, those values include diversity and multiculturalism. If a school in London is doing this, what might be happening elsewhere?”

The school has not yet responded to repeated requests to comment; Kensington and Chelsea referred enquiries to the school. But in Wilson’s 13 July email, he referred to Serroukh’s account of the meeting with the teacher during the parents’ welcome evening, saying “we believe it to be factually inaccurate”.

عید الفطر کی تقریبات، ایک ہی مکتبہ فکر کے ٹی وی چینلز نے عوام کو دو عیدیں کرا دیں

عوام میں غم و غصہ، ٹی وی چینلز کی اس حرکت کا محاسبہ کیا جائے

TV Channels announcing eid day should be held responsible in UK

some image

Above; Takbeer channel announcing 2017 eid ul fitr day live on their tv channel..

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔۔۔ یوں تو برطانیہ میں دو عیدوں کا مسئلہ کئی عشروں سے چلا آرہا ہے ایک گروہ سعودیہ کے اعلان کے ساتھ عید مناتا ہے جبکہ دوسرا گروہ ہمیشہ انھیں غلط قرار دے کے چاند دیکھ کر عید منانے کا دعوٰی کرتا رہا ہے۔ مگر اس بار چاند دیکھ کر عید منانے والوں نے بھی عوام کے لئے مضحکہ خیز صورتحال کھڑی کر دی۔ان میں بعض مساجد نے تراویح کے بعد نمازیوں سے ہاتھ اٹھا کر اتوار یا پیر کو عید منانے کے لئے ووٹنگ کرنے کو کہا اور بعض نے اپنے مالی معامالات کی خاطر اتوار کو عید منانے کی ٹھانی کیونکہ چندہ دوسری مساجد کے ہاتھ جانے کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ واضح رہے کہ برمنگھم کی ایک بڑی مسجد میں عید کے روز نمازیوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے اور چندہ لاکھوں پونڈز کے حساب سے اکٹھا ہوتا ہے۔

مقامی مساجد کی اکثریت چاند کی رویت کے لئے کسی قسم کی ٹیکنالوجی یا ذرائع موجود نہ ہونے کے باعث یہ مساجد ٹی وی چینلز کی جانب سے کسی اعلان کی منتظر رہتی ہیں۔ اور جوں ہی یہ ٹی وہ چینلز بتاتے ہیں یہ مساجد بھی اپنے نمازیوں کو اس بارے آگاہ کر دیتی ہیں۔مگر جب اس بار انھی ٹی وی چینلز میں آپس میں اتفاق نہ ہونے کے باعث دو مختلف عیدوں کا اعلان ہوا تو عوام مساجسد کی کمیٹیوں اور اماموں پر چڑھ دوڑی۔ انھیں برا بھلا کہا گیا۔ حالانکہ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنے بڑوں پر انحصار کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔

جہاں تک چاند کی رویت کا مسئلہ ہے تو تمام اسلامی ممالک میں حکومت کی طرف سے ایک رویت ہال کمیٹی قائم کی جاتی ہے جو مختلف شہروں سے چاند کی رویت کا اہتمام کرتی اور عوام کو آگاہ کرتی ہے کسی ٹی وی چینل کو سارے عوام کا ٹھیکیدار بنا کر چاند دیکھنے کا اختیار نہیں دیا جاتا۔ مگر برطانیہ میں عوام کے چندے سے چلنے والے یہ چینلز اپنی من مانی سے صرف رمضان کے آغاز اور اختتام پر چاند کا مسئلہ کھڑا کرتے اور مسلمانوں میں انتشار کا سبب بنتے ہیں۔اور اس بار تو حد ہی کر دی کچھ مساجد سے رات بارہ بجے اعلان کیا گیا کہ چاند نظر آگیا ہے کل عید ہو گی۔ یعنی پہلے دن کا چاند جس کی عمر صرف تیس سے چالیس منٹ ہوتی ہے جس کے بعد وہ غروب ہو جاتا ہے وہی چاند رات بارہ بجے دوبارہ آ کر ان ٹی وی چینلز کو بتا گیا ہے کہ کل عید ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چونکہ پہلے یہ اعلان کیا جا چکا تھا کہ مراکش اور سائوتھ افریقہ میں چاند نظر نہیں آیا اس لئے اپنے چاند کی رویت کی دلیل کے لئے کہا گیا کہ نائجیریا میں چاند نظر آگیا ہے ۔اب کس نے نائیجیریا جا کر ان کے جھوٹ کی حقیقت کا پردہ چاک کرنا تھا۔

اس ساری صورتحال کے بعد یہ بھی ثابت ہوتا ہے جو اتنے سالوں سے ہمیں بتایا جاتا رہا کہ سعودی عرب کی پیروی کرنے والی مساجد بغیر چاند کے عید مناتی ہیں تو یہی کچھ اس طرف بھی ہوتا رہا ہے مگر عوام کو اعتماد میں لے کر۔ورنہ آدھے لوگوں کو چاند نظر آگیا تو باقی کیوں اس سعادت سے محروم رہے۔اب وقت آچکا ہے کہ یہ تمام مساجد ایک پلیٹ فارم بنا کر اپنی رویت کمیٹی بنائیں اور ٹی وی چینلز پر اعتبار کرنے کی بجائے برطانیہ بھر میں سے اپنے نمائندے منتخب کریں ۔ اور اس کمیٹی پر تمام علما کا اتفاق ہو۔ تبھی آئندہ اس قسم کی صورتحال سے بچا جاسکتا ہے۔

London; Post mortem is being carried out in UK after two eid fiasco that has left bitterness amongst Masjid Imams, committee members and the general public who are asking why this has happened.

Their has been growing tension in Masjids up and down the country in UK, Their were reports of unrest amongst several Masjids on issue of eid on which day it should fall Sunday or Monday.

Majority of Masjids rely on TV channels, such as Noor Tv, Takbeer and Ummah channel in announcing the eid day, Only few Masjids or Islamic centres have their own connection.

On the Eid Ul Fitr announcement, which has been blamed on TV station for making a decision on receiving advertisement and funds, their has been reports that the channel has had senior members resigning.

Hafiz Saeed Hashmi of Choa Khalsa, Kallar Syedan told pothwar.com that the Imam's and the Masjid committee members are facing anger of the public when they are not at all at the fault as they had relied on TV channels.

This years eid ul fitr announcement has left serious issues for Masjids not to rely on TV channels and to join united and creating a independent look out for moon like few Masjids who are currently doing this for many years.

For more please watch video below by Hafiz Saeed Hashmi of Choa Khalsa, Kallar Syedan, who is Imam at Shah Jahan, Woking Masjid.

کلرسیداں کے مشہور مقدمہ قتل ناہید اختر زوجہ محمدشبیرقریشی کے ملزم کوعدالت سے سزائے موت کاحکم

Man who murdered Nahid Akhtar of Norway in Kallar Syedan given death sentence

some image

Above; File photo of Nahid Akhtar being treated at THQ Kallar Syedan.

کلر سیداں؛ نمائندہ پوٹھوارڈاٹ کام ،اکرام الحق قریشی۔۔۔۔ کلرسیداں کے مشہور مقدمہ قتل ناہید اختر زوجہ محمدشبیرقریشی کے ملزم کوعدالت نے سزائے موت کاحکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق بھیائی مہرعلی خان کے محمدشبیرقریشی اپنی اہلیہ ناہید اخترکے ہمراہ ناروے میں مقیم تھا اس دوران انھوں نے کلرسیداں شہرمیں بھی اپناگھرتعمیرکرنے کافیصلہ کیا۔

جس کے لئے ناہید اخترناروے سے کلرسیداں منتقل ہوئی، اور انھوں نے مکان کی تعمیرشروع کرادی۔ اسی دوران ان کی ایک مزدور ذکاء اللہ ساکن موہڑہ وینس یوسی مغل تھانہ روات سے شناسائی ہوئی جس نے گھرتک رسائی حاصل کرلی۔ 23دسمبر2014ء کوذکاء اللہ نے ناہید اختر کے گھردستک دی اس نے دروازہ کھولا تو ملزم نے تیل ڈال کراسے آگ لگا دی،

جس سے وہ خود بھی جھلس گیاتھا، ناہید اختر کوہسپتال پہنچایاگیا جہاں اس نے اپنے نزعی بیان میں کہاکہ اسے آگ ذکاء اللہ نے لگائی۔ جس کے بعد ناہید اختر کوناروے منتقل کیاگیا جہاں اس نے دم توڑ دیا۔

ایڈیشل سیشن جج راولپنڈی حسنین رضا کی عدالت میں ملزم کے خلاف چالان پیش ہوا، استغاثہ کی جانب سے راجہ ستااللہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے دلائل دیئے ، عدالت نے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کوسزائے موت کاحکم سنادیا۔ یادرہے کہ ملزم پہلے ہی اڈیالہ جیل میں قیدہے۔

Norway / Kallar Syedan; Zika Ullah who was responable for torching and murdering Naheed Akhtar of Norway and village Bhiye Mehar Ali has been given death sentence, Additional session judge Rawalpindi, Husnain Raza gave the verdict.

Zika Ullah was arrested on 23rd December 2014 and sent to Adiyala jail, Nahid Akhtar, Mother of six who had arrived from Norway was thrown petrol at her face and set alight in a row in village Bhaiye Mehar Ali near Sakot. According to Kallar Syedan Police, Nahid Akhtar wife of Mohammad Shabbir had arrived alone from Norway to construct a house in her native village of Bhaiye Mehar Ali

Nahid Akhtars driver Zika Ullah of Morra Vaince in Rawat was demanding money and after being refused the money demand had threatened Nahid Akhtar.

Nahid Akhtar went to open her front door she was met by Zika Ullag who threw petrol at her and set alight with lighter, according to Nahid Akhtar who told pothwar.com in 2014 while she was being treated at THQ hospital in Kallar Syedan, She was later flown to Norway but died from her burns.

کونسلر عابد حسین بریڈفورڈ کے لارڈ مئیر منتخب

Councillor Abid Hussain elected as Lord Mayor of Bradford at City Hall

some image

بریڈفورڈ، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔۔۔ پاکستانی نژاد کونسلر عابد حسین بریڈفورڈ کے لارڈ مئیر منتخب کر لیے گئے۔وہ کیلی کے علاقے سے کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ اور مئیر کی پوسٹ پر آئندہ بارہ ماہ کے لئے خدمات انجام دیں گے۔واضح رہے کہ بریڈفورڈ میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور اسے بریڈفورڈستان بھی کہا جاتا ہے۔

مئیر عابد حسین کا کہنا تھا کہ وہ تمام مذاہب اور کمیونیٹیز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور تمام مذاہب میں ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیں گے۔ انھیں نوجوانوں کے ساتھ مل کر تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنے کی بھی خواہش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کیلی سے کونسلر منتخب ہوئے اور انھیں اس بات کی بھی زیادہ خوشی ہے کہ ڈپٹی لارڈ مئیر کا تعلق بھی کیلی کونسل سے ہے۔نئے لارڈ مئیر نے ان چیریٹی تنظیموں کا بھی اعلان کیا ہے جنھیں اپنی ٹرم کے دوران وہ سپورٹ کریں گے ان میں ڈوان سندروم ٹریننگ اور سپورٹ سروس کی تنظیم شامل ہے۔

نئے لارڈ مئیر نے پچھلے سال شروع ہونے والے پروجیکٹ کے لئے بھی اپنی سپورٹ کا اظہار کیا جس میں بریڈفورڈ کی تمام کمیونیٹیز ، مذاہب اور مختلف بیک گراونڈ رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا شامل ہے۔

Bradford; KEIGHLEY councillor Abid Hussain has been formally installed as the new Lord Mayor of Bradford. Cllr Hussain, who represents Keighley Central, will hold the civic post for 12 months. Largest number of Pothwari living in UK are settled in Bradford.

Mayor Abid Hussain said “I will be working with all faiths and will try to build some lovely bridges between the communities and all faiths and organisations, work with young people and in education. “I am particularly delighted to be a Lord Mayor from Keighley, and my Deputy Lord Mayor is also from Keighley.

The new Lord Mayor has unveiled the charities he will be supporting through the appeal. He is backing Bingley-based charity the Down Syndrome Training and Support Service, and the Wishing Well Appeal, which gives out small grants to smaller charities and organisations around the district.

The the new Lord Mayor has been so supportive of Believing in Bradford, a project we launched last year bringing a whole range of people from different backgrounds, faiths and communities together to represent the district.

رائل کورٹ آف جسٹس لندن کی جانب سے پاکستانی پیر محبوب اختر کی سزا چودہ سال سے کم کر کے گیارہ سال کر دی گئی

پہلے برمنگھم کراون کورٹ نے انھیں پراپرٹی فراڈ اور ٹیکس چوری کے جرم میں چودہ سال کی سزا سنائی تھی

Prison Sentence of British Pakistani Pir Mehboob Akhtar reduced to 11 years

some image

لندن، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔لاکھوں پونڈ مالیت کے پراپرٹی فراڈ اور ٹیکس چوری کے الزام میں گزشتہ سال چودہ سال کی سزا پانے والے پاکستانی نژاد پیر محبوب اختر کی سزا میں رائل کورٹ آف لندن نے اپیل کے بعدتین سال کی کمی کر دی ۔یعنی اب پیر محبوب اختر کو گیارہ سال قید بھگتنا ہوگی۔

برمنگھم کراون کورٹ نے تقریباً ایک ملین پونڈ کی پراپرٹی کے حوالے سے مارگیج کے لئے رقم فراہم کرنے کرنے والوں سے غلط بیانی کے الزام میں محبوب اختر کے ساتھ ان کے دیگر نو ساتھیوں جن میں ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی شامل تھی۔سزا سنائی تھی۔اس سزا کے خلاف محبوب اختر کے وکیل نے لندن ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔جو مسترد کر دی گئی۔مگر وکیل نے ہمت نہ ہاری اور اگلے مرحلے پر ایک اور اپیل کر دی۔جس کی سماعت کے بعد موجودہ نتیجہ سامنے آیا۔

اس مقدمے میں مذکورہ پیر کی اہلیہ پچپن سالہ خدیجہ اختر کو چار سال اور صاحبزادی رشبا منی اختر کو ساڑھے تین سال کی سزا سنائی گئی تھی اور یہ لوگ اب بھی جیل میں ہیں۔ان کے ساتھ جن سات دوسرے افراد کو سزائیں سنائی گئیں ان میں دو مارگیج بروکر بھی شامل ہیں۔ان لوگوں کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

LONDON: Three judges at the Royal Courts of Justice have reduced the prison sentence of British Pakistani faith healer Mehboob Akhtar, of Stoke-on-Trent, from 14 to 11 years. The judges, however, stated that his conviction last year regarding to multi-million-pound property fraud and tax-evasion scam was right on the mark.

In April last year, Mehboob Akhtar also known as Saint Pir Pandariman, was sentenced by the Birmingham Crown Court for 14 years along with nine others, including his wife and daughter, after being found guilty of lying to mortgage lenders to amass nearly £1m of property. After a lengthy trial, he was convicted of 11 charges including five of conspiracy to commit fraud and cheating Her Majesty's Revenue and Customs (HMRC) out of £271,000.

Pir Pandariman’s wife Khadija Akhtar, 55, was convicted of offences including cheating HMRC and conspiracy to obtain a money transfer by deception. She is currently in prison for four years. Pir Pandariman’s daughter, Rushbamani Akhtar, 30, was sentenced to three-and-a-half years after being convicted of entering into an arrangement to facilitate the acquisition, retention, use or control of criminal property and conspiracy to commit fraud.

Seven others - including two mortgage brokers - were sentenced after being convicted of charges including conspiracy to defraud and obtaining money transfers by deception. They were Mohammed Hussain, jailed for seven years; Alfan Ali, sentenced for six years; Mohammed Gaffar, jailed for five years; Naqiat Akhtar, jailed for three-and-a-half years;

رمضان المبارک کی سحری کے لئے بیدار ہونے والے مسلمانوں نے پڑوسیوں کی جانیں بچا کر امت کا سر فخر سے بلند کردیا

Muslims who were awake for Ramadan hailed as heroes for helping to save people at Grenfell Tower fire

some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ لندن کے گرین فیل ٹاورمیں آتشزدگی کے بعد متاثرہ خاندانوں کی مدد میں سحری کیلئے اٹھے مسلمان پیش پیش رہے،برطانوی میڈیا نے مسلمانوں کی ہمدردی اورمدد کے جذبے کوقابل تعریف قراردیا۔ لندن میں مسلمانوں کی ہمدردی اور بہادری کے چرچے، مسلم کیمونٹی کے قابل تقلید کردار کو برطانوی میڈیا نے خراج تحسین پیش کیا اور مسلم کمیونٹی برطانوی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بن گئی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق گرین فیل ٹاور میں آتشزدگی کے بعد مسلمانوں نے اپنے پڑوسیوں کی جان بچانے کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لندن گرینفل ٹاور میں آتشزدگی کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے سب سے پہلے افراد مسلمان تھے، انہوں نے اپنے سوئے ہوئے پڑوسیوں کے دروازوں کو کھٹکھٹاتے ہوئے عمارت میں لگی آگ کا بتا کر انہیں چوکنا کیا اور عمارت سے باہر نکلنے میں ان کی مدد کی۔ سحری کے لئے بیدارہونے والے مسلمانوں نے آگ کی لپیٹ میں آئی عمارت میں پھنسے لوگوں کو باہرنکالا، متاثرہ افراد کا کہنا تھا مسلمانوں نے نہ صرف جانیں بچائیں بلکہ کھانا اورکپڑے بھی فراہم کئے

ٹاور میں آگ رات کو تقریباً دو سے ڈھائی بجے کے درمیان لگی جب اکثر لوگ سو چکے ہوتے ہیں تاہم چونکہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے لہٰذا مسلمان خاندان سحری کی تیاریوں کی وجہ سے جاگ رہے تھے اور انہوں عمارت میں پھنسے لوگوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی میڈیا نے مسلم کیمونٹی کےکردار کوسراہتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا۔ جن لوگوں کے فلیٹ اس آتشزدگی کی لپیٹ میں آئے ان کے لئے مساجد کو کھول دیا گیا اور انہیں کھانے پینے کی اشیاءدی گئیں ، کئی مسلمانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر اپنے غیر ملکی پڑوسیوں کی جانیں بچائیں۔

گرین فال ٹاور کی رہائشی نادیہ یوسف نے کہا کہ وہ سحر کی تیاری میں مصروف تھیں کہ آگ کا پتہ چلا اور انہوں نے کئی مرد و خواتین اور بچوں کو بچانے میں ساتھیوں کی مدد کی ٹاور کی رہائشی راشدہ کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے وقت کئی مسلمان سحری کے لئے بیدار ہوا تھے، مسلمان نماز تراویح کے بعد سوتے بھی نہیں اس لئے کئی افراد کی جانیں اسی وجہ سے بچائی جا سکیں۔مسلمان مرد و خواتین ریسیکیو کی گاڑیوں اور ایمبولینسز کی آوازیں سن کر باہر نکلے تو انہیں آگ کے شعلے دکھائی دئیے انہوں نے فوری طور پر لوگوں کو اٹھانا شروع کردیا او راپنی جانوں پر کھیل کر آگ کے شعلوں میں گھری ہوئی فیملیز کو باہر نکالا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

London; Muslims who were awake for Ramadan have been hailed as heroes after helping to save their sleeping neighbours from the horrific Grenfell Tower fire. Residents who had stayed up for Sehri saw the inferno break out just before 1am.

People who were up for Swhri told of how they smelled smoke in the early hours of Wednesday morning and began running around, frantically banging on people's doors to wake them up. They were dubbed a 'lifeline' in helping to get people out of their flats, amid claims that fire alarms and sprinklers were not working in the west London block.

A number of Islamic cultural centres and mosques like the Al-Manaar Mosque have opened their doors to help those affected. The culural heritage centre wrote on Facebook: 'Al-Manaar Mosque and Centre are open for use as a temporary shelter by anyone affected by the fire at Grenfell Tower.

'Anyone of any faith or no faith is most welcome to walk in to have some rest, sleep, and or have some water and food. 'Al-Manaar staff and volunteers will also be trying to deliver water, dates, and other emergency essentials to the affected area. Our thoughts and prayers are with you during this difficult time.

'Most of the people I could see were Muslim. They have also been providing food and clothes.'Even far as people from Slough region have been collecting food and cloths to deliver to victims.

Prime Minister Theresa May has ordered a full public inquiry into the fire that engulfed a west London block of flats, killing at least 17 people. That figure is expected to rise, as fire chiefs have said they do not expect to find any more survivors in the burnt-out Grenfell Tower, in north Kensington.

شاہدہ اکبر ویکسم کورٹ پیرش کونسل سلاو کی چئرمین اور راجہ فیاض وائس چیرمین منتخب

Shaida Akbar of Kallar Syedan appointed Chairman of Wexham court parish council Slough

some image some image

سلاو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) شاہدہ اکبر کو چیرمین اور راجہ فیاض کو ویکسم کورٹ پیرش کونسل کا وائس چیرمین منتخب کر لیا گیا- اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد پیرش ہال ویکسم میں کیا گیا- جس میں لیبر پارٹی کے امیدوار برائے ایم پی، سابق مئیرز، کونسلرز سابق کونسلرز کے علاوہ سلاو کے مشہور بزنس مین و سیاسی و سماجی شخصیات نے بھر پور شرکت کی اور نومنتخب چئرمین شاہدہ اکبر اور وائس چیئرمین راجہ فیاض کو مبارک باد پیش کی-

اس تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اس کے بعد نومنتخب چئرمین شاہدہ اکبر وائس چیئرمین راجہ فیاض اور لیبر پارٹی کے امیدوار ایم پی نے خطابات کیے- نماہندہ پوٹھوار ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چئرمین شاہدہ اکبر اور وائس چیئرمین راجہ فیاض نے پیرش کونسل کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہم کمیونٹی کو بہتر سے بہتر سہولیات مہیا کریں گے

اور انشاءاللہ کمیونٹی کے تعاون سے اس کو مزید بہتر بنائیں گے- آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور مہمانوں کے لیے کھانے کا خصوصی بندوبست بھی کیا گیا تھا مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ کیجئے-

Slough; A Function was held in Slough where Shaida Akbar of village Chak Mirza in Kallar Syedan was elected Chairman of Wexham court parish council and Raja Fayaz of Nanda Jatal, Chauk Pindori in Kallar Syedan was elected vice Chairman.

Wexham Court Parish Hall supplies our local community in Slough with a wide choice of services and facilities. Local residents hold meeting to discuss currents issues in the region.

Large number of social and political personalities along with local residents attended the function, Shaida Akbar and Raja Fayaz told pothwar.com If you're looking for a modern venue in Slough, then why not try your local Parish Hall? Wexham Court Parish Hall is available for rent and is ideal for many uses, from weddings through to baby and toddler groups. We always support our local community.

Slough; For more pls see video below....

سیاسی پناہ کے نام پر برطانوی حکومت سے چون لاکھ سالانہ بٹورنے والے نوسربازجوڑے کو جیل کی سزا

جوڑے نے بنک میں تین کروڑ سینتیس لاکھ موجود ہونے کے باوجود خود کو مفلوک الحال ظاہر کیا

Wealthy Pakistani asylum seekers fraudulently claiming benefit are jailed in Manchester

some image

برمنگھم نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم شاہد ہاشمی----- برطانیہ میں سیاسی پناہ کے نا م پر مفادات بٹورنے والے شوہر نے جیل سے رہائی پائی تو اْس کی بیوی کو چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ عدالت کے اس فیصلے سے پاکستانی جوڑے کے بچے چائلڈکئیر میں جانے سے بچ گئے۔سید زیدی اور رضوانہ کمال نے برطانیہ کی عدالت میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی جس کی منظوری کے بعد انہوں نے دوہزار بارہ سے دوہزار سولہ تک تقریباً 54 لاکھ روپے سالانہ بٹورے۔ اس دوران ان کے بینک اکاونٹس میں تین کروڑ سینتیس لاکھ روپے موجود تھے اور دو گاڑیاں بھی زیر استعمال رہیں۔خفیہ اطلاع پر برطانوی محکمہ داخلہ نے پاکستانی جوڑے کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیاجبکہ مانچسٹر کی عدالت نے فراڈ ثابت ہونے پر میاں ،بیوی کو چھ چھ ماہ کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان میں ایک امیر خاندان سے تعلق رکھنے اور اپنی ذاتی جائیداد ہونے کے بوجود مذکورہ جوڑے نے سیاسی پناہ حاصل کرتے ہوئے برطانوی حکومت کو بیوقوف بنایا اور اور اپنے اثاثے ظاہر نہ کیے جبکہ ان کے بنک میں دو لاکھ پچاس ہزار پونڈ سے زائد رقم موجود تھی۔ اور محکمہ داخلہ سے غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھیں سیاسی پناہ نہ ملی تو پاکستان میں انھیں قتل کردیا جائے گا۔جس کی بنا پر نہ صرف ھوم آفس نے انھی شیلٹر مہیا کیا بلکہ سالانہ چالیس ہزار پونڈ سے زائد سوشل فنڈز بھی ادا کئے۔ مگر ایک خفیہ اطلاع پر برطانوی محکمہ داخلہ نے جب مذکورہ جوڑے کے خلاف کارروائی کی تو پتہ چلا کہ جوڑے کے پاس انتہائی مہنگی دو کاریں موجود ہیں اوران کے پاس وکٹورین زمانے کا ایک خوبصورت گھر بھی موجود ہے۔

Manchester; A WEALTHY Pakistani couple who fraudulently claimed £40,000 a year in benefits after claiming asylum in Britain were jailed six months apart so their children didn’t have to be taken into care.

Syed Zaidi, 41, and his wife Rizwana Kamal, 40, claimed asylum seekers’ benefit, child tax and working tax credits and child benefits for their three children – on top of free accommodation – worth £150,000, despite having more than £250,000 in the bank.

The university graduates claimed they were being persecuted in their native Pakistan and urged the Home Office to give them shelter, claiming £150,000 worth of handouts.

They splashed out on two cars and moved into a Victorian terraced house in Denton, near Manchester, but were caught after a tip-off to the Home Office. It is thought they won the right to stay in the UK during their four-year scam between 2012 and 2016.

At Minshull Street Crown Court, Manchester Judge Bernard Lever jailed the couple for ten months each after they admitted benefit fraud.

But in an unusual move he delayed locking up Kamal until this week, after her husband was released having served half his sentence. It means their children will not be taken into care at further expense to the taxpayer.

مانچسٹر کے نواحی شہر اولڈھم میں مسجد کو آگ لگانے کی کوشش

Masjid attacked by arsonists in Oldham in suspected revenge attack for Manchester bombing

some image

(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم،پنوں خان منہاس)۔۔۔۔ مانچسٹر کے نواحی شہر اولڈھم میں مسجد کو آگ لگانے کی کوشش۔ مانچسٹر میں ہونے والے خود کش حملے کے تین گھنٹے بعد نواحی شہر اولڈھم میں جامع قاسمیہ زاہدیہ اسلامک سنٹر کو لیٹر بکس کے ذریعے آگ لگانے کی کوشش گئی جو ایک راہ گیرکی اطلاع پر ناکام بنادی گئی ۔

انگریزی اخبار کے مطابق مسجد کے امام محمد صادق نے بتایا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ واقع مانچسٹر میں ہونے والے خود کش حملے کا ردعمل ہو۔ڈیل میل کے مطابق سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں بھی مرکزی جامع مسجد کے آس پاس پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے کہ مسجد کے بیرونی حصے پر کسی شرپسند نے داعش کے اسلامی سٹیٹ کا نعرہ لکھ دیا ہے۔

ایک اور ذرائع کے مطابق مانچسٹر کے واقع کے بعد برطانیہ کی مسلم کمیونی ٹی میں سخت پریشانی پائی جاتی ہے اور رمضان المبارک کی آمد سے صرف چند پہلے اس طرح کے واقعات مسلمانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔مساجد میں تراویح کے وقت سیکورٹی کے انتظامات پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔

Manchester; A mosque in Manchester was reportedly attacked just hours after a man detonated a bomb at an Ariana Grande concert which killed 22 people. The door of the Jamia Qasmia Zahidia Islamic Centre in Oldham, Greater Manchester, was set alight and badly damaged.

“At around 2.55am on Tuesday 23 May police were called to reports of an arson attack in Oldham,” a police told. “No one was injured and enquires are on-going.”

Pakistani taxi drivers praised for giving victims free lifts after blast At Victoria Park mosque in Manchester, where imams from across the city gathered to pray for the victims of the concert blast, an imam confirmed that there had been a suspected arson attack in Oldham later that night.

صالحہ محمود نے ماسٹر شیف گلوریا کے 2017 ایڈیشن میں کامیابی حاصل کر لی

Saliha Mahmood Ahmed of Watford wins master chef title 2017 in UK

some image

برمنگھم نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم شاہد ھاشمی ----   ڈاکٹر صالحہ آنتوں اور معدے کے امراض کی سپیشلسٹ ہیں لیکن کھانے پکانے اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے جیسے موضوعات پر کتابیں لکھنا ان کا خواب ہے ایک پاکستانی ڈاکٹر نے اپنے وطن کی ثقافت اورورثے سے تحریک لیتے ہوئے ایسٹ میٹس ویسٹ کے مینیو پر مبنی بی بی سی کا ماسٹر شیف مقابلہ جیت لیا ہے۔ 29 سالہ ڈاکٹر صالحہ محمود احمد نے جو انگلینڈ کے علاقے واٹفرڈ میں رہتی ہیں اس مقابلے میں جیوانا رائن اور سٹیو کیئلٹی کو شکست دی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے کھانے پکانے کے شوق اور میڈیکل کیریئر میں اشتراک سے موزوں ترین غذا تلاش کر کے ان افراد کی مدد کرنا چاہتی ہیں جنھیں خاص قسم کی خوراک کھانے سے امراض لگ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صالحہ محمود احمد نے جو انگلینڈ کے علاقے واٹفرڈ میں رہتی ہیں اس مقابلے میں جیوانا رائن اور سٹیو کیئلٹی کو شکست دی ڈاکٹر صالحہ نے جو ایک بچے کی ماں ہیں بی بی سی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مقابلے میں کھانا بنانے کے 64 شوقین افراد کو ہرایا۔ اس مقابلے میں انھوں نے اپنی آن کال شفٹوں کو ساتھیوں کے ساتھ تبدیل کیا تاکہ وہ مقابلے میں شریک رہ سکیں۔ ڈاکٹر صالحہ آنتوں اور معدے کے امراض کی سپیشلسٹ ہیں لیکن کھانے پکانے اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے جیسے موضوعات پر کتابیں لکھنا ان کا خواب ہے۔ اپنی جیت پر انھوں نے کہا ماسٹر شیف چیمپیئن بننا زبردست ہے۔ تعریفی الفاظ اس خوشی کو بیان نہیں کرسکتے۔ میں نے اپنی زندگی میں سب سے بہترین کام یہی کیا ہے اس میں بہت محنت شامل تھی۔ مجھے بہت جلدی کام شروع کرنا پڑتا تھا اور 13- 13 گھنٹوں کی شفٹوں کے بعد دیر گئے کھانے بنانے ہوتے تھے۔ اس بیچ نہ چھٹی ملتی تھی نہ نیند پوری ہوتی تھی

صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں شیف آف دی ایئر کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا جمعہ کی رات بی بی سی ون پر فائنل مقابلے میں تین امیدواروں کو تین حصوں پر مشتمل کھانا تین گھنٹوں میں تیار کر کے ججز کو چکھنے کے لیے دینا تھا۔ جج گریگ ویلس نے صالحہ کے بنے ہوئے کھانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا مشرق و مغرب کا امتزاج اور حیران کن پلیٹ پر فن کی خوبصورت تصویر جج جون ٹوروڈ نے کہا صالحہ یہاں آئیں اور انھوں نے اپنے کھانے پینے کی ثقافت کو اجزا میں تقسیم کیا اور پھر انھیں جدید اور انتہائی زبردست انداز کے ساتھ پھر سے یکجا کر دیا

صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں شیف آف دی ایئر کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا۔میرا تعلق ایک بڑی پاکستانی فیملی سے ہے اور ہم کھانوں کے ذریعے لوگوں کو یکجا کرتے ہیں۔ میری دادی اور نانی بڑی جذباتی تھیں اور روایتی پاکستانی کھانے پکاتی تھیں۔ میری امی بھی بہت اچھا کھانے پکاتی ہیں۔ ہمیں لوگوں کو کھانا کھلانا اچھا لگتا ہے۔ یہ ہمارے جینز میں ہے

Watford; A junior doctor has won the BBC's Masterchef title, with a menu of "East meets West" dishes inspired by her Pakistani heritage. Saliha Mahmood-Ahmed, 29, from Watford, beat off fellow-competitors Giovanna Ryan and Steve Kielty.

Saliha impressed judges John Torode and Gregg Wallace as a "class act". She said she wanted to combine her love of cooking with her medical career, by helping people with special dietary conditions find their ideal foods. The junior doctor and mum-of-one, who battled from 64 amateur cooks to take the prize, swapped on-call shifts with colleagues to ensure she could take part in the contest.

In her career, she specialises in gastroenterology - but she also dreams of writing cookbooks and tackling obesity. On her win, Saliha said: "To be the Masterchef champion is fantastic and wonderful. Adjectives are not sufficient. This is definitely the coolest thing I've ever done in my life!

انجمن حیدریہ مسجد بریڈفورڈ کے امام سید سبطین کاظمی کو مولانا اعظم طارق کے قتل کے الزام میں اسلام آباد ائرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا

ان پر الزام ہے کہ چودہ سال قبل قتل ہوئے مولانا اعظم طارق کے قتل میں ان کا ہاتھ ہے

Bradford imam Syed Sibtain Kazmi arrested in Pakistan on suspicion of murder

some image some image

بریڈفورڈ، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔۔۔ انجمن حیدریہ مسجد بریڈفورڈ کے امام سید سبطین کاظمی کو چودہ سال قبل انجمن سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے قتل کے شبے میں بے نظیر بھٹو ائرپورٹ اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔ستاون سالہ سید سبطین کاظمی بریڈفورڈ میں مقیم ہیں اور انھیں اسلام آباد ائرپورٹ سے برطانیہ روانگی کے وقت گرفتار کیا گیا۔

سید سبطین کاظمی کی ولادت پاکستان کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کالعدم جماعت انجمن سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے قتل میں ان کا بھی ہاتھ ہے۔ سید سبطین کاظمی مشہور شیعہ لیڈر ہیں اور پاکستان باقاعدگی سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ایم پی ناز شاہ نے وزیر اعلٰی شہباز شریف سے تفصیلی گفتگو کی تاکہ سید سبطین کاظمی کی گرفتاری کی تفصیلات معلوم کی جاسکیں۔ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ امام مسجد کو شبہ کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔اور انھیں پانچ دن کے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔

نازہ شاہ کا کہنا ہے کہ وہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔اور کیس کے متعلق اپ ڈیٹس حاصل کرتی رہیں گی۔پاکستانی میڈیا کے مطابق جب ایف آئی اے کے حکام کو سید سبطین کی ملک سے روانگی کی اطلاعات میں تو انھوں نے ایک ٹیم ائر پورٹ روانہ کی جہاں سے انھیں گرفتار کر لیا گیا۔مولانا اعظم طارق کو چار ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔وہ اس وقت قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔

Bradford; THE imam of a Bradford Masjid Syed Sibtain Kazmi has been arrested in Pakistan on suspicion of carrying out a murder committed nearly 14 years ago. Syed Sibtain Kazmi, 57, who lives in Bradford, was held by Pakistani police this morning, reportedly after he attempted to fly home from Benazir Bhutto International Airport in Islamabad.

His arrest is understood to relate to the murder of Maulana Azam Tariq, the chief of the banned Sipah-e-Sahaba group, in 2003. Kazmi, a Shia Muslim, leads worship at the Anjuman e Haideria mosque, a former children’s hospital in St Mary’s Road, Manningham. He was born in Pakistan, and is said to make regular return visits to his home country.

Naz Shah, the Labour Parliamentary candidate for Bradford West, was in contact with the Chief Minister in Pakistan today to try to get more details of his arrest. She said she was told Kazmi had been arrested on suspicion of “historic murder” and was being held on remand for five days.

She told she would be in close contact with the country’s Home Secretary about any updates in the case. Pakistani media reported that the country’s Federal Investigation Agency had sent the team to the airport after learning Kazmi was due to leave the country on a Qatar Airline flight to Manchester via Doha. He was apprehended and handed over to the police. Maulana Azam Tariq was shot dead, along with four other passengers of his vehicle, near Islamabad in October 2003. He was then a member of the National Assembly of Pakistan.

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کارڈ فراہم کرنے کا حکم

نادراایک غیر منافعہ بخش ادارہ ہے اور شناختی کارڈ حاصل کرنا ہر ایک پاکستانی کا حق ہے

Non-resident Pakistanis seeking ID cards should be given monetary concessions: Supreme Court

some image

سٹوک آن ٹرینٹ (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم،پنوں خان منہاس)۔۔۔۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کارڈ فراہم کرنے کا حکم۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کاڑد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے 26ممالک میں نادرا سینٹرز اور سٹاف کے بارے میں بھی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اوور سیز پاکستانیوں کو جاری کیے جانے والے شناختی کارڈز کے کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی خدمات قابل ستائش ہیں اور ان کے لیے رعایت ہونی چاہیے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ نادراایک غیر منافعہ بخش ادارہ ہے اور شناختی کارڈ حاصل کرنا ہر ایک پاکستانی کا حق ہے۔

چیر مین نادرا عثمان یوسف نے موقف پیش کیا کہ لوکل پاکستانیوں کے شناختی کارڈ پر سبسیڈی دی جاتی ہے۔جبکہ بیرون ممالک میں قائم سینٹرز کے اخراجات زیادہ ہیں اسی وجہ سے اُن سے زیادہ فیس لی جاتی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ فیس میں اضافے کی ٹھوس وجوہات نظر نہیں آتیں۔بیرون ملک میں مقیم پاکستانی بھاری زرمبادلہ بھجواتے ہیں اور انھیں بھاری پیسے لے کر کارڈ دیے جارہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے نادر ا کے سینٹرز اورسٹاف کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

دوسری جانب برٹش پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے جہاں عدالت کے اس حکم کا خیر مقدم کیا ہے کہ اوور سیز پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کارڈ جاری کیے جائیں وہاں اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا موقف سننے کے لیے عدالت نے اُن کا کوئی نمائندہ طلب نہیں کیا۔برٹش پاکستانیوں نے اُمید ظاہر کی ہے آئندہ سماعت میں اُن کے کسی نمائندے کوضرور بلایا جائے گا۔بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے خصوصی شناختی کارڈ NICOP کی زیادہ فیس کے خلاف تحریک چلانے والے حاجی شیر عالم آف بلیک برن اس عدالتی حکم نامے پر تبصرہ کے لیے دستیاب نہ تھے۔

Stoke on Trent, UK; The Supreme Court said on Thursday that Pakistanis who are living abroad should be given monetary concessions by the National Database and Registration Authority (Nadra) in the issuance of identity cards.

A three-judge bench headed by Chief Justice of Pakistan (CJP) Justice Mian Saqib Nisar was hearing a suo motu case initiated after a non-resident Pakistani complained that the issuance fee for a Pakistan Origin Card (POC) had been increased to Rs22,000, and the cancellation fee to Rs31,500. Nadra had on Thursday submitted a report sought in connection with the fee hike. The Nadra chairman explained that overseas Pakistanis are issued two types of cards.

The National Identity Card for Overseas Pakistanis (Nicop) is for people who live in foreign countries for employment purposes but have kept their Pakistani nationality, Yusuf said. These Pakistanis who want to visit the country need not apply for a visa if they possess a Nicop.

The POC is for people living in foreign countries who have given up their Pakistani nationality or for foreigners who have blood relatives who are or were Pakistani nationals. At this, Justice Ijazul Hassan asked why there was a need for a Pakistan Origin Card in the presence of the identity card and passport.

The court asked Nadra why Pakistanis who live abroad and send back foreign exchange are charged a hefty amount for the POC while Pakistanis who live in the country are charged a negligible amount for their identity cards.

Pothwar. COM

+44 7763249391 | pothwar@yahoo.co.uk
© Copyright Pothwar.com | Est. 2000-2017

new graphics