Our _Blog_

Our Daily News

والسال برطانیہ کے ڈاکٹرابرار مجیدکوبطور ڈاکٹردکھی انسانیت کے لئے شاندارخدمات انجام دینے پرپرائیڈآف بریٹن کااعزاز

Dr Ibrar Majeed of Walsall awarded pride of Brittain by Prince William

some image

چکسواری (نمائندہ پوٹھوارڈاٹ کوم)۔۔۔۔ بوعہ کلاں ، چکسواری کے ڈاکٹر ابرار مجید ولد چوہدری عبدالمجید کو طب کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے پر پرنس ولیم کی جانب سے پرائڈ آف بریٹن کے اعزاز سے نوازا گیا۔ڈاکٹر ابرار مجید برطانیہ کے شہر والسال میں مقیم ہیں۔پرنس ولیم ڈاکٹر عبدالمجید کے بارے میں جان کر نہایت ہی پر مسرت ہوئے۔ دنیامیں جتنے بھی عظیم لوگ گزرے ہیں انمہوں نے زندگی میں سخت محنت اورزبردست جدوجہدکی ان عظیم انسانوں نے بے شمار سختیاں برداشت کیں اورپھرجاکراس قابل ہوئے کہ عظمت وعزت کے پرچم کوچھوسیکیں انسا ن نے ارتقاء کی جومنزلیں طے کی ہیں وہ سب محنت ہی کاثمرہیں�آج انسانی ترقی کے جومظاہرہمارے سامنے ہیں وہ انسان کی صدیوں کی محنت ومشقت کاصلہ ہیں

ہمیں ان عظیم انسانوں کے عظیم کردار پرفخرہیں جوایسے اوصاف رکھتے ہیں اوران کے والدین کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی بھرپور توجہ سے یہ انمول ہیرے ملک وقوم کے درخشندے ستارے بنے ہیں ہم ڈاکٹرابرارمجیداوران کے والدین کومبارک بادپیش کرتے ہیں یونین کونسل فیض پورشریف کے موضع بوعہ کلاں سے تعلق رکھنے والے کے معروف سیاسی وسماجی راہنماچودھری عبدالمجید حال مقیم والسل برطانیہ کے فرزندڈاکٹرابرار مجیدکوبطور ڈاکٹردکھی انسانیت کے لئے شاندارخدمات انجام دینے پرپرائیڈآف بریٹن کااعزاز پانے پرمبارک بادپیش کرتے ہیں

چودھری عبدالمجیداورڈاکٹرابرار مجیدہمار ے ہیرو ہیں جنہوں نے اپنے آبائی علاقہ بوعہ کلاں اوربرطانیہ کے شہروالسل کے عوام کاسرفخرسے بلندکردیاہے ابرارمجیدبرطانیہ میں یہ اعزاز پانے کے موقع منعقدہ تقریب سے برطانوی وزیراعظم ٹریسامے اور برطانوی شہزادے پرنس ولیم نے جن خیالات کااظہار کیاہے ہم ان کابھی شکریہ اداکرتے ہیں ڈاکٹرابرار مجیدکی بطورڈاکٹردکھی انسانیت کے لئے بین الاقوامی وقومی شاندار خدمات کے اعتراف میں پرائیڈآف بریٹن کااعزاز پانے پروالسل برطانیہ کے ساتھ سا تھ یونین کونسل فیض پورشریف کے تمام علاقوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے

اورجشن کاسماں ہے ڈاکٹرابرار مجیداوران کے والدمحترم چودھری عبدالمجیدکودلی مبارک بادپیش کررہے ہیں ان خیالات کااظہار معروف سیاسی وسماجی راہنماؤ ں چودھری محمداعجاز حاجی چودھری منظور حسین چودھری محمداعظم کوٹھوی اور اے ڈی چودھری آف تنگ د یو نے ڈاکٹرابرار مجیدکوپرائیڈآف بریٹن کاایوارڈ ملنے پرمبار کبادپیش کرتے ہوئے اپنے ایک تہنیتی بیان میں کیا ہے۔

Walsall, Birmingham; Dr Ibrar Majeed son Ch Abdul Majeed has been awarded pride of Brittain by Prince William, he was awarded for his contributions in helping those hurt and feeling sad while on duty.

Dr Ibrar Majeed who lives with his family in Walsall is from village Boha Kallan in union council Faiz Pur Shareef in Chakswari. His award has been celebrted back in his native village.

The Duke of Cambridge was inspired by this touching story at the Pride of Britain Awards. Last night saw the annual Pride of Britain Awards where some of the most inspiring shows of bravery and compassion are rewarded and shared with the nation.

Prince William spent a lot of time throughout the night mingling with the many celebs who attended the event, but most importantly, spending lots of time with the award winners of the night who all have incredibly brave stories.

بریڈفورڈ میں ڈرگز کیس میں بیس افراد کو جیل کی سزا، مجرموں کی اکثریت پاکستانی نژاد ہے

Twenty men sent to jail for drugs offences in Keighley Bradford

some image

کیلی، بریڈفورڈ، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ بریڈفورڈ میں کلاس اے ڈرگ کی خریدو فروخت کے جرم میں بیس افراد کو جیل کی سزا سنا دی گئی۔ مجرمان میں اکثریت پاکستانی نژاد افراد کی ہے۔بیس افردا کے اس گروہ کو مجموعی طور پر ستر سال کی سزا سنائی گئی۔ پولیس نے ایک خصوصی آپریشن کے دوران صرف ایک دن میں ان افراد سے دس ہزار پونڈز سے زائد کی ڈرگز برآمد کیں۔ جو آٹھ سو گلی کوچوں کی ڈیلز تھیں۔

اس گینگ کے بیس افراد میں سے آخری دو عمران حسین اور عاکف حسین ہیں۔ جنھیں بریڈفورڈ کراون کورٹ میں کل ہی سزا سنائی گئی۔ان دونوں کو مجموعی طور پر ساڑھے سات سال کی سزا ہوئی۔انسپکٹر خالد خان نے مقامی افراد کی جانب سے تشویش پر کہا کہ اس علاقے کے مکین ڈرگز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر انتہائی پر تشویش تھے۔ مگر اب حالات قابو میں ہیں۔

اس آپریشن کے نتیجے میں اکتیس افراد کو چارج کیا گیا جن کی عمریں چودہ سال سے لے کر پینتالیس سال تک ہیں۔انسپکٹر خالد خان نے آخری فرد کے جیل بھیجے جانے پر کہا کہ وہ کیلی کی کمیونٹی کی جانب سے اس آپریشن سے پہلے اور اس کے دوران تعاون فراہم کرنے پر شکر گزار ہیں۔جس کے باعث ٹاون سے غیر قانونی ڈرگز سپلائی کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔( کیا کوئی قانونی ڈرگز بھی ہوتی ہیں؟)

Keighley, Bradford; TWENTY men have been jailed for nearly 70 years following an operation targeting the supply of Class A drugs in Keighley in Bradford. Police with specialist resources at West Yorkshire Police carried out a series of arrests of those suspected of supplying drugs to people in the town in Operation Saucerlake.

On one day of Saucerlake activity, more than £10,000 of drugs were recovered in more than 800 street deals. Mobile phones, cash and drugs paraphernalia were also taken away for further analysis.

Imran Hussain, 27 and Akaf Hussain, aged 31, both of Malsis Road, Keighley were the last two charged under the operation to be sentenced. Both men appeared at Bradford Crown Court yesterday and were jailed for four years and two months and three years and four months respectively.

Inspector Khalid Khan spoke to local people about their concerns. He said: “It was clear from my discussions with the people of Keighley that there was a lot of concern about the supply of drugs in the town.

A total of 31 males were charged under the operation, with ages ranging from 14 to 45. Speaking after the final sentences were passed, Insp Khan said: “We would like to thank the communities of Keighley for their support of Operation Saucerlake, which we believe has impacted on the supply of illegal drugs in the town.

لارڈ مئیر آف بریڈفورڈ کے پاکستان میں ذاتی دورے کے دوران مئیر چین پہننے پر ایک نئی قانونی بحث کا آغاز

Legal row breaks out after Bradford Lord Mayor wearing Chains of office in Pakistan

some image

بریڈفورڈ، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ برطانیہ میں لارڈ مئیر آف بریڈفورڈ کی جانب سے پاکستان میں ذاتی دورے کے دوران مختلف مقامات پر مئیر کی چین پہن کر جانے کے بارے میں سوشل میڈیا اور ویب سائٹز میں تصاویر آنے کے بعد ایک نئی قانونی بحث کا آغاز ہو گیا۔ کیونکہ ذاتی دورے پر جاتے ہوئے حکومت کی طرف سے دی گئی چین پہن کر جانے کی قانون میں ممانعت کی گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ لارڈ مئیر کونسلر عابد حسین نے پاکستان میں مختلف مقامات کے وزٹ کے دوران اپنا اثر رسوخ دکھانے اور پاکستان میں شو آف کرنے کی غرض سے مئیر چین پہن کر شرکت کی۔جبکہ ایسا کرنے کی اجازت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب مئیر کو حکومت کسی سرکاری کام کے سلسلے میں بیرون ملک بھیجے۔

کونسلر سائمن کے مطابق کسی نے ایک گمنام پتے سے انھیں خط لکھا جس میں کونسلر عابد حسین کی تصاویر کے بارے میں بتایا ان کا کہنا تھا کہ مئیر ہوتے ہوئے کونسلر عابد حسین کا یہ عمل نہایت ہی شرمناک اور قابل اعتراض ہے۔خط میں کونسلر سائمن سے سوال کیا گیا کہ کونسلر عابد حسین کے پاس متبادل چین کہاں سے آئی اور ان تصاویر سے یوں ثابت ہوتا ہے کہ حکومت نے لارڈ مئیر کو سرکاری طور پر پاکستان بھیجا ہے جہاں وہ خصوصی تواضع حاصل کر رہے ہیں۔

کونسل سائمن نے کونسل کے وکیل سے سرکاری طور پر تمام معاملہ واضح کرنے کے بارے میں خط لکھ دیا ہے جس میں پوچھا گیا ہے کہ کیا مسٹرلارڈ مئیر نے اپنے ذاتی خرچے پر پاکستان کا دورہ کیا یا حکومت کی جانب سے دئیے گئے فنڈز استعمال کیے۔دوسرے کیا یہ بات کونسل کے علم میں تھی کہ مسٹر لارڈ مئیر چین اپنے ساتھ لے کر جارہے ہیں۔تاکہ اپنی سرکاری حیثیت ظاہر کر سکیں۔

کونسل کے وکیل کے مطابق مسٹر لارڈ مئیر نے دورے کے دوران اپنی ذاتی رقم استعمال کی اور انھوں نے اس دوران کونسل کی چین کی بجائے متبادل جیولری استعمال کی۔ جو سرکاری چین ہر گز نہیں ہے۔ کونسلر عابد کا کہنا تھا کہ انھوں نے فیس بک پر کئی پکچرز پوسٹ کیں ان کے علاقے کے لوگ ان کی حیثیت سے آگاہ تھے۔اور انھیں مبارکباد دینا چاہتے تھے۔مگر وہ کسی پر اپنا اثر رسوخ استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے نہ ہی کسی کے لئے کوئی بھی کام کر رہے تھے۔

Bradford, Pakistan; Tory councillor says the lines between personal and private have been “blurred” after photographs emerged of the Lord Mayor of Bradford Councillor Abid Hussain appearing to wear chains of office while on an unofficial visit to Pakistan.He was seen wearing Chains of office at Baghar Shareef,Kahuta.

Councillor Simon Cooke, (Con, Bingley Rural) said he had been made aware of an anonymous letter claiming Councillor Abid Hussain was on an “unofficial, personal trip to Pakistan” and that his actions in appearing there as Bradford’s Lord Mayor were a “disgrace.”

The letter asks where he got the replica chains from and why he was allowed to do this. It continues by claiming that the pictures created the impression of an official Bradford Council visit to Pakistan, adding that Cllr Hussain appeared to be enjoying hospitality and being “treated well as a Bradford representative”. The letter goes on to say other councillors accompanied Cllr Hussain on the trip.

In response to the letter, Cllr Cooke said he had approached Bradford Council’s solicitor to get an understanding of the situation and whether or not the Council should take any action. He said: “My obvious concern is that the Lord Mayor is representing the city in Pakistan. “I have no issue at all with official visits to Pakistan and I like Abid, but if this is a private visit, to try and turn a private visit into an official visit doesn’t look like the sort of thing (the Council) should be doing.

“The boundaries here are blurred. I have asked the solicitor whether the trip was privately funded, in which case it was not an official trip, and whether they knew he was taking chains with him to appear in an official capacity. There may have been chains made out of costume jewellery and assume that’s what these are. They don’t look like the official ones which have the crest in the middle.”

In response to the concerns, a Bradford Council spokesman said: “The visit is a personal one and the Lord Mayor does not require authorisation to visit Pakistan. He could not conduct official Council business during his visit, as his role is largely ceremonial. The chains were not those held by the Council and the visit was not funded by the Council.”

Meanwhile, Cllr Hussain said he funded the visit entirely from his own pocket. He has posted a number of pictures of the visit on his Facebook page. He said: “Obviously they have heard I am the Lord Mayor this year and want to come and congratulate me which is kind of them. I’m proud of Bradford and Keighley and will always speak positively about it wherever I am including on this visit but no one is paying me or tasking me to do anything whilst I am here.”

Cllr Cook said while it may not be an official visit, certain things had given the impression that it was and he said he hoped the Lord Mayor would act more carefully in the future.

سلاو اور کلر سیداں کے محمد صدیق ، فاقت حسین اور اس کی اہلیہ کو سات ملین پونڈ چوری کرنے کے جرم میں جیل کی سزا

M Saddique, Rafaqat Hussain along with his wife to face jail term for stealing 7 million pounds .

some image

From left; Rafaqat Hussain, Mohammad saddique and Razvana Zeib

سلاو، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔ سلاو اور کلر سیداں کے دو سیکیورٹی گارڈز کو سات ملین پونڈ کی جعلی چوری کیس میں جیل بھیج دیا گیا۔ رفاقت حسین، محمد صدیق اور مسٹر سنگھ نے مل کر اپنی ہی کیش ان ٹرانزٹ وین سے ہیتھرو ائرپورٹ پر سات ملین پونڈ چرائے اور رقم غائب کر دی۔

تینوں مجرمان نے عدالت میں اقبال جرم کر لیا مگر پولیس تاحال رقم کی بازیابی میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ لومس نامی کمپنی سے وابستہ محمد صدیق اور راجیو سنگھ کو چوری کی پلاننگ کے جرم میں ساڑھے چھ سال جیل کی سزا سنائی گئی۔جبکہ رفاقت حسین جس نے محمد صدیق اور رانجیو سنگھ کی اس جرم کی پلاننگ سے لے کر پایہ تکمیل پہنچانے میں مدد کی دس سال کی سزا سنائی گئی۔

جرم کی تفصیلات کے مطابق چودہ مارچ کو ہیتھرو ائرپورٹ پر برٹش ائرویز کارگو ڈپو پر کریڈٹ سوئس کے رقم سے بھرے ہوئے چھبیس بیگ ایک سیکیورٹی وین میں لوڈ اپ کیے گئے۔محمد صدیق نے وین سیکیورٹی گیٹ سے نکالی تو راجیو سنگھ اس کے ساتھ مسافر سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔

پھر کچھ دیر بعد محمد صدیق نے وین روکی اور راجیو سنگھ نے ٹوائلٹ بریک کا بہانا بنایا۔ اس دوران محمد صدیق سات ملین پونڈ رقم کے ساتھ وین لے کر چلا گیا۔راجیو سنگھ نے ٹوائلٹ میں وین جانے کا انتظار کیا۔ اور وین کے نکل جانے کے بعد ہنگامی الارم بجا دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ کس کو بھی پہلے انفارم نہیں کر سکا کیونکہ اس کا موبائل فون وین کے اندر رہ گیا تھا۔

کچھ وقت کے بعد سیکیورٹی وین چلتے انجن کے ساتھ فیلتھم کے علاقے میں سڑک کنارے پائی گئی۔اور محمد صدیق کچھ گھنٹے بعد سڑک کے کنارے رسیوں سے بندھا ہوا پایا گیا۔پولیس کی جانب سے تفتیش پر محمد صدیق نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے کسی شخص نے اس سے رابطہ کر کے چوری کے پلان میں شریک ہونے پر مجبور کیا اور تعاون نہ کرنے پر اس کے گھر کو آگ لگا دینے کی دھمکی بھی دی۔

رفاقت حسین اور اس کی بیوی رضوانہ زیب بھی سات ملین پونڈ چوری کے جرم میں برابر کے حصہ دار ہونے پر مجرمقرار پائے اور رفاقت حسین کو دس سال کی سزا سنائی گئی جبکہ اس کی بیوی رضوانہ زیب کی سزا بعد میں متوقع ہے۔

Slough; Two security guards have been jailed after staging a £7 million fake robbery from their own cash-in-transit van outside Heathrow Airport, which was masterminded by Rafaqat Hussain of Kallar Syedan.

Loomis employees Mohammad Siddique, 32, and Ranjeev Singh, 40, were each jailed for six-and-a-half years after they were found guilty of conspiracy to steal at Kingston Crown Court.

Another man, Rafaqat Hussain, who helped Siddique and Singh organise the heist, and was said to be "at the heart of the conspiracy", was sentenced for 10 years and three months after pleading guilty in September to helping stage the robbery, launder the money and commit burglary.The money has never been recovered.

On March 14, a security van was loaded with 26 bags of cash belonging to Credit Suisse at the BA cargo depot at Heathrow Airport. Siddique drove it out of the security gates of the depot with Singh in the passenger seat. He then stopped the vehicle to allow Singh to take what was claimed to be a toilet break. Siddique then drove off with the £7million in cash. Singh waited inside the toilet block for some time before raising the alarm. He claimed he could not contact anyone earlier as he had left his mobile phone in the vehicle.

The security van was later found abandoned with its engine still running in West View, Feltham, while Siddique was found a few hours later tied up and left by a roadside. When questioned by police he said he had been contacted weeks before the “robbery” by an unknown man at his home. He claimed the man threatened to burn his home down and forced him to take part in the plan.

Rafaqat Hussain, along with Hussain's wife Razvana Zeib, both of Chadwick Road, Slough, organised a house they wanted to buy with their share of the £7 million to be ransacked in an attempt to bring down the price. Hussain's wife Zeib, 35, will be sentenced at a later date after she plead guilty to conspiracy to money launder and commit burglary.

برطانوی حکومت کا مثالی اقدام ،برٹش پاکستانی گھٹنے پر چوٹ لگنے والی مریضہ سلیم اختر کے لئے خصوصی طیارہ،ڈاکٹر اور نرسیں اسلام آباد بھیج دئیے

British authorities send ambulance plane to pick up injured women from Kallar Syedan

some image

سہوٹ کلیال(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم)چوہدری الفت حسین۔۔۔برمنگھم یو کے میں مقیم ،مرزا کمبیلی کی رہائشی سلیم اختر حسین زوجہ راجہ اشفاق حسین جو گزشتہ دنوں پاکستان وزٹ پر پہنچی تھیں ،صحن میں گرنے کی وجہ سے گھٹنے پر چوٹ آ گئی تھی،

نہوں نے اپنا معائنہ کروایا ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آپ برٹش ہیں اپنا علاج وہاں سے کروایں جس پر راجہ اشفاق حسین نے برطانیہ حکومت سے رابطہ کیا ،حکومت برطانیہ نے ان کے لئے خصوصی ایمبولینس طیارہ،ایک ڈاکٹر اور دو نرسیں اسلام آباد روانہ کر دئیے،گاؤں مرزا کمبیلی سے بائی روڈ ایمبولینس پر ان کو بے نظیر بھٹو انٹر نیشنل ائرپورٹ پر بھی حکومت برطانیہ کے تعاون سے پہنچایا گیا

طیارہ ان کو لے کر برمنگھم برطانیہ کے لئے روانہ ہو گیا، ان کے ساتھ ان کے شوہر راجہ اشفاق حسین بھی موجود تھے،انہوں نے حکومت برطانیہ کا شکریہ ادا کیا،ادھر سیا سی و سماجی شخصیت راجہ اختیاز حسین نے پوٹھوار ڈاٹ کوم سے گفتگو کرتے ہو ئے حکومت برطانیہ کا شکریہ ادا کیا

کہ جنہوں نے ایک عام شہری کے لئے خصوصی طیارہ، ڈاکٹر ،نرسیں اور گھر سے ائر پورٹ تک ایمبولینس مہیا کی،انہوں نے حکومت پاکستان ،خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ پاکستان میں بسنے والی عوام کے لئے بھی ایسی صحت مند انہ سرگرمیاں شروع کی جائیں ،جس سے غریب آدمی بھی مستفید ہو سکے۔

Kallar Syedan; The British authorities hav sent a airplane ambulance to Islamabad to bring back a injured women from Kallar Syedan, according to the family statement.

According to the family Mrs Salim Akhtar Hussain wife of Raja Ishtiaq Hussain of Birmingham and village Mirza Kambveeli in Kallar Syedan fell down and was injured,

Her husband Raja Ishtiaq Hussain contacted the British authorities in England, who sent a ambulance plane and Mrs Salim Akhtar Hussain was picked up from Islamabad airport.

For the full information please watch video below, where the family explain the full story...

ٹانگیں قبر میں مگر پیسوں کا لالچ ابھی بھی باقی

برمنگھم میں اکیاسی سالہ عبداللہ فاروق کو چار لاکھ بارہ ہزار پونڈز منی لانڈرنگ کیس میں مجرم قرار دے دیا گیا

Malik Abdullah Farooq convicted of £412,000 money laundering in Birmingham

some image some image

برمنگھم، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ برمنگھم میں اکیاسی سالہ ملک عبد اللہ فاروق کو چار لاکھ سے زائد کی منی لانڈرنگ کیس میں مجرم قرار دے دیا گیا۔ عبداللہ نے اس رقم سے برمنگھم میں چارلاکھ بارہ ہزار پونڈ کا مکان خریدا۔ عبداللہ نے ابتدائی طور پر تحقیقاتی ادروں کو یہ بتایا کہ اس نے یہ رقم پاکستان میں ایک لاٹری سکیم میں پرائز کے طور پر جیتی ہے۔

پولیس کی تحقیقات کے مطابق مذکورہ رقم عبداللہ کے بیٹے کاشف علی نے بلیک مارکیٹ منی لانڈرنگ کے ذریعے حاصل کی اور یہ کسی قسم کی لاٹری کا انعام نہیں ہے۔ عبداللہ فاروق اور اس کے چوالیس سالہ بیٹے کاشف علی نے ابتدائی طور پر گرفتاری کے وقت پولیس کو جھانسہ دینے کی کوشش کی۔

مگر بعد ازاں تحقیقاتی اداروں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے اور تسلیم کر لیا کہ ان کی رقم غلط ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔ اس واقعہ سے پہلے بھی مذکورہ مجرموں نے ایک لاکھ پچہتر ہزار پونڈ کی منی لانڈرنگ کی تھی اور تحقیقاتی اداروں کے سامنے اس جرم کو بھی تسلیم کر لیا۔

برمنگھم میں کاشف خان کو اپنے اقبال جرم کے بعد باےئس ماہ کی سزا سنائی گئی جبکہ عبداللہ فاروق کے کیس پر نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

Birmingham; Malik Abdullah Farooq, 81, is convicted of money laundering bought a £412,000 house with money he claimed he won with 123 prize-winning Lottery in Pakistan.

But, National Crime Agency investigators discovered, it was the result of a black market money-laundering scheme masterminded by his son Kashaf Ali Khan and not the lottery scam.

Farooq and his son Kashaf Ali Khan, 44, both made the claims when they were arrested in . Khan, of Prospect Lane, Birmingham, has since admitted money laundering by using criminal money to buy the house.

He also admitted a second money laundering count in relation to paying a £175,000 confiscation order – given after an earlier money laundering conviction – with criminal cash.

At Birmingham Crown Court, Khan was sentenced to 22 months in jail after admitting he knew the money was the proceeds of crime. Two money-laundering charges against his father, Farooq, were left to lie on file.

پانچ سال تک پولیس کی نظروں سے اوجھل رہ کر ریسٹورنٹ چلانے والے ظہیر حسین کو ڈربی سے گرفتار کر لیا گیا

Zaheer Hussain arrested running restaurant after being on run for five years

some image

برمنگھم، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ برمنگھم کے علاقے سے ایک جنسی زیادتی کے مرتکب مجرم نے پانچ سال تک پولیس سے بھاگ کر ڈربی میں ملازمت اختیار کیے رکھی مگر بالآخر پانچ سال بعد پولیس نے ظہیرحسین کو ڈربی میں ایک ریسٹورنٹ چلاتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ظہیر حسین نے پولیس کو اپنے دو پتے دے رکھے تھے مگر وہاں سے غائب ہوگیا۔ جن میں سے اک پتہ برمنگھم کا تھا۔

عدالت میں بتایا گیا کہ ظہیر حسین کو دو ہزار دس میں جنسی زیادتی کیس میں عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کا اندراج کم عمر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب ہونے والے افراد کے رجسٹر پر کیا گیا۔اس کے تحت ظہیر حسین کے لیے پولیس کو اپنے حدود اربعہ سے آگاہ رکھنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

ظہیر حسین نے پولیس کو جو دو پتے دیے وہاں سے وہ بعد ازاں غائب ہو گیا۔جس کے بعد اسے مطلوبہ اشخاص کی فہرست میں ڈالا گیا۔ اور اس کے بارے میں مختلف مقامات پر مشتہر کیا گیا جس کے بعد اسے اس سال ایک ریسٹورنٹ سے مینیجر کے عہدے پر کام کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے ساتھ اپنے انٹرویو میں ظہیر حسین نے کہا کہ اس سے بے وقوفی ہو گئی۔مگر وہ پولیس کو اپنا پتہ فراہم نہ کرسکنے کی کوئی وجہ نہیں دے سکا۔ ظہیر حسین میٹ لاک کے علاقے میں انڈین ریسٹورنٹ پر کام کرتا رہا اور اسی ریسٹورنٹ کے اوپر بنے فلیٹ مین رہائش اختیار کیے رکھی۔

Birmingham; A Birmingham sex offender who was on the run for FIVE YEARS was found managing a curry house in the Midlands. Zaheer Hussain has been wanted by the police for almost half a decade after going missing from two addresses he told them he would be living at - including one in Birmingham.

Derby Crown Court was told how Hussain was found managing a curry house in Matlock, Derbyshire, when he was arrested for an unrelated offence. His status as a wanted man came to light after his arrest. Now he been jailed for ten years after pleading guilty to a charge of failing to comply with a sex offender’s notification requirement.

Julia King, prosecuting, said Hussain signed the register after being convicted of an offence involving a child in 2010 at Birmingham Crown Court. Under its terms, he was ordered to tell the police of his address and to notify them if he moved.

She said: “In 2012, he told them he had two addresses, one his family home in Carlton Avenue, Handsworth, and another above a restaurant where he said he was working at the time in Chelmsford, Essex. “He was at neither address and the owner of the Essex property said he had not seen him for four months.

“The defendant’s details were circulated as a wanted person and he was located on September 17 of this year when he was arrested in the Matlock area. “He was interviewed and told officer he was stupid and for the past two years he had been living in Matlock. "But he did not say why he failed to tell them of his change of address.” Lauren Fisher, for Hussain, said her client had been the manager at the Moja Indian Restaurant, in Dale Road, Matlock, for just over two years and lived above it.

لوٹن کی صبا خان نے عدالت میں اپنی ہی بہن کا قتل تسلیم کر لیا

Sabha Khan admits in Court to murdering her own sister in Luton

some image

From Left; Sabha Khan, Saima Khan and their Luton home where the murder was committed.

لوٹم، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ لوٹن کی ستائیس سالہ صبا خان نے عدالت میں اپنی بہن کے قتل کا اقبال جرم کر لیا۔ عدالت میں بتایا گیا کہ کس طرح صبا خان نے اپنی چونتیس سالہ بہن صائمہ خان کے ہاتھ کاٹے۔ اور گلے پر چھری چلا دی۔ جبکہ اس کے چار بچے اوپر کے کمروں میں سو رہے تھے۔

جس وقت صائمہ نے اپنی بہن کا قتل کیا اس وقت ان کی ساری قریبی مسجد میں اپنی قریبی رشتہ دار خاتون کے جنازے میں شرکت کے لئے گئی ہوئی تھی۔صبا نے اپنی بہن کا گلہ اس بری طرح کاٹا کہ گھر والوں کی واپسی پر صائمہ کون کے تالاب میں نہائی پڑی ہوئی ملی۔

ابتدائی طور پر جب تفتیش کا آغاز ہوا تو تفتیشی ٹیم نے یہی بتایا کہ گھر میں چوری کی واردات وقوع پذیر ہونے کے باعث چوروں نے صائمہ کا قتل کر دیا۔ مگر جب تحقیقات کا دائرہ بڑھا تو مزید واقعات سامنے آتے گئے۔ سوشل ورکر صائمہ ہالینڈ سے برطانیہ شفٹ کرنے کے بعد اپنی بہن والدین اور بہن کے شوہر ٹیکسی ڈرائیور حفیظ رحمان کے گھر پر رہنے لگی۔

صبا خان کو اقبال جرم کے بعد تاعمر قید کی سز ا کا سامنا ہے۔ صبا کو جمعرات کے روز جیل بھیجا جائے گا۔

Luton; Sabah Khan who stabbed her older sister to death and cut off her hand at their family home while her children slept upstairs Care worker Sabah Khan, 27, cut the throat of mother-of-four Saima Khan, 34, at the home they shared in Luton. Sabha has admitted to the murder in court.

As Saima was murdered by her sister, the rest of the Khan family were attending a funeral of an elderly aunt at the local masjid. Sabah is believed to have virtually cut her older sister's neck in half and severed her hand in the savage attack. Saima was found slumped in a pool of blood in the hallway of her semi-detached home.

Detectives sent to the scene initially investigated claims a burglar had broken into the property and carried out the horrific killing Sabah Khan now faces a life sentence after pleading guilty to murdering her sister at the Old Bailey today. Saima, who was also a care worker, had moved to England from Holland and lived with her sister, their parents, her children and her taxi-driver husband Hafeez Rehman.

Saima was found dead in a pool of blood at her home in Luton at around 11.30pm on 23 May last year. Police had been investigating the incident as sabha khan admits to the murder in court, She will be sentenced on Thursday.

لارڈ قربان اور زبیر گل کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی

The verbal war between Lord qurban and Zubair Gul intensified

some image

لوٹن(نماہندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) لندن میں واقع لوٹن میں آزاد کشمیر سے آئے ہوئے راجہ فاروق حیدر کئ اعزاز میں ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی جلسےکے دوران تقریر کرتے ہوئے لارڈ قربان اور زبیر گل کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی -

زبیر گل نے اپنی تقریر کے دوران لارڈ قربان پر جلسہ ہائی جیک کرنے کا الزام لگا دیا اور کہا کہ لارڈ قربان نے جلسہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جسے محبوطن لوگوں نے ناکام بنا دیا- زبیر گل نے مزید کہا کہ مسلم لیگ نواز کئ جلسے میں نواز لیگ سے ہمدردی نہ رکھنے والوں کو قبول تو کیا جا سکتا ہے مگر کسی کو جلسہ ہائی جیک کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دے سکتے-

لارڈ قربان نے کہا کہ زبیر گل محض ایک پارٹی کے مقامی صدر ہیں ان کا میرے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا- انہوں نے جسطرح کل جلسے میں جارحانہ رویہ اختیار کیا وہ قابل مذمت ہے میری طرف سے کل جلسے میں کوئی متنازع اور دل آزار بات نہیں ہوئی مگر زبیر گل نے پتہ نہیں کیوں اس کو ذاتیات اور انا کا مسئلہ سمجھ لیا اور مجھ پر سرعام بے جا تنقید کی-

لارڈ قربان نے مزید کہا کہ زبیر گل کو کسی موضوع پر ٹھوس انداز میں تقریر کرنا نہیں آتی اور ان کے پاس کوئی تقریر کرنے کا موضوع بھی نہیں تھا جو انہوں نے اس ہتھکنڈے کا استعمال کیا - لارڈ قربان نے کہا کے میں سب کا متفقہ نماہندہ ہوں پتہ نہیں زبیر گل نے اسے متنازعہ کیوں بنایا- یاد رہے کہ لارڈ قربان اور زبیر گل کے درمیان لفظی جنگ کی وجہ سے جلسے کے ماحول میں گرمی پیدا ہوگئی تھی-

Luton ; Zubair Gul and Lord Qurban had a verbal row at a public meeting held in Luton, Zubair Gul accused the Lord of attempting to hijack the public meeting while Lord Qurban accused Zubair Gul of not knowing how to make a speech. The row left guest bemused at the function.

A function was being held in Luton in honour of Raja Farooq Haider by PML-N officials, Zubair Gul outbursted in his speech and accused Lord Qurban of attempting to hijack the function,

Zubair Gul further claimed that we will not accept those who do not have any affection for PML-N, the situation got worse at the function in war of words.

Lord Qurban said that Zubair Gul is mere President of a local party and nothing more and criticised him for his lack of speech.

شفیلڈ برطانیہ کے ٹیچر چوہدری محمد اکرم کی طرف سے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بھڈانہ کے لئے دو لاکھ روپے مالیت فرنیچر کا عطیہ

Kind hearted Sheffield teacher, Ch M Akram, makes donation for Bhadana high school

some image

بیول(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم) ---- بھٹیاں بھڈانہ سے تعلق رکھنے والے شفیلڈ برطانیہ میں مقیم معروف ٹیچر چوہدری محمد اکرم کی طرف سے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بھڈانہ کے طلبہ کے لئے دو لاکھ روپے مالیت کا نیافرنیچر عطیہ کیا گیا ہے

جس میں ساٹھ امتحانی کرسیاں ، تین میز، ایک وائٹ بورڈ اور ایک گرین بورڈ شامل ہیں۔ چند ماہ قبل چوہدری محمد اکرم نے گورنمنٹ ہائی سکول بھڈانہ کے وزٹ کے دوران سکول کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فرنیچر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

برطانیہ جاتے ہی انہوں نے سکول کے لئے یہ ڈونیشن دیا ہے جس پر سکول پرنسپل ،اساتذہ اور طلبہ نے چوہدری محمد اکرم اور فیملی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے جان و مال اور کاروبار میں برکت کی دعا کی ہے۔

نفسا نفسی کے اس دور میں وہ لوگ عظیم ہیں جو اپنے علاقے کی تعمیر وترقی بالخصوص تعلیمی بہتری کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کی بہتری کے لئے سوچتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے حالات میں بہتری کی تدبیر فرما دیتا ہے ۔

Gujar Khan/ Sheffield; Kind heated teacher from Sheffield in UK, Chaudhry Mohammad Akram had made a donation to government boys high school in Bhadana, Gujar Khan.

Chaudhry Mohammad Akram who recently visited government boys high school in Bhadana on his trip to Pakistan and pledged to support the school, keeping his promise he donated two Lakh rupees for furniture to the school.

The school was supplied with chairs, desk, white board and green board for the use of school. Jhangir Afzal who is head teacher at the high school Bhadana, Thanked Chaudhry Mohammad Akram and his family for their contribution to the school.

پانچ افراد کے ساتھ ایک شخص کو بری طرح زدوکوب کرنے کے جرم کی ماسٹر مائنڈ نسرین اختر کو نو سال جیل

Nasreen Akhtar who 'masterminded' five-on-one beating of a man is jailed for nine years

some image

بلیک برن، پوٹھوار ڈاٹ کوم ،محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ پانچ افراد کے ساتھ ایک شخص کو بری طرح زدوکوب کرنے کے جرم کی ماسٹر مائنڈ نسرین اختر کو نو سال جیل کی سزا سنا دی گئی۔تفصیلات کے مطابق نسرین اختر نے پانچ افراد کو اس امر پر تیار کیا کہ سینتالیس سالہ شخص کو اس کے گھر کے پیچھے والے حصے میں لے جاکر بری طرح ماریں۔

اس حملے کے نتیجے میں مذکورہ شخص کو کی ہنسلی کی ہڈی ٹوٹ گئی جس کو میٹل پلیٹ کے ذریعے جوڑا گیا۔ اس شخص کی ناک اور کہنی کی ہڈی ٹوٹ گئی اور سامنے کے کئی دانت بھی چلے گئے۔ مذکورہ مظلوم شخص کئی ہفتوں تک رائل بلیک برن ہسپتال میں پڑا رہا۔ جہاں اس کا علاج کیا گیا۔

پولیس کے مطابق مظلوم شخص نہ صرف زخمی ہوا بلکہ اسے ٹرائل کی سختیوں کو جھیلنا پڑا جہاں اسے عدالت میں اپنے کیس کے سلسے میں باقاعدگی سے حاضری بھی دینی پڑی۔مگر نسرین اختر کی قید سے اس شخص کے زخم تو بھر نہیں سکتے میں ذہنی طور پر کچھ ریلف ملے گا کہ اس کے مجرم کو سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا۔

Blackburn; Nasreen Akhtar who arranged a vicious five-on-one assault which left a man hospitalised with ‘terrible injuries’ has been jailed for nine years. Nasreen Akhtar, 35, of Spring Street, Accrington was sentenced at Preston Crown Court after being found guilty after a trial of grievous bodily harm with intent. She was handed a nine-year prison sentence for her part in a violent incident in which a 47-year-old man was subjected to a prolonged assault at the hands of a group of five men.

Lancashire Police say Akhtar is believed to have been the ‘ringleader’ behind the attack which took place in July 2016 at around 11.30pm at the rear of her home address, and also watched it ‘unfold from beginning to end’.

Officers say that as a result of the assault – which went on for around ten minutes – the victim suffered a fractured left cheek, which now requires a metal plate, a dislocated left elbow, a broken nose and several broken teeth. He was in Royal Blackburn Hospital for a week afterwards.

Police said the sentencing brings some comfort to the victim and enables him to move forward with his life. “He not only suffered terrible injuries, but was later forced to go through the ordeal of a trial, and he has conducted himself with immense courage.

بوڑھے پنشنر کی جمع پونجی لٹنے سے بچانے پر ٹیکسی ڈرائیور راشد کو خراج تحسین

Kind-hearted taxi driver Rashid discovers the scam and returns pensioners cash

some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم ،محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ اڑسٹھ سالہ پنشنر کی زندگی بھر کی جمع پونجی مہربان ٹیکسی ڈرائیور راشد کی حاضر دماغی کے باعث نو سر بازوں کے ہتھے چڑھنے سے بچ گئی۔تفصیلات کے مطابق نو سربازاوں نے خود کو سکاٹ لینڈ یارڈ کا اہلکار ظاہر کرتے ہوئے بوڑھے پنشنر کو فون کیا اور کہا کہ مسٹر بیری کے ساتھ بہت بڑا فراڈ ہو چکا ہے اور وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

نو سربازوں نے مسٹر بیری سکاٹ کو کہا کہ وہ اپنے بنک اکاوٹ سے تمام رقم نکالے اور سکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے بھیجی جانے والی ٹیکسی کے ذریعے لندن سکاٹ لینڈ آفس تک پہنچائے جہاں وہ رقم وصول کر کے اس سے فنگر پرنٹس حاصل کریں گے۔

مسٹر بیری نے جب اپنے اکاونٹ سے تمام رقم نکلوا لی جو بارہ ہزار پونڈز کے گ بھگ تھی۔تو نو سربازوں نے مقامی ٹیکسی ڈرائیور کو مذکورہ پارسل اٹھانے کا کہا۔ مسٹر بیری کی خوش قسمتی کی ٹیکسی ڈرائیور راشد کو معاملے میں کسی گڑبڑ کا احساس ہو گیا اور وہ تمام رقم لے کر پولیس سٹیشن پہنچ گیا۔اور یوں مسٹر بیری اپنے رقم سے ہاتھ دھوتے دھوتے رہ گئے۔

مسٹر راشد نے پولیس کو تمام معاملے سے آگاہ کرنے کے بعد دوبارہ تمام رقم لے جاکر مسٹر بیری کے حوالے کی اور تمام واقعہ بیان کیا۔ اب مسٹر بیری سکاٹ اور مسٹر راشد بہترین دوست بن چکے ہیں۔ اور مسٹر بیری اس مہربان ٹیکسی ڈرائیور کے نہایے مشکور ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ فراڈ کا شکار ہوتے ہوتے بچ گئے۔

London; Pensioner Barry Stone has been reunited with his life-savings thanks to a taxi driver Izy Rashid who realised he had been hoodwinked into taking part in a cruel cash scam. The 78-year-old, from Marlow, was handed back his £12,000 cash savings after shameless tricksters persuaded him he needed to withdraw it all from the bank and hand it to the cabbie who would collect it from him.

Retired cabinet maker Mr Stone received a call on his landline from scammers, who claimed they were ringing from Scotland Yard and investigating bank fraud. They told him to withdraw £12,000 from his bank account and hand it over to a taxi driver who would drive it to London so they could check for fingerprints on the bank notes.

Meanwhile the scammers dialled a cab firm local to the OAP's home and arranged for them to pick up the money - £8,000 in £50 notes and £4,128 worth of Euros - and drive it to the capital. Luckily for Mr Stone, cabbie Izy Rashid smelled a rat straight away and returned to Mr Stone's home, desperate to reunite him with his life savings.

After contacting the police, Mr Rashid returned to Mr Stone's home and gave him back his money, much to his delight. 'He's a wonderful man and friend now, a very, very good friend,' said Mr Stone. 'I'll start using his taxis now so I'll make sure I use him then.

راجہ کبیر حسین آف موہڑہ نگڑیال انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ دوبئی کے لئے برطانیہ کی ٹیم کی طرف سے منتخب کر لئے گئے

Raja Kabir of Kallar Syedan selected to playin under 19 England cricket team

some image

لندن ( نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم،راجہ اجمل حسین )۔۔۔۔۔۔ برٹش پاکستانی فرزند پوٹھوار راجہ کبیر حسین موہڑہ نگڑیال انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ دوبئی میں برطانیہ کی ٹیم کی طرف سے سلیکٹ کیے گئے ہیں

راجہ کبیر حسین برطانیہ کے معروف کاروباری اور سماجی شخصیت جناب راجہ امتیاز حسین کے صاحبزادے ہیں جن کا تعلق خطہ پوٹھوار کی تحصیل کلر سیداں کے گاوں موہڑہ نگڑیال سے ہے انڈر 19 ٹیم کی سلیکشن پر ان کے والد نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ

یہ ان کے بیٹے کی محنت لگن اور شوق کا نتیجہ ہے یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے دیار غیر میں رہ کر اپنے ملک اور علاقے کا نام روشن کیا ہے برطانیہ میں مقیم خطہ پوٹھوار کے بہت سارے دوست احباب نے راجہ امتیاز حسین اور ان کے بیٹے راجہ کبیر حسین کو مبارکباد کے پیغام دیے

البتہ وہ اچھی کارکردگی پیش کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور مزید کہا انشاءاللہ یہ ورلڈ کپ جیت کر اپنے ملک اور علاقے کا نام روشن کریں گیے تمام دوست احباب کا دلی شکریہ ادا کیا جنہوں ان کی خوصلہ افزائی فرمای

London; Raja Kabir Hussain has been selected to play for England under 19 cricket team, He will participate in under 19 Cricket World cup taking place in Dubai.

Raja Kabir Hussain is son of well known businessman Raja Imtiaz Hussain of village Morra Nagrial, Union council Choa Khalsa in tehsil Kallar Syedan. His father told said he is very proud of his son for his hard work, which has led to him being selected for England.

Family and friends along with Pothwari community in England have congratulated Raja Kabir Hussain for being selected to play for England national team.

لندن کے اغوا کار شفق عباس کو ڈرائیونگ سے بین کے دوران گاڑی چلانے اور اپنی کار میں ایک چھبیس سالہ مغویہ کے ساتھ پائے جانے کے جرم میں جیل کی سزا

Shafak Abbas arrested by police with kidnapped women in his car boot

some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم ،محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ لندن کے اغوا کار شفق عباس کو ڈرائیونگ سے بین کے دوران گاڑی چلانے اور اپنی کار میں ایک چھبیس سالہ مغویہ کے ساتھ پائے جانے کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا۔پولیس کے مطابق جب سپیشلسٹ فائر آرمڈ پولیس آفیسر نے سونے رنگ کی مسیڈیز گاڑی چلاتے ہوئے شفق عباس کو روکا تو اس کا رویہ غیر معمولی تھا۔

جب پولیس نے شفق سے سوالات کیے تو ان کا شک مزید پختہ ہوگیا کہ شفق کوئی غیر معمعلی بات چھپانے کے چکر میں ہے۔اس نے فوراً ہی مان لیا کہ وہ بغیر انشورنس کے گاڑی چلا رہا ہے۔مگر ان کے نروس ہونے کے باعث جب پولیس نے گاڑی کی تفصیلی تلاشی لی تو لاک کی ہوئی کار کی ڈگی سے روتی ہوئی ایک چھبیس سالہ عورت برآمد ہوئی ۔

کپولیس نے کیمرے پر بھی تمام کارروائی محفوظ کی جس میں مغوی عورت کے پاس ہی ایک بی بی بندوق بھی کار کی ڈگی میں موجود تھی۔ اور عباس نے خود کیمرے پر پولیس کو بتایا کہ اس نے اس عورت کا اغوا کیا ہے۔عباس کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیااور انشورنس کے بغیر قانونی طور پر ڈس کوالیفائیڈ ہونے کے باوجود گاڑی چلانے کے جرم میں چارج کر دیا گیا۔

مگر کیمرے پر تمام شہادتیں ہونے کے بوجود شفق عباس نے عدالت میں خاتون کے اغوا سے انکار کر دیا۔جیوری کو گرفتاری کے وقت ریکارڈ کی ہوئی فوٹیج بھی دکھائی گئی جس میں اس نے خطرناک ہتھیاروں کی موجودگی کا جرم بھی مانا تھا۔ عدالت نے شفق کو پندرہ ماہ جیل کی سزا سنادی۔

London; Shafak Abbas a kidnapper has been jailed after police stopped him for driving while disqualified and found a crying woman in the boot of his car. Shafak Abbas was approached by specialist firearms officers as he sat in his gold Mercedes on a residential street in east London.

When questioned the driver admitted that he was not insured for his vehicle but police grew suspicious about his behaviour and decided to search the car. Abbas then told them that a 26-year-old woman, who was known to him, was locked in the boot.

Officers opened the boot and found the distressed victim inside crying. Footage captured on a body-camera worn by one of the officers also shows the discovery of a BB gun in the car's footwell. Abbas was arrested at the scene in April and later charged with kidnap, driving whilst disqualified, no insurance and possession of a firearm.

But despite the whole encounter being caught on camera the defendant denied the kidnap in court. The footage shown to the jury also captured Abbas's admission to driving while disqualified and being in possession of a firearm. He was handed a 15-month prison sentence yesterday following a four-day trial at Snaresbrook Crown Court.

کلر سیداں کے اظہر محمود کو پانچ لاکھ پونڈ مالیت کی ہیروئین کے ساتھ ہیتھرو ائرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا

Kallar Syedan man arrested with 'massive' heroin seizure at Heathrow airport

some image some image

کلر سیداں؛ نمائندہ پوٹھوارڈاٹ کام ،اکرام الحق قریشی۔۔۔۔ اسلام آباد سے لندن جانے والے کلر سیداں کے برطانوی نژاد شہر ی سے ہیتھرو ائر پورٹ پر بھاری مالیت کی ہیروئن برآمد ملزم گرفتار،بینظیر بھٹو ائر پورٹ سے ملزم منشیات سمگل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق کلر سیداں کے اظہر محمود جو تعطیلات پر پاکستان آیا ہوا تھا گزشتہ اتوار کو وہ بھاری مالیت کی چرس بینظیر بھٹو ائر پورٹ سے کلیئرنس کے بعد دن گیارہ بجے کے بعد لندن جانے والی فلائٹ میں سوار ہو گیا اور یہاں سے بخیر و خوبی گزر گیا مگر ہیتھروائر پورٹ پر پہنچتے ہی اسے برٹش بارڈر فورس نے گھیر لیا اور اس کے سوٹ کیس کی تلاشی لی تو خفیہ خانوں سے دو کلو ہیروئن برآمد کر لی ۔

ادھر برٹش بارڈر فورس ہیتھرو کے ڈائریکٹر فل ڈگلس کے مطابق ملزم اتوار کے روز اسلام آباد سے لندن پہنچا جس کے سوٹ کیس کی تلاشی لی گئی تو اس نے بڑی مہارت سے اس کے اندر اے کلاس کی منشیات چھپا رکھی تھی جس کا وزن دو کلو تھا اور اس کی قیمت پانچ لاکھ سٹرلنگ برطانوی پاؤنڈز تھی ۔ملزم کی عمر 41برس ہے ۔

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔کلر سیداں اور برطانیہ کے اظہر محمود کو ہیتھرو ائر پورٹ پر بارڈر فورس اتھارٹی نے پانچ لاکھ مالیت کی ڈرگ سمگلنگ کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ پاکستان سے پی آئی اے کی فلائٹ کے ذریعے برطانیہ آتے ہوئے بارڈر فورس اتھارٹی کے عملے نے اظہر محمود کو جب چیکنگ کے لئے روکا تو اس کے سامان سے دو کلو ڈرگز برآمد ہوئے۔

اس موقع پر اتھارٹیز نے ڈرگز اپنے قبضے میں لے لیں اور اظہر محمود کو گرفتارکر کے فرد جرم عائد کر دی۔ اظہر محمود کی گرفتاری چوبیس ستمبر کو عمل میں لائی گئی جبکہ چھبیس ستمبر کو اظہر محمود کو اکسبریج مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اکتالیس سالہ اظہر محمود کا کسٹڈی میں ریمانڈ حاصل کیا گیا۔اور اگلی پیشی کے لئے اسے چھبیس اکتوبر کو کراون کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ اظہر محمود کو جانتے بوجھتے ڈرگز سمگلنگ کرنے کی فرد جرم بھی عائد کی گئی۔ یعنی اسے معلوم تھا کہ مذکورہ ڈرگ برطانیہ میں لانا یا فروخت کرنا منع ہے اس کے باوجود اس نے ایسا کیا۔بارڈر فورس اتھارٹی ہائی ٹیک آلات کے ذریعے ممنوعہ ڈرگز اور سامان کی تلاشی لیتی ہے جس کے باعث کسی بھی شخص کے لئے ایسی ممنوعہ اشیا ملک میں لانا ناممکن بنایا گیا ہے۔جن میں سونگھنے والے کتوں سے لے کر کاربن ڈائی آکسائیڈ ڈی ٹیکٹر، ہارٹ بیٹ مانیٹر اور سکینرز وغیرہ شامل ہیں۔

London; Azhar Mahmood of Kallar syedan has been arrested at Heathrow airport in possession of drugs. Officers discovered the Class A drugs on Sunday, 24 September when a passenger Azhar Mahmood was stopped at Terminal 3 after arriving on a flight from Islamabad, Pakistan. The weight of the drugs was estimated to be two kilos – a full forensic analysis will now take place.

In this case, the drugs seized were estimated to have a potential value of approximately £500,000 once cut and sold on the streets. Following the seizure by Border Force, the investigation was passed to the NCA and a 41-year-old man Azhar Mahmood from  Buckinghamshire, was charged with importing a Class A drug.

Azhar Mehmood appeared at Uxbridge Magistrates Court on Tuesday, 26 September. He was remanded in custody to appear at Isleworth Crown Court on 26 October. Azhar Mehmood, was charged with being knowingly concerned in the fraudulent evasion or attempted evasion of the prohibition on importation imposed by section 3(1) of the Misuse of Drugs Act.

Border Force officers use hi-tech search equipment to combat immigration crime and detect banned and restricted goods that smugglers attempt to bring into the country. They use an array of search techniques including sniffer dogs, carbon dioxide detectors, heartbeat monitors and scanners - as well as visual searches - to find well-hidden stowaways, illegal drugs.

مختلف کمیونٹیز میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ایلزبری جامع مسجد کی جانب سے عید فئیر کا انعقاد

Jammia Masjid Aylesbury praised for their community work on Eid fayre day

some image some image

ایلزبری، برطانیہ، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔۔۔ ایلزبدی جامع مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے مختلف کمیونیٹیز میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے عید فئیر کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی مسلمان کمیونٹی کے علاوہ ایلزبری میں بسنے والی کرسچیئن کمیونٹی نے بھی شرکت کی۔انھیں مسجد کا دورہ کروایا گیا جہاں مسجد انتظامیہ کی جانب سے نمائش بھی رکھی گئی تھی۔

اس نمائش میں خانہ کعبہ کے غلاف سے لے کررسول پاکﷺ ، صحابہ کرام اور اسلاف سے متعلق کئی ایک نادر نمونے موجود تھے بڑوں اور بچوں نے ان نادر نمونہ جات کو انتہائی شوق اور عقیدت سے وزٹ کیا۔کرسچیئن کمیونٹی نے بھی اس نمائش میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔اے آر ایف، پولیس اور این ایچ ایس جیسے اداروں کے نمائندوں نے اس موقع پر تمام کمیونیٹیز میں ہم آہنگی کے لئے اس تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی۔

حاجی ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ آج مسلم کمیونٹی کے لئے خوشی کا دن ہے پچیس سال پہلے شروع ہونے والی اس مسجد نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہے اور اس وقت مسجد میں باجماعت نماز کے ساتھ ساتھ بچوں کے مختلف کلبز اور بالغوں کے لئے عربی کلاسز کا اہتمام بھی موجود ہے جہاں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی عربی زبان سیکھتے ہیں۔ مسجد نے تمام کمیونیٹیز میں ہم آہنگی کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Aylesbury; Aylesbury’s jammia masjid celebrated Eid fayre, with the whole community joining in the celebration. Large number of community along with social and political personalities were present, Volunteers from the Army Royal Air force and police were guest as well.

Haji Zaffar Iqbal a member of the Committee at the Masjid said this has been a special day for everyone at the Masjid. Since it opened in 1991 the congregation has grown from just 400 to around 10,000, Large number of stalls with various food and bouncy castles for children.

Since it first opened the Mosque has gone from strength strength, and now offers a range of classes as well as regular worship. There is also an after-school club for children, The Masjid was praised for their contributions in community.

Various speakers appluded the Masjid committee for their hard work in community, Where they have English speaking Imam and a vibrant young management team that are working hard to build a positive relationship with the wider community.” For more please watch the video below...

پوٹھوار ڈاٹ کوم کے پوٹھوار میلہ وٹفورڈ کے موقع پر پوٹھواری کمیونٹی میں بہترین سماجی خدمات پر مختلف شعبوں میں چار افراد کو ایوارڈ سے نوازا گیا

Pothwar.com announced annual awards for 2017

some image some image some image some image

From left; Pothwar.com 2017 Award winners, Chief Constable Naveed Malik, Hafiz AdnanZaheer, Iftikhar Warsi and Kabir Ahmed Janjua.

وٹفورڈ، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔ پوٹھوار ڈاٹ کوم کے پوٹھوار میلہ وٹفورڈ کے موقع پر پوٹھواری کمیونٹی میں بہترین سماجی خدمات پر مختلف شعبوں میں چار افراد کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔جن میں برطانیہ سے اسسٹنٹ کمشنر پولیس کیمبرج شائر نوید ملک، حافظ عدنان ظہیر امام جامع مسجد سلاو، افتخار وارثی جرنلسٹ پوٹھوار ڈاٹ کوم ٹیم برطانیہ اور کبیر جنجوعہ جرنلسٹ پوٹھوار ڈاٹ کوم پاکستان ٹیم شامل ہیں۔

کیمبرج شائر پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر نوید ملک کو تعلق چکوال سے ہے۔ وہ پچھلے چھبیس سال سے برطانیہ میں پولیس کے محکمے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نوید ملک برطانوی معاشرے میں اپنی کمیونٹی کی مثبت تصویر ہیں۔اور ایک معروف ادارے میں بلا امتیاز کئی بڑے جرائم کی تفتیش میں برطانوی ممبران کے شانہ بشانہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

حافظ عدنان ظہیر کا تعلق گوجرخان کے علاقے تھاتھی سے ہے اور وہ پچھلے کئی سالوں سے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت وہ سلاو مسجد میں امام ہیں اور خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ کئی ایک مذہبی اور سماجی حلقوں میں سرگرم ہیں اور کمیونٹی کی خدمت کے لئے کوشاں ہیں۔

پوٹھوار ڈاٹ کوم ہر سال پوٹھوار کے علاقے کے لئے بلامعاوضہ خدمت کرنے والے صحافی کو بھی ایوارڈ دیا کرتی ہے۔ اس سال بھی برطانیہ سے بہترین صحافتی خدمات پر افتخار وارثی جبکہ پاکستان سے کبیر جنجوعہ کو اس ایوارڈ کے لئے چنا گیا۔ پوٹھوار ڈاٹ کوم کے قارئین ان دونوں کی خدمات سے بخوبی آگاہ ہیں۔افتخار وارثی نے لندن کے قرب و جوار سے کئی ایک ایونٹس کی کوریج کی جبکہ کبیر جنجوعہ کہوٹہ کے قرب و جوار سے اپنی رپورٹس اور خبروں کے ساتھ قارئین میں کافی مشہور ہیں۔کبیر جنجوعہ کو ان کا ایوارڈ پاکستان میں پیش کیا جائے گا۔

Watford; The Pothwar.com awards have been announced for 2017, The Four who were awarded were Assistant commissioner Naveed Malik, Hafiz Adnan Zaheer, Journalist Iftikhar Warsi and Kabir Ahmed Janjua.

Assistant Chief Constable cambridgeshire police Naveed Malik of Chakwal was awarded for his contributions and setting up a example for the Asian community in Police. Nav has been a police officer for 26 years spending the majority of his career in Warwickshire working in major crime, serious and organised crime and as an area commander.

Hafiz Adnan Zaheer of Thathi in Gujar Khan who is currently Imam of Jammia Masjid Diamond road in Slough, was awarded for his contributions in community work and religious activities with his guidance. Hafiz Adnan Zaheer who was student of Madrassa in Gujar Khan is well respected amongst all the Pakistani community in UK.

Journalist Iftikhar Warsi of Bewal was awarded for his contributions in pothwar.com, since Iftikhar Warsi joined Pothwar.com two years ago he has changed community news coverage. From Pakistan journalist Kabir Ahmed Janjua was awarded for his contributions in Pothwar.com. Kabir Ahmed Janjua who reports from Kahuta region, has changed Kahuta news outlook by publishing daily latest news from the Kahuta region. Kabir Ahmed Janjua will be presented with award in Pakistan.

اپنے شوہر کی لائف انشورنس پالیسی حاصل کرنے کے لئے قتل کرنے پر رخسانہ بی بی اور اس کے آشنا محمد عارف کو تاعمر قید

ایکرنگٹن، برطانیہ میں پینسٹھ سالہ محمد یوسف اپنی ہی اڑتیس سالہ اہلیہ کے ہاتھوں قتل

M Arif and Rukhsana Bibi jailed for murdering pensioner M Yousif in Blackburn, UK

some image some image some image

From left; Murdered M Yousif and his killers M Arif and Rukhsana Bibi

بلیک برن، برطانیہ، محمد نصیر راجہ، پوٹھوار ڈاٹ کوم۔۔۔۔۔۔۔ برطانیہ کے علاقے ایکرنگٹن میں دو عاشقوں نے مل کر پینسٹھ سالہ پنشنر محمد یوسف کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔رخسانہ بی بی اور محمد عارف نے محمد یوسف کی دو لاکھ چوالیس ہزار پونڈز کی انشورنس پالیسی کی رقم حاصل کرنے کے لئےسوتے وقت موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دونوں مجرمان نے اس قتل سے پہلے کئی ماہ پلاننگ کرتے ہوئے گزارے کہ کس طرح بوڑھے پنشنر کو راستے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔اس قتل کی کہانی قتل کے وقوع پذیر ہونے کے چھ ماہ پہلے شروع ہوئی جس کی تفصیل کچھ یوں بیان کی گئی ہے۔

رخسانہ بی بی عارف کے بھائی کی بیوی تھی مگر اس نے اپریل کے مہینے میں اپنے شوہر سے طلاق لے کر دو دن کے اندر مقتول محمد یوسف سے شادی کر لی۔ پنشنر محمد یوسف نے ایک بار اپنی سوشل ورکر سے ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ اس شادی کا آئیڈیا محمد عارف کا تھا۔ عدالت میں بتایا گیا کہ محمد یوسف کے قتل کے وقت اس کے بنک اکاونٹ میں چوبیس ہزار پونڈ موجود تھے جبکہ قتل کے کچھ دن بعد محمد عارف کے گھر پر چھاپہ مارتے وقت پولیس کو بائیس ہزار پونڈز ملے۔

عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ محمد عارف اور رخسانہ بی بی نے محمد یوسف کے نام کی فراڈ انشورنس پالیس لی جس وقت مقتول محمد یوسف ملک سے باہر تھے۔ اور اس پالیس کی رو سے محمد یوسف کی موت کی صورت میں دو لکھ چوالیس ہزار پونڈز اس کی بیوی کو ملنا تھے۔اسی طرح عدالت میں یہ بھی ثابت ہوا کہ محمد عارف محمد یوسف کو اپنے ساتھ لے کر وکیل کے پاس بھی گیا جہاں اس نے اپنی وصیت تبدیل کروائی اور نئی وصیت کے مطابق محمد یوسف کے بعد ان کی تمام جائیداد کی مالک رخسانہ بی بی ہو گی۔

سترہ ستمبر کو محمد یوسف پاکستان میں لمبی چھٹیاں گزارنے کے بعد جب برطانیہ واپس پہنچے تو اگلی ہی رات انھیں قتل کر دیا گیا۔ اس وقت رخسانہ بی بی محمد یوسف کے دو جوان بچوں کے ساتھ آئر لینڈ میں تھی۔ اور محمد یوسف اپنے فلیٹ میں اکیلے تھے۔سی سی ٹی وی کی فوٹیج کے مطابق اس رات محمد عارف کی گاڑی تین بار ان کے فلیٹ پر آئی۔محمد یوسف کی ڈیڈ باڈی تین دن بعد ان کے لینڈ لارڈ نے دیکھی اور پولیس کو مطلع کیا۔ محمد یوسف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کے سر پر کئی ضربات تھیں اس کے علاوہ گلے پر کٹ کا نشان بھی تھا۔

ؓBlackburn; TWO lovers Muhammed Arif and Rukhsana Bibi, who colluded to bludgeon a pensioner to death for a £244,000 life insurance payout have been jailed for life. Preston Crown Court heard Muhammed Arif also slashed the throat of 65-year-old Mohammed Yousaf as he slept in his Accrington flat. The murder in September followed months of planning between 45-year-old Arif and the wife of his victim, Rukhsana Bibi, 38, with whom he was having an affair.

Sentencing them for a combined minimum total of 60 years behind bars, Judge William Davis, said the pair's greed had destroyed three families. The prosecution said Bibi, who was married to Arif's brother but divorced him two days before marrying Mr Yousaf, plotted with her co-defendant to exploit the victim for money.

The court heard one month before the victim's marriage to Bibi in April 2016, Mr Yousaf met with a solicitor to sign a house he owned on Craven Street, Accrington, into her ex-husband Arif’s brother’s name. The victim, of Granville Road, Accrington, was accompanied to the appointment by Arif. Mr Yousaf later reported to a social worker that the marriage had been Arif’s idea.

During the course of Mr Yousaf and Bibi’s relationship, the prosecution said more than £24,000 left the victim’s savings account. Following the discovery of the victim's body around £22,000 in cash was found by detectives at Arif’s home. In July 2016 Bibi and Arif took out a fraudulent life insurance policy in Mr Yousaf’s name while he was out of the country. The court heard Bibi, of Wood Street, Todmorden, would get £244,000 upon his death. Mr Yousaf later visited a solicitor, accompanied by Arif, to draw up a will leaving everything he owned to Bibi.

On September 17, a jury was told Mr Yousaf returned to Accrington following an extended trip to Pakistan. The following night, with Bibi in Ireland with the victim's two grown-up children, Mr Yousaf was bludgeoned to death. The jury was shown CCTV footage of Arif’s Volkswagen Passat driving to and from Granville Road three times between 4.54pm and 10.15pm that day.

It is believed the murder was carried out that evening.Mr Yousaf’s body was found three days later by his landlord. He had suffered more than a dozen blows to the head and a slash wound to his throat.

وٹفورڈ میں پوٹھوار ڈاٹ کوم میلہ اور یوم آزادی پاکستان کی تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اُمڈ آئے

میلے کی مختصر جھلکیاں قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں

Thousands turned up for pothwar.com mela and independence day celebrations in Watford

وٹفورڈ، پوٹھوار ڈاٹ کوم ،محمد نصیر راجہ۔۔ عاصمہ نورین سے۔۔۔۔۔پوٹھوار ڈاٹ کوم میلہ وٹفورڈ میں یوم آزادی کی تقریب کے ساتھ ساتھ پوٹھوار ڈاٹ کوم کا اٹھارواں یوم، تاسیس منایا گیا ۔ اس میلے میں برطانیہ کے شمال و جنوب سے شائقین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔مئیر آف سلاو محترمہ عشرت شاہ نے میلے کا آغاز فیتہ کاٹنے کی رسم سے کیا۔

پاکستان ڈے کے حوالے سے تقریب میں کیک کاٹا گیا۔بڑوں اور بچوں نے ملکر پاکستان کا قومی ترانہ پیش کیا۔والی بال، کرکٹ، ٹینس ، کبڈی اور نیزہ بازی کے ساتھ خطہ پوٹھوار کے مختلف جانور بھی حاضرین کی دلچسپی کے لئے موجود تھے۔تقریب کے اختتام پر سمی گروپ نے ڈانس پیش کیا جبکہ اورنگزیب عالمگیر اور گروپ نے خوبصورت موسیقی کے ساتھ شعر خوانی کی۔

اس تقریب کے مہمانان خصوصی چوہدری محمد صدیق، لارڈ شیخ، لارڈ قربان، مئیر آف سلاو، مئیر آف لوٹن، ڈپٹی مئیر آف وٹفورڈ، بیرونیس ڈوروتھی تھورن، ناصر وارثی اور زریں بھٹی تھے۔تقریب کے کامیاب انعقاد پر وٹفورڈ ٹیم، حاجی منیر، طاہر مقصود،حاجی زریں صاحب، جمیل منہاس اورعمران صاحب کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ جبکہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کی ٹیم، محمد ظفیر بھٹی، حبیب رشید، عمر حیات راجہ، افتخار وارثی، مسرت عزیز، سہیل سیلی، شاہد ہاشمی ، اسد بشیر اور محمد نصیر راجہ نے بھی میلے کی نشرو اشاعت اور انتظامات میں اپنا بھر پور حصہ ڈالا ان سب کی خدمات پرپوٹھوار ڈاٹ کوم ان سب کا شکریہ ادا کرتی ہے۔

ناظرین واضح رہے کہ آج صرف میلے کی مختصر جھلکیاں پیش کی جارہی ہیں۔ ہر ایونٹ کی ویڈیوز اور میلے میں شریک افراد کے انٹرویوز ہر دن تھوڑے تھوڑے کر کے ناظرین کے لئے پیش کیے جائیں گے۔

Watford; Thousands of people came out on sunny beautiful day in Watford for Pothwar.com mela, Where Paistan independence day was celebrated along with with Pothwar.om 18th anniversary.

The mela was officially opened by Mayor of Slough Ishrat Shah with dancing horse led on Dhol beat as the Mayor cut the ribbon along with social and political personalities of Watford and surrounding region.

Pakistan independence day was celebrated with cake being cut and national anthem being sung by public, The games started with Volleyball, Cricket, Tennis, Kabbadi, Naiza baazi as well as displays of Eagle, Tittar and greyhound dog. Sammi dance was performed by Chesham team led by Latif sahib.

Guest of honour was Ch M Sadique, Lord Qurban, Lord Sheikh, Mayor of Slough, Mayor of Luton, deputy Mayor of Watford, Barroness Dorothy Thorne, Nasir Warsi and Zareen Bhatti.

Special thanks were made Organising team of Haji Munir, Tahir Maqsood, Haji Zareen, Jameel Minhas and Imran Sb, Pothwar.com team, Mohammad Naseer Raja, Umar Hayat, MZ Bhatti MBE, Habib Rashid, Iftikhar Warsi, Mussarat Aziz, Sohail Seli, Shahid Hashmi and Asad Bashir.

اسلامو فوبیا، مانچسٹر یونیورسٹی کی طالبہ ریشم خان پر ایسٹ لندن کے علاقے بیکٹن میں تیزاب پھینک دیا گیا

مجرم بھاگ جانے میں کامیاب، تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی

London Acid Attack: Resham Khan Suffers Brutal Attack

some image some image

Above; Resham Khan before and after acid attack...

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ مانچسٹر یونیورسٹی کی طالبہ ریشم خان پر ایسٹ لندن کے علاقے بیکٹن میں تیزاب پھینک دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ریشم خان اپنے کزن کے ساتھ لندن میں اپنی گاڑی میں گھوم رہی تھی اور گاڑی کے شیشے گرمی کا باعث نیچے اتار رکھے تھے۔ ان کی گاڑی جب شہر میں ٹریفک لائٹس پر رکی اور جب تک وہ سگنل کھلنے کا انتظار کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں ایک شخص نے کھلے شیشے سے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔

ریشم خان کا کہنا تھا کہ جب اس کے کپڑے جلنا شروع ہوئے تن اسے احساس ہوا اس کے ساتھ کیا رونما ہوچکا ہے۔اس دوران انھوں نے تکلیف کے گہرے احساس کے دوران اپنی گاڑی بھگانا چاہی کیونکہ ان پر حملہ آور شخص دوسری طرف بیٹھے جمیل مختار پر بھی تیزاب پھینکنا چاہتا تھا مگر ان کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔

ریشم کا کہنا تھا کہ اے تیرہ روڈ پر انھیں اپنے کپڑے اتارنے پڑے اور پاس سے گزرنے والی گاڑیوں سے مدد کی درخواست کرنی پڑی اسی دوران ایک رحم دل شخص نے انھیں ہسپتال پہنچایاجہاں مسٹر مختار کو بے ہوش کر کے اس کا علاج شروع کر دیا گیا اور ریشم کے چہرے کی گرافٹنگ کی گئی۔

میٹروپولیٹن پولیس کے نمائندے کے مطابق ریشم اور مختار کی گاڑی پارک ہوئی تھی جب ایک شخص نے کھلے شیشے سے ان پر تیزابی مواد پھینکا۔اسی دوران انھوں نے گاڑی بھگائی اور مجرم بھاگ گیا۔پولیس نے نیو ہیم کے علاقے میں ایک گھر پر ریڈ کیا مگر تا حال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

London ; Manchester Met university student Resham Khan, and her cousin Jameel Muhktar, were driving through Beckton, east London, when they were stopped by a red traffic light. They had the windows down and were playing music, feeling celebratory after not having seen each other since Miss Khan returned from an exchange year in Cyprus. As they waited for the lights to change a man threw a corrosive substance through the open window and into Miss Khan's face - before going round to the driver's side and throwing more acid at Mr Muhktar.

Miss Khan, a Business Management student, said she watched her clothes burn away as she struggled with the 'excruciating' pain. She said she and her cousin, 37, tried to drive away from their attacker but crashed the car when the 'pain took over'. They were forced to strip naked on the A13 as they begged passersby for water to help ease the agony. A kind stranger drove the pair to hospital where Mr Muhktar was put into an induced coma while Miss Khan was given a skin graft.

The Metropolitan Police are investigating but no arrests have yet been made. As they recover from their horrific ordeal, Miss Khan bravely shared her story on social media. Mr Muhktar was more badly burnt by the substance and so was put into an induced coma by doctors, which he has now woken up from.

A spokesman from the Met Police said: 'It is believed the victims were inside a parked car when a man approached and threw a corrosive substance through the open window. The car made off pursued by the suspect on foot before it collided with a fence. The suspect made off. 'Officers from Newham and the Met's Territorial Support Group executed a warrant at an address in E16 on the afternoon of 21 June in connection with the incident. There were no arrests

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں نامعلوم شرپسندوں نے مسجد کو نذر آتش کر کے شہید کر دیا

ڈرولسڈن روڈ پر نسفت اسلامک سینٹر کو آگ لگا دی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مسجد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

Manchester Masjid left gutted after suspected arson attack

some image some image

برمنگھم شاہد ہاشمی پوٹھوھارڈاٹ کوم مانچسٹر----   برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں نامعلوم شرپسندوں نے مسجد کو نذر آتش کر کے شہید کر دیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق رات گئے نامعلوم شرپسندوں نے ڈرولسڈن روڈ پر نسفت اسلامک سینٹر کو آگ لگا دی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مسجد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ بجھانے والی گاڑیوں اور عملے کے درجنوں افراد نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں مسجد کا زیادہ تر حصہ جل کر خاکستر ہوگیا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے چھت کو بھی پھاڑ دیا جبکہ دھویں کے بادل اور آگ کے شعلے دور سے نظر آرہے تھے۔

واقعے کے وقت مسجد میں کوئی شخص موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے جانی نقصان نہیں ہوا تاہم مسجد میں نماز کا مرکزی ہال اور متصل مدرسے کے 3 کلاس رومز اور اس میں موجود تمام سامان جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ واقعے پر برطانیہ کی پوری مسلم کمیونٹی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

مسجد کے ترجمان نے بتایا کہ انہیں رات گئے فون کال موصول ہوئی کہ مسجد پر حملہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین سال میں اسی مسجد پر حملے کا یہ تیسرا واقعہ ہے، پہلے بھی نامعلوم بدبختوں نے مسجد میں خنزیر کے سر کاٹ کر پھینکے تھے اور عمارت کے باہر پیشاب کیا تھا جب کہ نئے حملے کے بعد نمازیوں کی جان کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

Manchester - A Masjid in Manchester has been gutted by fire after the third suspected arson attack in three years. Detectives have launched an investigation into the suspicious blaze that tore through the Nasfat Islamic Centre, in north-east Manchester.

Thirty firefighters were called to tackle the fire, the third to hit the building since 2014, according to a masjid spokesman. who said it had previously been targeted by vandals who threw two pigs’ heads inside and urinated outside the building in the past year.

The suspected arson attack is expected to be treated as a possible hate crime by Greater Manchester police, which says it is taking a zero-tolerance approach following a huge spike in Islamophobic incidents since the Manchester Arena attack.

The main prayer hall and three classrooms had been gutted in the fire, which ripped through the roof of the building in Newton Heath.

پاکستان سے برطانیہ ہیروئن سمگل کرنے کے جرم میں محمد اظہر کو چھ سال جیل کی سزا

محمد اظہر نے نو کلو ہیروئن سوٹ کیس کے نیچے چھپا رکھی تھی

Drug smuggler M Mazher of Birmingham Jailed for six years

some image

برمنگھم، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ برمنگھم کے محمد اظہر کو برطانیہ میں ایک اعشاریہ دو ملین پونڈ مالیت کی ہیروئن سمگل کرتے ہوئے دھر لیا گیا اور عدالت میں جرم ثابت ہونے پر چھ سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔بتایا گیا کہ دوحہ سے برطانیہ آتے ہوئے محمد اظہر نے اپنے سوٹ کیسوں میں نو کلو سے زائد ہیروئن چھپا کر لانے کی کوشش کی۔

بارڈر فورس آفیسرز کی جانب سے روکے جانے اور تلاشی لیے جانے پر پتہ چلا کہ مظہر نے بڑی مقدار میں ہیروئن چھپا رکھی ہے۔اس کے علاوہ لکڑی کے ایک کھوکھلے فریم میں بھی بڑی مقدار میں ہیروئن بھر ی ہوئی تھی۔ آفیسرز کے مطابق محمد مظہر نے پاکستان سے دوحہ اور وہاں سے لندن کی فلائٹ لے رکھی تھی۔

بارڈر پولیس کے یونٹ نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے مزید تفتیش کے دوران مظہر پر فرد جرم ثابت ہو گئی۔ہیتھرو ائرپورٹ پر موجود بارڈر فورس کے ڈائریکٹر کے مطابق بارڈر فورس کے انسپکٹر انتہائی تجربہ کار اور ہوشیار ہیں اور انھوں نے اتنی بڑی مقدار میں نہ صرف یہ ڈرگز پکڑیں بلکہ مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

Birmingham; Mohammed Mazhar from Birmingham has been jailed for trying to bring £1.2 million of heroin into the UK via Heathrow Airport in the bottom of his suitcase. Mohammed Mazhar, 48, of Bordesley Green East, was sentenced to six years imprisonment when he appeared at Isleworth Crown Court.

Mazhar was stopped by Border Force officer, when he arrived at the Heathrow airport’s Terminal 4 on a flight from Pakistan which travelled via Doha. During a search of baggage Border Force officers discovered heroin which had been hidden in the bottom of his suitcase.

Further drugs were found concealed in a hollowed out wooden frame he was carrying in his luggage. More than nine kilos of the Class A drug was discovered which had an estimated street value of £1.2 million.

The case was referred to the National Crime Agency’s (NCA) Border Policing Command and, following questioning, Mazhar was charged with attempting to import a Class A drug. Phil Douglas, Director, Border Force Heathrow, said: “The expertise of Border Force officers not only kept these dangerous drugs off the UK’s streets, but was also the vital first step in bringing Mazhar to justice.

ٹریزا مے کا سادہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے باوجود شمالی آئر لینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے ساتھ ملکر حکومت بنانے کا اعلان

برطانوی الیکشن میں بارہ پاکستانی نژاد امیدواروں نے میدان مار لیا

UK 2017 election result; Theresa May claims Conservative government supported by DUP

12 Pakistani-origin candidates who won in the UK election

some image some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔۔۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اعلان کیا ہے کہ وہ حالیہ انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے باوجود شمالی آئرلینڈ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے ساتھ نئی حکومت بنا رہی ہیں۔ ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے حوالے سے اہم مذاکرات دس روز بعد مقرر کردہ وقت پر ہی شروع ہوں گے۔

برطانوی عام انتخابات میں 30 پاکستانی نژاد امیدوار بھی میدان میں اترے جن میں 12 نے کامیابی حاصل کرلی ۔ برطانیہ کے عام انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں نے تقریباً 30 پاکستانی امیدوار کو ٹکٹ دیئے ۔ لیبر پارٹی کی جانب سے چودہ جبکہ لبرل ڈیموکریٹس نے چھ ، سکاٹش نیشنل پارٹی نے ایک ، پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو میدان میں اتارا ۔

بریڈفورڈ ویسٹ کی نشست پر لیبر پارٹی کی امیدوار ناز شاہ جبکہ بریڈفورڈ ایسٹ کے حلقے سے لیبر پارٹی کے ہی عمران حسین جیتے ہیں۔ برمنگھم پیری بار کے حلقے سے لیبر پارٹی کے خالد محمود جبکہ برمنگھم لیڈی وڈ سے لیبر پارٹی کی ہی شبانہ محمود ایک بار پھر کامیاب ہوئی ہیں۔ لیبر پارٹی کی یاسمین قریشی بولٹن ساؤتھ ایسٹ جب کہ لیبر پارٹی کی ڈاکٹر روزینہ ایلن خان ٹوٹنگ لندن سے دوبارہ رکنِ پارلیمان بنی ہیں۔ وارنگٹن ساؤتھ سے فیصل خورشید نے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ حکمران کنزرویٹو پارٹی کے تین امیدوار ساجد جاوید برومز گرو سے، نصرت غنی ویلڈن جبکہ رحمان چشتی گیلنگھم اور رینہم سے ایک بار پھر انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

London; Theresa May has said she will form a Conservative government backed by the DUP, claiming it can bring "certainty" to the UK. After visiting the Queen, the Prime Minister claimed there was a "strong relationship" between the two parties, amid concern over the DUP's controversial anti-abortion and anti-LGBT policies.

The UK voted for hung parliament after shock losses for the Conservatives in the 2017 general election. With 649 of 650 seats declared, the Tories had 318 seats - eight short of the figure needed to win outright - with Labour on 261, the SNP on 35 and Liberal Democrats on 12.

Jeremy Corbyn's party increase its share of the vote by 9.6 per cent, while the Tories were up 5.5 per cent, the Liberal Democrats, Greens and SNP saw small loses and Ukip's vote collapsed.

Paul Nuttall resigned as the party's leader after claiming its work "was not done", while Nicola Sturgeon and Tim Farron attacked Ms May for her decision to hold an election.

A large number of candidates with roots in Pakistan participated in the election in Britain on June 9. At least 12 have so far been successful. Amongst who won the 2017 elections are, Labour Party candidate Faisal Rashid was elected MP from Warrington South. Afzal Khan secured the seat for Manchester Gorton. Imran Hussain of the Labour Party in Bradford East. Labour Party’s Yasmin Qureshi won from Bolton. Rehman Chishti from the Conservative Party also won from Gillingham. Nusrat Ghani also secured a seat. Labour candidate Naz Shah in Bradford East. Labour Party candidate, Khalid Mahmood. Shabana Mahmood, a Labour Party candidate Birmingham, Ladywood. Rosena Allin-Khan of the Labour Party also won her seat in Tooting.Sajid Javed affiliated with the Conservative Party won his seat and Labour Party’s Mohammed Yasin defeated Conservative Richard Fuller in Bedford.

some image some image some image some image

From Left; Faisal Rashid, Afzal Khan, Imran Hussain and Naz Shah.

some image some image some image some image

From Left; Yasmin Qureshi, Khalid Mahmood, Rosena Allin-Khan and Sajid Javed.

some image some image some image some image

From Left; Rehaman Chishti, Nusrat Ghani, Mohammad Yasin and Shabana Mahmood.

اسلام آباد سے ہیتھرو آنے والے پی آئی اے کے جہاز کو عملے سمیت یو کے بارڈر ایجنسی نے منشیات سمگلنگ کے شبے میں روک لیا

Drugs seized from PIA plane at Heathrow Airport, Crew detained: UK authorities

some image

برمنگھم نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم شاہد ھاشمی ----  پی آئی اے کی پرواز پی کے 758 لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر پہنچی، جہاز سے مسافروں کے اترنے کے بعد ائیرپورٹ انتظامیہ نے جہاز کے عملے کو حراست میں لے کر کئی گھنٹے تک تفتیش کی ذرائع کے مطابق فلائیٹ کو خفیہ اطلاع پر روکا گیا تاہم تلاشی کے دوران عملے اور جہاز سے کچھ برآمد نہیں ہوا جس پر پروازکوکلیئرکردیا پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور کا کہنا ہے

کہ پولیس نے پائلٹ سمیت عملے کے 13 افراد کو حراست میں لیا تھا تاہم اب پی آئی اے کےعملے کو رہا کردیا گیا ہے جب کہ ہماری اکثر پروازوں کو تلاشی یا کسی اور بہانے سے تاخیر کا شکار کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پی آئی اے کا شیڈول بری طرح متاثر ہوتا ہے مالی نقصان کےعلاوہ بعض اوقات جرمانے بھی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے حکام نے واقعے پر برطانوی حکام سے وضاحت طلب کر لی ہے

اس کے علاوہ لندن میں پی آئی اے کے اسٹیشن منیجر ساجد اللہ سے واقعے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واقعے پر پائلٹ حامد گردیزی کا مؤقف اور لاگ بک میں لکھے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا جائے۔ دوسری جانب ترجمان برطانوی محکمہ داخلہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پی آئی اے عملے کے خلاف کارروائی برطانوی بارڈر ایجنسی نے کی قانون کے مطابق بارڈر ایجنسی براہ راست محکمہ داخلہ کو جوابدہ ہے اس لیے ضابطے کے تحت معاملے کی تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں

London - A Pakistan International Airlines (PIA) plane flying to Heathrow Airport was thoroughly searched and its 14 member crew detained by British authorities after landing in London. However, the National Crime Agency and UKBA agents, after searching the plane for approximately four hours, did not find anything. The crew was later released after being questioned but their passports were withheld by the UKBA, which stated that further questioning might take place.

According to conflicting news A large amount of heroin was seized from Pakistan International Airlines (PIA) PK-785, UK's National Crime Agency (NCA) confirmed the news. “National Crime Agency officers are investigating following the seizure of a large quantity of heroin found by Border Force officers onboard a flight from Pakistan at Heathrow on Monday, May 15. No arrests have been made, enquiries are ongoing,” an NCA spokesman told.

Total of 13 crew members of PIA PK-785 who had arrived from Islamabad were detained at the Heathrow Airport. The crew members were kept in detention for five hours, and according to UK Border Agency (UKBA) sources, information had been received from Pakistan that there were narcotics onboard the flight. According to the information, there was a suspicion that the crew might be involved and that narcotics were hidden in different panels and areas of the plane. The crew was released at 2 AM (GMT) after being questioned but their passports are still held by the UKBA which states that further questioning might take place.

The PIA crew said that the customs authorities carried out a thorough search going through each and every thing, adding they have no clue as to why such treatment was meted out to them.The crew said the authorities also questioned them, and inquired the crew what part of the plane were they assigned to.

There was a total of 16 crew member on the plane, they added.The crew said that the authorities have assured them that their passports, which remain confiscated, will be returned before tomorrow when the crew leaves for Pakistan. The airline is being defamed by giving out false information, the crew alleged. In a statement, the Metropolitan police said action against PIA crew members was taken by the UKBA which is directly dealt by the Home Office.

پاکستان میں اغوا ہونے والا برطانوی شہری شہزاد خان بازیاب، زبیر گل کو زبردست خراج تحسین

Shazad Khan of Manchester kidnapped in Attock is freed after 16 days in captivity

some image some image

سلاو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی)---- برطانیہ کے شہر اولڈہم سے تعلق رکھنے والا اٹک کا رہائشی شہزاد خان اغوا کاروں کے شکنجے سے بازیاب- تفصیلات کے مطابق شہزاد خان جو کہ برطانیہ کے شہر اولڈہم میں مقیم تھا اور فیملی کے ساتھ چھٹیاں گزارنے پاکستان گیا تھا - اغوا کاروں نے اس اس کے گھر حملہ کر دیا اور نقدی،زیورات اور قیمتی اشیاء سے محروم کر دیا اور جاتے ہوئے شہزاد خان کو بھی اغوا کر کے ساتھ لے گئے اور بعد میں شہزاد خان کے والد دراز خان سے پانچ کروڑ تاوان کا مطالبہ کر دیا -

دراز خان نے بغیر وقت ضائع کیے برطانیہ میں مقیم اپنے دوست الیاس سے رابطہ کیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور مدد کی اپیل بھی کی- دارز خان کے دوست نے فوری طور پر پاکستان میں مقیم اوورسیزز کمیشنر اسلام آباد زبیر گل سے رابطہ کیا اور شہزاد خان کے اغوا ہونے کی پوری تفصیل بتائی-

زبیر گل نے وزیراعظم میاں نواز شریف کی توجہ اس معاملے پر دلوائی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے حکم پر آر پی او راولپنڈی نے کاروائی کرتے ہوئے دونوں ہفتے کے اندر شہزاد خان کو اغواء کاروں کے نرغے سے بحفاظت بازیاب کرا لیا - شہزاد خان کی بازیابی کے بعد زبیر گل خود اس کے گھر واقع اٹک گئے اور شہزاد خان اور ان کے والد دراز خان کو مبارک باد دی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا

کہ میاں نواز شریف کے بے مشکور ہیں جنہوں بروقت کارروائی کا حکم دیا اور اب شہزاد خان بخیرو عافیت ہمارے ساتھ موجود ہیں- شہزاد خان کے والد دراز خان نے میاں نواز شریف، زبیر گل اور پولیس کے اعلی حکام اور برطانوی اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا- ادھر برطانیہ میں مقیم اوورسیزز پاکستانیوں کی جانب سے زبیر گل کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا کہ زبیر گل نے بہت بڑا کام کیا اور امید ہے اسی طرح اوورسیزز پاکستانیوں کے مسائل حل کرتے رہیں گے-

Slough; British Pakistani national Shazad Khan from Oldham, Manchester was kidnapped while on a visiting Pothwar region of Attock, his native town in Pakistan; he was accompanied by his family.

Shazad's house was raided by dacoits, who not only took money and jewellery with them but also kidnapped him. His kidnappers later demanded Rs05 crore ransom money for his safe release. Shazad's father Daras Khan, contacted his friend M Ilyas in UK, who then contacted Overseas Commissioner Zubair Gul. The matter was brought to the attention of PM Nawaz Sharif and after a recovery operation led by RPO, Rawalpindi, Shahzad Khan, returned home after 16 days in captivity.

Speaking to pothwar.com at his residence Daras Khan, father of Shazad, said, "I would like to thank PM Nawaz Sharif and Zubair Gul, they have helped us a lot for a safe return of my son, and I would also like to thank the British Embassy and all other relevant departments which have helped us a lot throughout this difficult time.

Zubair Gul visited Shazad Khan and his family in Attock. Speaking to the media, he said, "It is my responsibility to sort out the problems of overseas Pakistanis in Pakistan or anywhere in the world, and I am glad that this matter is resolved

لندن میں ایک وین مسجد سے نکلنے والے نمازیوں پر چڑھ دوڑی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی

اس واقعے کے بعد ایک 48 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے

One dead 10 people left injured after terrorist strike worshippers leaving Masjid in London

some image some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ لندن میں ایک وین مسجد سے نکلنے والے نمازیوں پر چڑھ دوڑی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ ایک وین اس وقت فٹ پاتھ پر چلنے والے لوگوں پر چڑھ دوڑی جب وہ آدھی رات کے قریب سیون سسٹرز روڈ پر فنزبری پارک کی مسجد میں نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔

اس واقعے کے بعد ایک 48 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔مسلم کونسل برطانیہ کا کہنا ہے کہ وین ڈرائیور نے جان بوجھ کر گاڑی لوگوں پر چڑھا دی۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ اسلام دشمنی کا شدت پسندانہ مظہر ہے اور اس نے مساجد کے گرد مزید سکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ خاصا مصروف تھا کیونکہ رمضان کے سبب بہت سے لوگ نماز ادا کرنے آئے تھے۔وزیرِ اعظم تھریسا مے نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے جس میں اس واقعے پر بات کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اس واقعے کو ممکنہ دہشت گردی قرار دے رہی ہے۔برطانوی وزیرِ اعظم نے اسے ہولناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میری ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو زخمی ہوئے ہیں اور ان کے عزیزوں کے ساتھ ہیں۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ سیون سسٹرز روڈ کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ہنگامی خدمات کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس حادثے کی ایک آن لائن ویڈیو میں لوگوں کو زخمیوں کی مدد کرتے ہوئے اور ایک آدمی ایک زخمی کو ہنگامی طبی امداد دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

London; One man died and 10 people were left injured after a man drove a van into worshippers close to the Muslim Welfare House in Finsbury Park. A white man aged 48 has been arrested on suspicion of attempted murder. Metropolitan Police Commissioner Cressida Dick said the incident was "quite clearly an attack on Muslims".

Prime Minister Theresa May says the terror attack near a north London masjid is "every bit as sickening" as other recent ones to hit the UK. She said the community would see more police, including armed officers, in the area, "particularly around religious establishments".

The attack happened shortly after midnight when a group of people helping a man who had collapsed on the pavement were hit by the van. The man has died..

It is the fourth terror attack in the UK in three months, after incidents in Westminster, Manchester and on London Bridge. Police said all the victims of the attack were Muslim and many were believed to have just left evening prayers after breaking the Ramadan fast.

some image

بیڈفورڈ میں چار افراد کو شدید زخمی کرنے کے جرم میں نثار احمد کو جیل سزا کا سامنا

Nisar Ahmed jailed after brutal knife attack on four people in Bedford

some image

لوٹن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ بتیس سالہ پاکستانی نژاد نثار احمد کو پندرہ سال جیل کی سزا سنا دی گئی۔ نثار احمد نے چار افراد کو شدید مضروب کیا ان کے چہرے ہاتھوں وار جسم کے دیگر اعضا پر چاقو سے وار کئے۔جن کے نتیجے ان افراد کو جان لیوا چوٹیں آئیں۔

عدالت میں بتایا گیا کہ نثار احمد نے ایک گرپ میں کھڑے ان افراد پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین افراد کو چاقو کے واروں سے شدید جسمانی چوٹیں آئیں ۔ عدالت نے نثار احمد کو جان بوجھ کر حملہ کرنے اور زخمی کرنے کے جرم کے ساتھ ساتھ اپنے پاس چاقو رکھنے کے جرائم میں مجومعی طور پر پندرہ سال کی سزا سنائی۔

جج کا کہنا تھا کہ نثار جیسے لوگوں کو رہائی کے بعد بھی پولیس کی آبزرویشن میں رکھنا چاہیئے اس لئے نثار کو رہائی کے بعد چار سال لائسنس پر رکھا جائے گا۔تفتیشی پولیس آفیس کا کہنا تھا کہ بلا وجہ دوسروں پر جان لیوا حملہ کرنے والوں کو ایسی ہی لمبی سزا سنائی جانی چاہیئے۔

Luton; Nisar Ahmed described as a 'dangerous' man has been locked up for 15 years after a brutal attack which left four people with life-changing injuries. Nisar Ahmed, 32, of Hurst Grove, violently assaulted the group, inflicting large slash wounds to their faces, hands and bodies.

Following a trial in June Ahmed was found guilty of two counts of causing grievous bodily harm with intent, one count of causing grievous bodily harm and one count of possession of a knife. At Luton Crown Court, the judge branded Ahmed as a dangerous offender and ruled that on his release he will spend an extended period of time on licence of four years.

Investigation Officer Julia Hinson said: "I'm pleased Ahmed has been handed a lengthy sentence and will face a substantial time behind bars for his nasty and vicious actions. Violence will not be tolerated in Bedfordshire and we are committed to taking dangerous people off our streets.

نارتھ یارکشائر میں نیا شادی شدہ برٹش پاکستانی ڈوب کر جاں بحق

Tragic dad-to-be Dani Khan died after jumping from waterfall in Middlesborough

some image some image

لندن(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) ----برطانیہ کے علاقے نارتھ یارکشائر کے علاقے سویلڈیل کے قریب ایک تازہ پانی کے تالاب میں نہاتے ہوئے پاکستانی نژاد نوجوان دانی خان ڈوب کر جاں بحق ہوگیا-

تفصیلات کے مطابق پاکستانی نژاد دانی خان جس کی اسی سال شادی ہوئی تھی دوستوں کے ساتھ تفریحی مقام پر سیر کرنے کے لیے گیا جب ایک آٹھ فٹ گہرے تالاب میں نہانے کے لیے اترا اور جان کی بازی ہار گیا

نوجوان دانی خان اچھا تہراک نہیں تھا مگر دوستوں کے اکسانے پر پانی میں کود گیا دوستوں کے مطابق دانی خان جب پانی میں اترا تو ایک بار باہر آیا ہم سمجھے کہ وہ تیر سکتا ہے ہم اس کی طرف پیٹھ کر کے ہنسی مذاق کرنے لگے اور بعد میں پتا چلا کہ وہ ڈوب چکا ہے

دانی اور اس کے دوست مراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جیمز کوک یونیورسٹی ہسپتال میں لایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا نوجوان کے سوگواران خاندان کا کہنا ہے کے دانی کی بیوی حاملہ تھی دانی کی شادی کو نظر لگ گئی - دانی کی موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی

Middlesbrough; A teenager who died after diving off a waterfall at a Yorkshire beauty spot was due to become a father, his devastated friends have revealed. Dani Khan, 19, from Middlesbrough, was one of four friends who went swimming during Friday's heat wave.

But he tragically passed away after diving over a cliff into a plunge pool below in a bid to cool off in the warm weather. His friends desperately tried to keep him above the water level but could not keep a hold of him. He was underwater for 15 minutes before being pulled out and airlifted to James Cook Hospital where he was pronounced dead.

Devastated friend Ayaz Ali, 18, revealed Dani was married and was due to have a baby with his partner. Rescuers arrived the scene at the Wain Wath waterfall, on the River Swale, near Keld, in Swaledale at about 5pm. The four terrified friends were pulled from the water by crews including fire fighters and mountain rescue teams.

برطانیہ میں حاجیوں سے فراڈ مہنگا پڑ گیا ، حج ٹوور فرم کو تینتالیس ہزار پاونڈ جرمانہ

Travel firm Holy Makkah Tours fined for Hajj fraud in Birmingham

some image

برمنگھم( نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام , افتخار وارثی)---- برطانیہ کے علاقے برمنگھم میں ایک حج ٹوور فرم کو بھاری جرمانہ کر دیا گیا تفصیلات کے مطابق اسلام فریڈم لمیٹڈ نامی کمپنی کو صارفین کو گمراہ کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی-

کمپنی ہولی مکہ ٹوورز کے نام سے کوونٹری روڈ پر واقع ہے کمپنی کی اپنی ویب سائٹ پر ATOL پروٹیکشن کا صارفین کو کہا جب کے ان ٹریڈنگ کے معیار پر پورا نہیں اتر رہی تھی کمپنی اور اس کے ڈایریکٹر شاہ شاہین چوہدری نے صارفین سے دھوکا کرنے کا اعتراف کر لیا

جس پر کمپنی اور اس کے ڈایریکٹر کو مجموعی طور پر تینتالیس ہزار پاونڈ جرمانہ سنایا گیا-

یاد رہے کہ ہر سال حاجیوں سے فراڈ ہوتا ہے برطانیہ ہو یا پاکستان یہ لوگ حاجیوں کو بھی نہیں بخشتے جو اللہ کے گھر حاضری کے لیے جاتے ہیں حالانکہ تمام ٹوورز کو عمرہ اور حج کے لیے جانیوالے صارفین سے تعاون کرنا چاہیے انکو ڈسکاونٹ دیناچاہیے مگر یہ لوگ کھال اتارتے ہیں ان کو کوئی خوف خدا نہیں-

Birmingham; Islam Freedom Limited, which is linked to Holy Makkah Tours Limited which traded in part from Birmingham, have been successfully prosecuted following an investigation by Trading Standards officers in Birmingham, assisted by City of London Police, as part of a national project to tackle Hajj and Umrah fraud.

Islam Freedom Limited, which was based 34 Green Street, Newham, was found guilty of five offences at Birmingham Crown Court on Thursday. The company was fined £10,000 and ordered to pay £5,000 in costs. Company director Shah Shahin Chowdhury, 44, of Hazelbeech Road, West Bromwich, was also found guilty of five offences.

He was fined £10,000 and ordered to pay £5,000 in costs, and was disqualified for four years from holding any directorship. He was also ordered to pay £13,000 within three months pursuant to a confiscation order made under Proceeds of Crime Act.

Also Holy Makkah Tours Limited and its director Mohammed Suba Ibn Nozir admitted seven offences under the legislation and were ordered to pay a total of £71,417 at Birmingham Crown Court last month.

فیس بک پر ہیروئین ڈیل مکمل ہونے کی بڑھک مارنے والے محمد جبار کو جیل بھیج دیا گیا

Drug dealer M Jabbar who brag about heroin deals on Face book jailed

some image some image some image

Mohammed Rafique and Mohammed Jabbar

مانچسٹر، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ ، عاصمہ نورین۔۔۔۔۔۔ محمد جبار نامی ڈرگ ڈیلر کو سونے کے تخت پر بیٹھ کر دو لاکھ پچھتر ہزار پونڈز کی ڈرگ ڈیل مکمل ہونے پر اپنے دوستوں کے سامنے فیس بک پر بڑھک مارنے کے کچھ ہی دنوں میں دھر لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ چار افراد کے گینگ کوہیروئن اور کوکین کے کیس میں پچاس سال کی مجموعی سزا سنائی گئی ہے۔

محمد جبار کی سونے کے تخت پر بیٹھ کر لی گئی تصویر پولیس نے محفوظ کر لی جبکہ اسی گینگ کے دوسرے ممبر نے چہرے کو نقاب میں چھپا کر نیچے یہ کمنٹ دیا کہ میں وہ کرنے جا رہا ہوں جس کے کرنے پر مجھے پینتیس سال کی جیل ہو سکتی ہے۔

ان تصاویر کے فیس بک پر پوسٹ ہوتے ساتھ ہی پولیس نے دوسرے روز کارروائی کی جس دوران چار افراد کا یہ گینگ مانچسٹر سے گلاسگو ہیروئن منتقل کرنے جا رہا تھا۔انھوں نے کتوں کے کھانے والے ڈبوں اور واشنگ پاوڈر کے ڈبوں کے اندر ڈرگز چھپا رکھی تھیں۔جس کا وزن اڑھائی کلو تھا۔

محمد جبار کے فون پر مڈل ایسٹ میں اپنے ساتھی کے ساتھ کی گئی گفتگو کا ریکارڈ بھی ملا جس نے اس نے ڈیڑھ لاکھ ڈرگز کی ڈیل کا شو آف کیا تھا۔چاروں افراد کے اس گینگ کو اقرار جرم کے بعد جیل کی سزا سنائی گئی۔ جس میں محمد جبار، محمد رفیق، کران اور کلورلی شامل ہیں۔

Manchester; A drug dealer posed on a gold throne before being caged for stashing £275,000 of drugs in dog treats. Mohammed Jabbar was one of four members of a drug dealing gang banged up for almost 50 years after planning to flood the streets with cocaine and heroin.

He was pictured posing on a gold throne wearing shades and smiling in a photo seized by police. Another crook took a picture of himself wearing a balaclava and joked "for what I’m about to do I could get like 35!" before embarking on his last deal.

The next day, cops swooped on the gang as they drove the stash of drugs from Manchester to Glasgow on July 25 last year.They had two boxes of dog treats and one box of washing powder stuffed with 2.5 kilos of heroin.

Military encrypted phones revealed Jabbar had been speaking with a colleague in the Middle East, detailing the supply of heroin to Glasgow contact Jeremy Curran. He had boasted about having £150,000 worth of drugs.

The four men were jailed after they pleaded guilty to conspiracy to supply cocaine and heroin at Manchester Crown Court. Jabbar, 28, from Oldham was sentenced to 15 years and Curran, 34, from Glasgow was sentenced to 14 and a half years.

Mohammed Rafique, 41, from Cheetham Hill was sentenced to 12 years and Clorley, 25, from Heald Green was sentenced to seven years.

قومی کرکٹ کپتان سرفراز احمد کا انگلش کاؤنٹی یارک شائر سے معاہدہ ہوگیا

Pakistani community celebrate as Sarfraz Ahmed joins Yorkshire cricket club

some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ قومی کرکٹ کپتان سرفراز احمد کا انگلش کاؤنٹی یارک شائر سے معاہدہ ہوگیا۔ پی سی بی نے بھی کپتان کو این اوسی جاری کر دیا۔ وکٹ کیپر بیٹسمین 3 اگست سے کاؤنٹی سے 5 میچز کھیلیں گے۔ چیمپئنز ٹرافی کے فاتح کپتان سرفراز احمد پر کاؤنٹی کرکٹ کے دروازے بھی کھل گئے۔ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کے بعد پی سی بی نے سرفراز کو قومی ٹیسٹ کی قیادت بھی سونپ دی۔

سرفراز احمد کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے والے پاکستان کے پہلے وکٹ کیپر ہوں گے۔ یارک شائر نے سرفراز احمد سے آسٹریلیا کے پیٹر ہینڈز کومب کے متبادل کی حیثیت سے معاہدہ کیا ہے۔ جبکہ کاؤنٹی کے مقامی وکٹ کیپر جونی بیرسٹو انگلش ٹیم کے ساتھ مصروف ہیں۔ سرفراز احمد 27 جولائی کو انگلینڈ روانہ ہو رہے ہیں۔ وہ 3 اگست کو ڈربی شائر کے خلاف ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں کاؤنٹی ڈیبیو کریں گے۔ سرفراز احمد نے کہا کہ انگلش کاؤنٹی سے کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ ان کے لئے آف سیزن میں صلاحیتوں میں بہتری کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ یارکشائر سے کھیلنا اعزاز کی بات ہے، یونس خان اور انضمام بھی اس ٹیم سے کھیل چکے ہیں۔کائونٹی کھیل کر ہر کھلاڑی کی کارکردگی میں نکھار آتا ہے مجھے بھی اپنے پر وفیشنل کیرئیر کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ بطور کرکٹر اور کپتان ہر دن کچھ نیا سیکھتا ہوں ۔کاونٹی کے لئےپانچ میچز کھیلوں گا۔ کوشش ہوگی کہ اپنی کاونٹی کو سرخرو کرائوں اور فتوحات میں کردار ادا کروں۔

سرفراز احمد کائونٹی کرکٹ کھیلنے آئندہ ہفتے لیڈز جائیں گے۔اسٹار کرکٹر کا کہنا ہے کہ زندگی میں خواب تھا کہ ایک دن کائونٹی کرکٹ کھیلوں۔یارک شائر کائونٹی سے کھیل کر مجھے میرے خواب کی تعبیر مل گئی ہے۔

Leeds; Pakistan captain Sarfraz Ahmed has signed for Yorkshire as an overseas player for the NatWest T20 Blast. The Pakistani community in Yorkshire have welcomed the news and are looking forward to seeing their hero.

Sarfraz, captain of the Champions Trophy winning side a few weeks ago, replaces Australian Peter Handscomb, who is scheduled to attend a training camp ahead of Australia's tour of Bangladesh although that series could yet get caught up in the ongoing pay dispute.

Sarfraz, who has recently been appointed as Pakistan's Test captain, is expected to feature in five T20 Blast matches and has confirmed he is happy to keep wicket as required. His signing is subject to him gaining a work permit.

Yorkshire are currently second in the North Group of the Blast. They have won one, lost one, tied one and seen one match abandoned.

راشدہ سروغ نے نقاب پہننے سے منع کرنے پر بیٹی کے اسکول کی انتظامیہ پر مقدمہ کر دیا

Mother takes legal action against school over face veil ban

some image

برمنگھم شاہد ہاشمی پوٹھوارڈاٹ کوم۔۔۔۔۔۔ لندن: برطانوی دار الحکومت میں مسلمان خاتون نے نقاب پہننے سے منع کرنے پر بیٹی کے اسکول کی انتظامیہ پر مقدمہ کر دیا۔ تفصیل کے مطابق راشدہ سروغ نے اپنی بیٹی کے ہولینڈ پارک اسکول لندن کی انتظامیہ کے خلاف امتیازی سلوک کا کیس دائر کر دیا ہے۔

اسکول میں نئے طلبہ کے والدین کے اعزاز میں تقریب ہوئی جس میں باحجاب خاتون راشدہ نے بھی شرکت کی لیکن اسکول انتظامیہ نے انہیں نقاب اتارنے کا حکم دیا۔

انتظامیہ کے لوگ انہیں ایک کمرے میں لے گئے اور کہا کہ اسکول میں نقاب پہننے کی اجازت نہیں بصورت دیگر وہ واپس چلی جائیں۔ راشدہ نے کہا کہ انہیں اس حکم سے شدید صدمہ پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ نقاب پہننے پر لندن کی گلیوں میں لوگوں نے انہیں برا بھلا بھی کہا ہے اور گالیاں بھی دی ہیں لیکن اسکول میں پڑھے لکھے اور خود کو مہذب کہنے والے افراد کے رویے پر انہیں زیادہ افسوس ہوا جس کی وجہ سے انہوں نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔

London; Mum Rachida Serroukh has launched legal action against her daughter’s school, after being told she could not wear a face veil on its premises. Rachida Serroukh, 37, a single mother of three daughters, has begun a discrimination test case against the prestigious Holland Park school, dubbed the “socialist Eton”, in the Royal Borough of Kensington and Chelsea after she was told she would not be allowed to wear a face veil at the school.

At first Serroukh thought that the teacher who raised the veil issue had misunderstood and thought her daughter would be attending school in a face veil. “I explained clearly that my daughter wears a headscarf and would not be coming to school in a face veil. Then I realised she was talking about me not my daughter.”

Serroukh said the teacher then asked her to leave the school through the back exit, but she refused, explaining she needed to collect her daughter and would be leaving through the same door she had arrived – the school’s front entrance.

“I was very shaken and was in a state of shock about what had happened,” she said. “I had never experienced anything like this before. I have experienced name calling in the street from strangers about my veil but nothing like this had ever happened before. When I got home, I just broke down.”

Her solicitor, Attiq Malik of Liberty Law Solicitors, said the firm had drafted a letter to the school because it was a “straightforward” test case of discrimination on the grounds of religion. “The government constantly talks about British values. To me, those values include diversity and multiculturalism. If a school in London is doing this, what might be happening elsewhere?”

The school has not yet responded to repeated requests to comment; Kensington and Chelsea referred enquiries to the school. But in Wilson’s 13 July email, he referred to Serroukh’s account of the meeting with the teacher during the parents’ welcome evening, saying “we believe it to be factually inaccurate”.

عید الفطر کی تقریبات، ایک ہی مکتبہ فکر کے ٹی وی چینلز نے عوام کو دو عیدیں کرا دیں

عوام میں غم و غصہ، ٹی وی چینلز کی اس حرکت کا محاسبہ کیا جائے

TV Channels announcing eid day should be held responsible in UK

some image

Above; Takbeer channel announcing 2017 eid ul fitr day live on their tv channel..

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔۔۔ یوں تو برطانیہ میں دو عیدوں کا مسئلہ کئی عشروں سے چلا آرہا ہے ایک گروہ سعودیہ کے اعلان کے ساتھ عید مناتا ہے جبکہ دوسرا گروہ ہمیشہ انھیں غلط قرار دے کے چاند دیکھ کر عید منانے کا دعوٰی کرتا رہا ہے۔ مگر اس بار چاند دیکھ کر عید منانے والوں نے بھی عوام کے لئے مضحکہ خیز صورتحال کھڑی کر دی۔ان میں بعض مساجد نے تراویح کے بعد نمازیوں سے ہاتھ اٹھا کر اتوار یا پیر کو عید منانے کے لئے ووٹنگ کرنے کو کہا اور بعض نے اپنے مالی معامالات کی خاطر اتوار کو عید منانے کی ٹھانی کیونکہ چندہ دوسری مساجد کے ہاتھ جانے کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ واضح رہے کہ برمنگھم کی ایک بڑی مسجد میں عید کے روز نمازیوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے اور چندہ لاکھوں پونڈز کے حساب سے اکٹھا ہوتا ہے۔

مقامی مساجد کی اکثریت چاند کی رویت کے لئے کسی قسم کی ٹیکنالوجی یا ذرائع موجود نہ ہونے کے باعث یہ مساجد ٹی وی چینلز کی جانب سے کسی اعلان کی منتظر رہتی ہیں۔ اور جوں ہی یہ ٹی وہ چینلز بتاتے ہیں یہ مساجد بھی اپنے نمازیوں کو اس بارے آگاہ کر دیتی ہیں۔مگر جب اس بار انھی ٹی وی چینلز میں آپس میں اتفاق نہ ہونے کے باعث دو مختلف عیدوں کا اعلان ہوا تو عوام مساجسد کی کمیٹیوں اور اماموں پر چڑھ دوڑی۔ انھیں برا بھلا کہا گیا۔ حالانکہ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنے بڑوں پر انحصار کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔

جہاں تک چاند کی رویت کا مسئلہ ہے تو تمام اسلامی ممالک میں حکومت کی طرف سے ایک رویت ہال کمیٹی قائم کی جاتی ہے جو مختلف شہروں سے چاند کی رویت کا اہتمام کرتی اور عوام کو آگاہ کرتی ہے کسی ٹی وی چینل کو سارے عوام کا ٹھیکیدار بنا کر چاند دیکھنے کا اختیار نہیں دیا جاتا۔ مگر برطانیہ میں عوام کے چندے سے چلنے والے یہ چینلز اپنی من مانی سے صرف رمضان کے آغاز اور اختتام پر چاند کا مسئلہ کھڑا کرتے اور مسلمانوں میں انتشار کا سبب بنتے ہیں۔اور اس بار تو حد ہی کر دی کچھ مساجد سے رات بارہ بجے اعلان کیا گیا کہ چاند نظر آگیا ہے کل عید ہو گی۔ یعنی پہلے دن کا چاند جس کی عمر صرف تیس سے چالیس منٹ ہوتی ہے جس کے بعد وہ غروب ہو جاتا ہے وہی چاند رات بارہ بجے دوبارہ آ کر ان ٹی وی چینلز کو بتا گیا ہے کہ کل عید ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چونکہ پہلے یہ اعلان کیا جا چکا تھا کہ مراکش اور سائوتھ افریقہ میں چاند نظر نہیں آیا اس لئے اپنے چاند کی رویت کی دلیل کے لئے کہا گیا کہ نائجیریا میں چاند نظر آگیا ہے ۔اب کس نے نائیجیریا جا کر ان کے جھوٹ کی حقیقت کا پردہ چاک کرنا تھا۔

اس ساری صورتحال کے بعد یہ بھی ثابت ہوتا ہے جو اتنے سالوں سے ہمیں بتایا جاتا رہا کہ سعودی عرب کی پیروی کرنے والی مساجد بغیر چاند کے عید مناتی ہیں تو یہی کچھ اس طرف بھی ہوتا رہا ہے مگر عوام کو اعتماد میں لے کر۔ورنہ آدھے لوگوں کو چاند نظر آگیا تو باقی کیوں اس سعادت سے محروم رہے۔اب وقت آچکا ہے کہ یہ تمام مساجد ایک پلیٹ فارم بنا کر اپنی رویت کمیٹی بنائیں اور ٹی وی چینلز پر اعتبار کرنے کی بجائے برطانیہ بھر میں سے اپنے نمائندے منتخب کریں ۔ اور اس کمیٹی پر تمام علما کا اتفاق ہو۔ تبھی آئندہ اس قسم کی صورتحال سے بچا جاسکتا ہے۔

London; Post mortem is being carried out in UK after two eid fiasco that has left bitterness amongst Masjid Imams, committee members and the general public who are asking why this has happened.

Their has been growing tension in Masjids up and down the country in UK, Their were reports of unrest amongst several Masjids on issue of eid on which day it should fall Sunday or Monday.

Majority of Masjids rely on TV channels, such as Noor Tv, Takbeer and Ummah channel in announcing the eid day, Only few Masjids or Islamic centres have their own connection.

On the Eid Ul Fitr announcement, which has been blamed on TV station for making a decision on receiving advertisement and funds, their has been reports that the channel has had senior members resigning.

Hafiz Saeed Hashmi of Choa Khalsa, Kallar Syedan told pothwar.com that the Imam's and the Masjid committee members are facing anger of the public when they are not at all at the fault as they had relied on TV channels.

This years eid ul fitr announcement has left serious issues for Masjids not to rely on TV channels and to join united and creating a independent look out for moon like few Masjids who are currently doing this for many years.

For more please watch video below by Hafiz Saeed Hashmi of Choa Khalsa, Kallar Syedan, who is Imam at Shah Jahan, Woking Masjid.

کلرسیداں کے مشہور مقدمہ قتل ناہید اختر زوجہ محمدشبیرقریشی کے ملزم کوعدالت سے سزائے موت کاحکم

Man who murdered Nahid Akhtar of Norway in Kallar Syedan given death sentence

some image

Above; File photo of Nahid Akhtar being treated at THQ Kallar Syedan.

کلر سیداں؛ نمائندہ پوٹھوارڈاٹ کام ،اکرام الحق قریشی۔۔۔۔ کلرسیداں کے مشہور مقدمہ قتل ناہید اختر زوجہ محمدشبیرقریشی کے ملزم کوعدالت نے سزائے موت کاحکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق بھیائی مہرعلی خان کے محمدشبیرقریشی اپنی اہلیہ ناہید اخترکے ہمراہ ناروے میں مقیم تھا اس دوران انھوں نے کلرسیداں شہرمیں بھی اپناگھرتعمیرکرنے کافیصلہ کیا۔

جس کے لئے ناہید اخترناروے سے کلرسیداں منتقل ہوئی، اور انھوں نے مکان کی تعمیرشروع کرادی۔ اسی دوران ان کی ایک مزدور ذکاء اللہ ساکن موہڑہ وینس یوسی مغل تھانہ روات سے شناسائی ہوئی جس نے گھرتک رسائی حاصل کرلی۔ 23دسمبر2014ء کوذکاء اللہ نے ناہید اختر کے گھردستک دی اس نے دروازہ کھولا تو ملزم نے تیل ڈال کراسے آگ لگا دی،

جس سے وہ خود بھی جھلس گیاتھا، ناہید اختر کوہسپتال پہنچایاگیا جہاں اس نے اپنے نزعی بیان میں کہاکہ اسے آگ ذکاء اللہ نے لگائی۔ جس کے بعد ناہید اختر کوناروے منتقل کیاگیا جہاں اس نے دم توڑ دیا۔

ایڈیشل سیشن جج راولپنڈی حسنین رضا کی عدالت میں ملزم کے خلاف چالان پیش ہوا، استغاثہ کی جانب سے راجہ ستااللہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے دلائل دیئے ، عدالت نے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کوسزائے موت کاحکم سنادیا۔ یادرہے کہ ملزم پہلے ہی اڈیالہ جیل میں قیدہے۔

Norway / Kallar Syedan; Zika Ullah who was responable for torching and murdering Naheed Akhtar of Norway and village Bhiye Mehar Ali has been given death sentence, Additional session judge Rawalpindi, Husnain Raza gave the verdict.

Zika Ullah was arrested on 23rd December 2014 and sent to Adiyala jail, Nahid Akhtar, Mother of six who had arrived from Norway was thrown petrol at her face and set alight in a row in village Bhaiye Mehar Ali near Sakot. According to Kallar Syedan Police, Nahid Akhtar wife of Mohammad Shabbir had arrived alone from Norway to construct a house in her native village of Bhaiye Mehar Ali

Nahid Akhtars driver Zika Ullah of Morra Vaince in Rawat was demanding money and after being refused the money demand had threatened Nahid Akhtar.

Nahid Akhtar went to open her front door she was met by Zika Ullag who threw petrol at her and set alight with lighter, according to Nahid Akhtar who told pothwar.com in 2014 while she was being treated at THQ hospital in Kallar Syedan, She was later flown to Norway but died from her burns.

کونسلر عابد حسین بریڈفورڈ کے لارڈ مئیر منتخب

Councillor Abid Hussain elected as Lord Mayor of Bradford at City Hall

some image

بریڈفورڈ، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔۔۔ پاکستانی نژاد کونسلر عابد حسین بریڈفورڈ کے لارڈ مئیر منتخب کر لیے گئے۔وہ کیلی کے علاقے سے کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ اور مئیر کی پوسٹ پر آئندہ بارہ ماہ کے لئے خدمات انجام دیں گے۔واضح رہے کہ بریڈفورڈ میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور اسے بریڈفورڈستان بھی کہا جاتا ہے۔

مئیر عابد حسین کا کہنا تھا کہ وہ تمام مذاہب اور کمیونیٹیز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور تمام مذاہب میں ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیں گے۔ انھیں نوجوانوں کے ساتھ مل کر تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنے کی بھی خواہش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کیلی سے کونسلر منتخب ہوئے اور انھیں اس بات کی بھی زیادہ خوشی ہے کہ ڈپٹی لارڈ مئیر کا تعلق بھی کیلی کونسل سے ہے۔نئے لارڈ مئیر نے ان چیریٹی تنظیموں کا بھی اعلان کیا ہے جنھیں اپنی ٹرم کے دوران وہ سپورٹ کریں گے ان میں ڈوان سندروم ٹریننگ اور سپورٹ سروس کی تنظیم شامل ہے۔

نئے لارڈ مئیر نے پچھلے سال شروع ہونے والے پروجیکٹ کے لئے بھی اپنی سپورٹ کا اظہار کیا جس میں بریڈفورڈ کی تمام کمیونیٹیز ، مذاہب اور مختلف بیک گراونڈ رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا شامل ہے۔

Bradford; KEIGHLEY councillor Abid Hussain has been formally installed as the new Lord Mayor of Bradford. Cllr Hussain, who represents Keighley Central, will hold the civic post for 12 months. Largest number of Pothwari living in UK are settled in Bradford.

Mayor Abid Hussain said “I will be working with all faiths and will try to build some lovely bridges between the communities and all faiths and organisations, work with young people and in education. “I am particularly delighted to be a Lord Mayor from Keighley, and my Deputy Lord Mayor is also from Keighley.

The new Lord Mayor has unveiled the charities he will be supporting through the appeal. He is backing Bingley-based charity the Down Syndrome Training and Support Service, and the Wishing Well Appeal, which gives out small grants to smaller charities and organisations around the district.

The the new Lord Mayor has been so supportive of Believing in Bradford, a project we launched last year bringing a whole range of people from different backgrounds, faiths and communities together to represent the district.

رائل کورٹ آف جسٹس لندن کی جانب سے پاکستانی پیر محبوب اختر کی سزا چودہ سال سے کم کر کے گیارہ سال کر دی گئی

پہلے برمنگھم کراون کورٹ نے انھیں پراپرٹی فراڈ اور ٹیکس چوری کے جرم میں چودہ سال کی سزا سنائی تھی

Prison Sentence of British Pakistani Pir Mehboob Akhtar reduced to 11 years

some image

لندن، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔لاکھوں پونڈ مالیت کے پراپرٹی فراڈ اور ٹیکس چوری کے الزام میں گزشتہ سال چودہ سال کی سزا پانے والے پاکستانی نژاد پیر محبوب اختر کی سزا میں رائل کورٹ آف لندن نے اپیل کے بعدتین سال کی کمی کر دی ۔یعنی اب پیر محبوب اختر کو گیارہ سال قید بھگتنا ہوگی۔

برمنگھم کراون کورٹ نے تقریباً ایک ملین پونڈ کی پراپرٹی کے حوالے سے مارگیج کے لئے رقم فراہم کرنے کرنے والوں سے غلط بیانی کے الزام میں محبوب اختر کے ساتھ ان کے دیگر نو ساتھیوں جن میں ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی شامل تھی۔سزا سنائی تھی۔اس سزا کے خلاف محبوب اختر کے وکیل نے لندن ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔جو مسترد کر دی گئی۔مگر وکیل نے ہمت نہ ہاری اور اگلے مرحلے پر ایک اور اپیل کر دی۔جس کی سماعت کے بعد موجودہ نتیجہ سامنے آیا۔

اس مقدمے میں مذکورہ پیر کی اہلیہ پچپن سالہ خدیجہ اختر کو چار سال اور صاحبزادی رشبا منی اختر کو ساڑھے تین سال کی سزا سنائی گئی تھی اور یہ لوگ اب بھی جیل میں ہیں۔ان کے ساتھ جن سات دوسرے افراد کو سزائیں سنائی گئیں ان میں دو مارگیج بروکر بھی شامل ہیں۔ان لوگوں کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

LONDON: Three judges at the Royal Courts of Justice have reduced the prison sentence of British Pakistani faith healer Mehboob Akhtar, of Stoke-on-Trent, from 14 to 11 years. The judges, however, stated that his conviction last year regarding to multi-million-pound property fraud and tax-evasion scam was right on the mark.

In April last year, Mehboob Akhtar also known as Saint Pir Pandariman, was sentenced by the Birmingham Crown Court for 14 years along with nine others, including his wife and daughter, after being found guilty of lying to mortgage lenders to amass nearly £1m of property. After a lengthy trial, he was convicted of 11 charges including five of conspiracy to commit fraud and cheating Her Majesty's Revenue and Customs (HMRC) out of £271,000.

Pir Pandariman’s wife Khadija Akhtar, 55, was convicted of offences including cheating HMRC and conspiracy to obtain a money transfer by deception. She is currently in prison for four years. Pir Pandariman’s daughter, Rushbamani Akhtar, 30, was sentenced to three-and-a-half years after being convicted of entering into an arrangement to facilitate the acquisition, retention, use or control of criminal property and conspiracy to commit fraud.

Seven others - including two mortgage brokers - were sentenced after being convicted of charges including conspiracy to defraud and obtaining money transfers by deception. They were Mohammed Hussain, jailed for seven years; Alfan Ali, sentenced for six years; Mohammed Gaffar, jailed for five years; Naqiat Akhtar, jailed for three-and-a-half years;

رمضان المبارک کی سحری کے لئے بیدار ہونے والے مسلمانوں نے پڑوسیوں کی جانیں بچا کر امت کا سر فخر سے بلند کردیا

Muslims who were awake for Ramadan hailed as heroes for helping to save people at Grenfell Tower fire

some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ لندن کے گرین فیل ٹاورمیں آتشزدگی کے بعد متاثرہ خاندانوں کی مدد میں سحری کیلئے اٹھے مسلمان پیش پیش رہے،برطانوی میڈیا نے مسلمانوں کی ہمدردی اورمدد کے جذبے کوقابل تعریف قراردیا۔ لندن میں مسلمانوں کی ہمدردی اور بہادری کے چرچے، مسلم کیمونٹی کے قابل تقلید کردار کو برطانوی میڈیا نے خراج تحسین پیش کیا اور مسلم کمیونٹی برطانوی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بن گئی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق گرین فیل ٹاور میں آتشزدگی کے بعد مسلمانوں نے اپنے پڑوسیوں کی جان بچانے کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لندن گرینفل ٹاور میں آتشزدگی کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے سب سے پہلے افراد مسلمان تھے، انہوں نے اپنے سوئے ہوئے پڑوسیوں کے دروازوں کو کھٹکھٹاتے ہوئے عمارت میں لگی آگ کا بتا کر انہیں چوکنا کیا اور عمارت سے باہر نکلنے میں ان کی مدد کی۔ سحری کے لئے بیدارہونے والے مسلمانوں نے آگ کی لپیٹ میں آئی عمارت میں پھنسے لوگوں کو باہرنکالا، متاثرہ افراد کا کہنا تھا مسلمانوں نے نہ صرف جانیں بچائیں بلکہ کھانا اورکپڑے بھی فراہم کئے

ٹاور میں آگ رات کو تقریباً دو سے ڈھائی بجے کے درمیان لگی جب اکثر لوگ سو چکے ہوتے ہیں تاہم چونکہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے لہٰذا مسلمان خاندان سحری کی تیاریوں کی وجہ سے جاگ رہے تھے اور انہوں عمارت میں پھنسے لوگوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی میڈیا نے مسلم کیمونٹی کےکردار کوسراہتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا۔ جن لوگوں کے فلیٹ اس آتشزدگی کی لپیٹ میں آئے ان کے لئے مساجد کو کھول دیا گیا اور انہیں کھانے پینے کی اشیاءدی گئیں ، کئی مسلمانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر اپنے غیر ملکی پڑوسیوں کی جانیں بچائیں۔

گرین فال ٹاور کی رہائشی نادیہ یوسف نے کہا کہ وہ سحر کی تیاری میں مصروف تھیں کہ آگ کا پتہ چلا اور انہوں نے کئی مرد و خواتین اور بچوں کو بچانے میں ساتھیوں کی مدد کی ٹاور کی رہائشی راشدہ کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے وقت کئی مسلمان سحری کے لئے بیدار ہوا تھے، مسلمان نماز تراویح کے بعد سوتے بھی نہیں اس لئے کئی افراد کی جانیں اسی وجہ سے بچائی جا سکیں۔مسلمان مرد و خواتین ریسیکیو کی گاڑیوں اور ایمبولینسز کی آوازیں سن کر باہر نکلے تو انہیں آگ کے شعلے دکھائی دئیے انہوں نے فوری طور پر لوگوں کو اٹھانا شروع کردیا او راپنی جانوں پر کھیل کر آگ کے شعلوں میں گھری ہوئی فیملیز کو باہر نکالا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

London; Muslims who were awake for Ramadan have been hailed as heroes after helping to save their sleeping neighbours from the horrific Grenfell Tower fire. Residents who had stayed up for Sehri saw the inferno break out just before 1am.

People who were up for Swhri told of how they smelled smoke in the early hours of Wednesday morning and began running around, frantically banging on people's doors to wake them up. They were dubbed a 'lifeline' in helping to get people out of their flats, amid claims that fire alarms and sprinklers were not working in the west London block.

A number of Islamic cultural centres and mosques like the Al-Manaar Mosque have opened their doors to help those affected. The culural heritage centre wrote on Facebook: 'Al-Manaar Mosque and Centre are open for use as a temporary shelter by anyone affected by the fire at Grenfell Tower.

'Anyone of any faith or no faith is most welcome to walk in to have some rest, sleep, and or have some water and food. 'Al-Manaar staff and volunteers will also be trying to deliver water, dates, and other emergency essentials to the affected area. Our thoughts and prayers are with you during this difficult time.

'Most of the people I could see were Muslim. They have also been providing food and clothes.'Even far as people from Slough region have been collecting food and cloths to deliver to victims.

Prime Minister Theresa May has ordered a full public inquiry into the fire that engulfed a west London block of flats, killing at least 17 people. That figure is expected to rise, as fire chiefs have said they do not expect to find any more survivors in the burnt-out Grenfell Tower, in north Kensington.

شاہدہ اکبر ویکسم کورٹ پیرش کونسل سلاو کی چئرمین اور راجہ فیاض وائس چیرمین منتخب

Shaida Akbar of Kallar Syedan appointed Chairman of Wexham court parish council Slough

some image some image

سلاو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) شاہدہ اکبر کو چیرمین اور راجہ فیاض کو ویکسم کورٹ پیرش کونسل کا وائس چیرمین منتخب کر لیا گیا- اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد پیرش ہال ویکسم میں کیا گیا- جس میں لیبر پارٹی کے امیدوار برائے ایم پی، سابق مئیرز، کونسلرز سابق کونسلرز کے علاوہ سلاو کے مشہور بزنس مین و سیاسی و سماجی شخصیات نے بھر پور شرکت کی اور نومنتخب چئرمین شاہدہ اکبر اور وائس چیئرمین راجہ فیاض کو مبارک باد پیش کی-

اس تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اس کے بعد نومنتخب چئرمین شاہدہ اکبر وائس چیئرمین راجہ فیاض اور لیبر پارٹی کے امیدوار ایم پی نے خطابات کیے- نماہندہ پوٹھوار ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چئرمین شاہدہ اکبر اور وائس چیئرمین راجہ فیاض نے پیرش کونسل کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہم کمیونٹی کو بہتر سے بہتر سہولیات مہیا کریں گے

اور انشاءاللہ کمیونٹی کے تعاون سے اس کو مزید بہتر بنائیں گے- آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور مہمانوں کے لیے کھانے کا خصوصی بندوبست بھی کیا گیا تھا مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ کیجئے-

Slough; A Function was held in Slough where Shaida Akbar of village Chak Mirza in Kallar Syedan was elected Chairman of Wexham court parish council and Raja Fayaz of Nanda Jatal, Chauk Pindori in Kallar Syedan was elected vice Chairman.

Wexham Court Parish Hall supplies our local community in Slough with a wide choice of services and facilities. Local residents hold meeting to discuss currents issues in the region.

Large number of social and political personalities along with local residents attended the function, Shaida Akbar and Raja Fayaz told pothwar.com If you're looking for a modern venue in Slough, then why not try your local Parish Hall? Wexham Court Parish Hall is available for rent and is ideal for many uses, from weddings through to baby and toddler groups. We always support our local community.

Slough; For more pls see video below....

سیاسی پناہ کے نام پر برطانوی حکومت سے چون لاکھ سالانہ بٹورنے والے نوسربازجوڑے کو جیل کی سزا

جوڑے نے بنک میں تین کروڑ سینتیس لاکھ موجود ہونے کے باوجود خود کو مفلوک الحال ظاہر کیا

Wealthy Pakistani asylum seekers fraudulently claiming benefit are jailed in Manchester

some image

برمنگھم نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم شاہد ہاشمی----- برطانیہ میں سیاسی پناہ کے نا م پر مفادات بٹورنے والے شوہر نے جیل سے رہائی پائی تو اْس کی بیوی کو چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ عدالت کے اس فیصلے سے پاکستانی جوڑے کے بچے چائلڈکئیر میں جانے سے بچ گئے۔سید زیدی اور رضوانہ کمال نے برطانیہ کی عدالت میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی جس کی منظوری کے بعد انہوں نے دوہزار بارہ سے دوہزار سولہ تک تقریباً 54 لاکھ روپے سالانہ بٹورے۔ اس دوران ان کے بینک اکاونٹس میں تین کروڑ سینتیس لاکھ روپے موجود تھے اور دو گاڑیاں بھی زیر استعمال رہیں۔خفیہ اطلاع پر برطانوی محکمہ داخلہ نے پاکستانی جوڑے کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیاجبکہ مانچسٹر کی عدالت نے فراڈ ثابت ہونے پر میاں ،بیوی کو چھ چھ ماہ کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان میں ایک امیر خاندان سے تعلق رکھنے اور اپنی ذاتی جائیداد ہونے کے بوجود مذکورہ جوڑے نے سیاسی پناہ حاصل کرتے ہوئے برطانوی حکومت کو بیوقوف بنایا اور اور اپنے اثاثے ظاہر نہ کیے جبکہ ان کے بنک میں دو لاکھ پچاس ہزار پونڈ سے زائد رقم موجود تھی۔ اور محکمہ داخلہ سے غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھیں سیاسی پناہ نہ ملی تو پاکستان میں انھیں قتل کردیا جائے گا۔جس کی بنا پر نہ صرف ھوم آفس نے انھی شیلٹر مہیا کیا بلکہ سالانہ چالیس ہزار پونڈ سے زائد سوشل فنڈز بھی ادا کئے۔ مگر ایک خفیہ اطلاع پر برطانوی محکمہ داخلہ نے جب مذکورہ جوڑے کے خلاف کارروائی کی تو پتہ چلا کہ جوڑے کے پاس انتہائی مہنگی دو کاریں موجود ہیں اوران کے پاس وکٹورین زمانے کا ایک خوبصورت گھر بھی موجود ہے۔

Manchester; A WEALTHY Pakistani couple who fraudulently claimed £40,000 a year in benefits after claiming asylum in Britain were jailed six months apart so their children didn’t have to be taken into care.

Syed Zaidi, 41, and his wife Rizwana Kamal, 40, claimed asylum seekers’ benefit, child tax and working tax credits and child benefits for their three children – on top of free accommodation – worth £150,000, despite having more than £250,000 in the bank.

The university graduates claimed they were being persecuted in their native Pakistan and urged the Home Office to give them shelter, claiming £150,000 worth of handouts.

They splashed out on two cars and moved into a Victorian terraced house in Denton, near Manchester, but were caught after a tip-off to the Home Office. It is thought they won the right to stay in the UK during their four-year scam between 2012 and 2016.

At Minshull Street Crown Court, Manchester Judge Bernard Lever jailed the couple for ten months each after they admitted benefit fraud.

But in an unusual move he delayed locking up Kamal until this week, after her husband was released having served half his sentence. It means their children will not be taken into care at further expense to the taxpayer.

مانچسٹر کے نواحی شہر اولڈھم میں مسجد کو آگ لگانے کی کوشش

Masjid attacked by arsonists in Oldham in suspected revenge attack for Manchester bombing

some image

(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم،پنوں خان منہاس)۔۔۔۔ مانچسٹر کے نواحی شہر اولڈھم میں مسجد کو آگ لگانے کی کوشش۔ مانچسٹر میں ہونے والے خود کش حملے کے تین گھنٹے بعد نواحی شہر اولڈھم میں جامع قاسمیہ زاہدیہ اسلامک سنٹر کو لیٹر بکس کے ذریعے آگ لگانے کی کوشش گئی جو ایک راہ گیرکی اطلاع پر ناکام بنادی گئی ۔

انگریزی اخبار کے مطابق مسجد کے امام محمد صادق نے بتایا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ واقع مانچسٹر میں ہونے والے خود کش حملے کا ردعمل ہو۔ڈیل میل کے مطابق سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں بھی مرکزی جامع مسجد کے آس پاس پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے کہ مسجد کے بیرونی حصے پر کسی شرپسند نے داعش کے اسلامی سٹیٹ کا نعرہ لکھ دیا ہے۔

ایک اور ذرائع کے مطابق مانچسٹر کے واقع کے بعد برطانیہ کی مسلم کمیونی ٹی میں سخت پریشانی پائی جاتی ہے اور رمضان المبارک کی آمد سے صرف چند پہلے اس طرح کے واقعات مسلمانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔مساجد میں تراویح کے وقت سیکورٹی کے انتظامات پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔

Manchester; A mosque in Manchester was reportedly attacked just hours after a man detonated a bomb at an Ariana Grande concert which killed 22 people. The door of the Jamia Qasmia Zahidia Islamic Centre in Oldham, Greater Manchester, was set alight and badly damaged.

“At around 2.55am on Tuesday 23 May police were called to reports of an arson attack in Oldham,” a police told. “No one was injured and enquires are on-going.”

Pakistani taxi drivers praised for giving victims free lifts after blast At Victoria Park mosque in Manchester, where imams from across the city gathered to pray for the victims of the concert blast, an imam confirmed that there had been a suspected arson attack in Oldham later that night.

صالحہ محمود نے ماسٹر شیف گلوریا کے 2017 ایڈیشن میں کامیابی حاصل کر لی

Saliha Mahmood Ahmed of Watford wins master chef title 2017 in UK

some image

برمنگھم نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم شاہد ھاشمی ----   ڈاکٹر صالحہ آنتوں اور معدے کے امراض کی سپیشلسٹ ہیں لیکن کھانے پکانے اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے جیسے موضوعات پر کتابیں لکھنا ان کا خواب ہے ایک پاکستانی ڈاکٹر نے اپنے وطن کی ثقافت اورورثے سے تحریک لیتے ہوئے ایسٹ میٹس ویسٹ کے مینیو پر مبنی بی بی سی کا ماسٹر شیف مقابلہ جیت لیا ہے۔ 29 سالہ ڈاکٹر صالحہ محمود احمد نے جو انگلینڈ کے علاقے واٹفرڈ میں رہتی ہیں اس مقابلے میں جیوانا رائن اور سٹیو کیئلٹی کو شکست دی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے کھانے پکانے کے شوق اور میڈیکل کیریئر میں اشتراک سے موزوں ترین غذا تلاش کر کے ان افراد کی مدد کرنا چاہتی ہیں جنھیں خاص قسم کی خوراک کھانے سے امراض لگ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صالحہ محمود احمد نے جو انگلینڈ کے علاقے واٹفرڈ میں رہتی ہیں اس مقابلے میں جیوانا رائن اور سٹیو کیئلٹی کو شکست دی ڈاکٹر صالحہ نے جو ایک بچے کی ماں ہیں بی بی سی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مقابلے میں کھانا بنانے کے 64 شوقین افراد کو ہرایا۔ اس مقابلے میں انھوں نے اپنی آن کال شفٹوں کو ساتھیوں کے ساتھ تبدیل کیا تاکہ وہ مقابلے میں شریک رہ سکیں۔ ڈاکٹر صالحہ آنتوں اور معدے کے امراض کی سپیشلسٹ ہیں لیکن کھانے پکانے اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے جیسے موضوعات پر کتابیں لکھنا ان کا خواب ہے۔ اپنی جیت پر انھوں نے کہا ماسٹر شیف چیمپیئن بننا زبردست ہے۔ تعریفی الفاظ اس خوشی کو بیان نہیں کرسکتے۔ میں نے اپنی زندگی میں سب سے بہترین کام یہی کیا ہے اس میں بہت محنت شامل تھی۔ مجھے بہت جلدی کام شروع کرنا پڑتا تھا اور 13- 13 گھنٹوں کی شفٹوں کے بعد دیر گئے کھانے بنانے ہوتے تھے۔ اس بیچ نہ چھٹی ملتی تھی نہ نیند پوری ہوتی تھی

صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں شیف آف دی ایئر کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا جمعہ کی رات بی بی سی ون پر فائنل مقابلے میں تین امیدواروں کو تین حصوں پر مشتمل کھانا تین گھنٹوں میں تیار کر کے ججز کو چکھنے کے لیے دینا تھا۔ جج گریگ ویلس نے صالحہ کے بنے ہوئے کھانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا مشرق و مغرب کا امتزاج اور حیران کن پلیٹ پر فن کی خوبصورت تصویر جج جون ٹوروڈ نے کہا صالحہ یہاں آئیں اور انھوں نے اپنے کھانے پینے کی ثقافت کو اجزا میں تقسیم کیا اور پھر انھیں جدید اور انتہائی زبردست انداز کے ساتھ پھر سے یکجا کر دیا

صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں شیف آف دی ایئر کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا۔میرا تعلق ایک بڑی پاکستانی فیملی سے ہے اور ہم کھانوں کے ذریعے لوگوں کو یکجا کرتے ہیں۔ میری دادی اور نانی بڑی جذباتی تھیں اور روایتی پاکستانی کھانے پکاتی تھیں۔ میری امی بھی بہت اچھا کھانے پکاتی ہیں۔ ہمیں لوگوں کو کھانا کھلانا اچھا لگتا ہے۔ یہ ہمارے جینز میں ہے

Watford; A junior doctor has won the BBC's Masterchef title, with a menu of "East meets West" dishes inspired by her Pakistani heritage. Saliha Mahmood-Ahmed, 29, from Watford, beat off fellow-competitors Giovanna Ryan and Steve Kielty.

Saliha impressed judges John Torode and Gregg Wallace as a "class act". She said she wanted to combine her love of cooking with her medical career, by helping people with special dietary conditions find their ideal foods. The junior doctor and mum-of-one, who battled from 64 amateur cooks to take the prize, swapped on-call shifts with colleagues to ensure she could take part in the contest.

In her career, she specialises in gastroenterology - but she also dreams of writing cookbooks and tackling obesity. On her win, Saliha said: "To be the Masterchef champion is fantastic and wonderful. Adjectives are not sufficient. This is definitely the coolest thing I've ever done in my life!

انجمن حیدریہ مسجد بریڈفورڈ کے امام سید سبطین کاظمی کو مولانا اعظم طارق کے قتل کے الزام میں اسلام آباد ائرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا

ان پر الزام ہے کہ چودہ سال قبل قتل ہوئے مولانا اعظم طارق کے قتل میں ان کا ہاتھ ہے

Bradford imam Syed Sibtain Kazmi arrested in Pakistan on suspicion of murder

some image some image

بریڈفورڈ، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔۔۔ انجمن حیدریہ مسجد بریڈفورڈ کے امام سید سبطین کاظمی کو چودہ سال قبل انجمن سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے قتل کے شبے میں بے نظیر بھٹو ائرپورٹ اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔ستاون سالہ سید سبطین کاظمی بریڈفورڈ میں مقیم ہیں اور انھیں اسلام آباد ائرپورٹ سے برطانیہ روانگی کے وقت گرفتار کیا گیا۔

سید سبطین کاظمی کی ولادت پاکستان کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کالعدم جماعت انجمن سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے قتل میں ان کا بھی ہاتھ ہے۔ سید سبطین کاظمی مشہور شیعہ لیڈر ہیں اور پاکستان باقاعدگی سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ایم پی ناز شاہ نے وزیر اعلٰی شہباز شریف سے تفصیلی گفتگو کی تاکہ سید سبطین کاظمی کی گرفتاری کی تفصیلات معلوم کی جاسکیں۔ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ امام مسجد کو شبہ کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔اور انھیں پانچ دن کے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔

نازہ شاہ کا کہنا ہے کہ وہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔اور کیس کے متعلق اپ ڈیٹس حاصل کرتی رہیں گی۔پاکستانی میڈیا کے مطابق جب ایف آئی اے کے حکام کو سید سبطین کی ملک سے روانگی کی اطلاعات میں تو انھوں نے ایک ٹیم ائر پورٹ روانہ کی جہاں سے انھیں گرفتار کر لیا گیا۔مولانا اعظم طارق کو چار ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔وہ اس وقت قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔

Bradford; THE imam of a Bradford Masjid Syed Sibtain Kazmi has been arrested in Pakistan on suspicion of carrying out a murder committed nearly 14 years ago. Syed Sibtain Kazmi, 57, who lives in Bradford, was held by Pakistani police this morning, reportedly after he attempted to fly home from Benazir Bhutto International Airport in Islamabad.

His arrest is understood to relate to the murder of Maulana Azam Tariq, the chief of the banned Sipah-e-Sahaba group, in 2003. Kazmi, a Shia Muslim, leads worship at the Anjuman e Haideria mosque, a former children’s hospital in St Mary’s Road, Manningham. He was born in Pakistan, and is said to make regular return visits to his home country.

Naz Shah, the Labour Parliamentary candidate for Bradford West, was in contact with the Chief Minister in Pakistan today to try to get more details of his arrest. She said she was told Kazmi had been arrested on suspicion of “historic murder” and was being held on remand for five days.

She told she would be in close contact with the country’s Home Secretary about any updates in the case. Pakistani media reported that the country’s Federal Investigation Agency had sent the team to the airport after learning Kazmi was due to leave the country on a Qatar Airline flight to Manchester via Doha. He was apprehended and handed over to the police. Maulana Azam Tariq was shot dead, along with four other passengers of his vehicle, near Islamabad in October 2003. He was then a member of the National Assembly of Pakistan.

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کارڈ فراہم کرنے کا حکم

نادراایک غیر منافعہ بخش ادارہ ہے اور شناختی کارڈ حاصل کرنا ہر ایک پاکستانی کا حق ہے

Non-resident Pakistanis seeking ID cards should be given monetary concessions: Supreme Court

some image

سٹوک آن ٹرینٹ (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم،پنوں خان منہاس)۔۔۔۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کارڈ فراہم کرنے کا حکم۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کاڑد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے 26ممالک میں نادرا سینٹرز اور سٹاف کے بارے میں بھی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اوور سیز پاکستانیوں کو جاری کیے جانے والے شناختی کارڈز کے کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی خدمات قابل ستائش ہیں اور ان کے لیے رعایت ہونی چاہیے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ نادراایک غیر منافعہ بخش ادارہ ہے اور شناختی کارڈ حاصل کرنا ہر ایک پاکستانی کا حق ہے۔

چیر مین نادرا عثمان یوسف نے موقف پیش کیا کہ لوکل پاکستانیوں کے شناختی کارڈ پر سبسیڈی دی جاتی ہے۔جبکہ بیرون ممالک میں قائم سینٹرز کے اخراجات زیادہ ہیں اسی وجہ سے اُن سے زیادہ فیس لی جاتی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ فیس میں اضافے کی ٹھوس وجوہات نظر نہیں آتیں۔بیرون ملک میں مقیم پاکستانی بھاری زرمبادلہ بھجواتے ہیں اور انھیں بھاری پیسے لے کر کارڈ دیے جارہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے نادر ا کے سینٹرز اورسٹاف کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

دوسری جانب برٹش پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے جہاں عدالت کے اس حکم کا خیر مقدم کیا ہے کہ اوور سیز پاکستانیوں کو رعایتی فیس پر شناختی کارڈ جاری کیے جائیں وہاں اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا موقف سننے کے لیے عدالت نے اُن کا کوئی نمائندہ طلب نہیں کیا۔برٹش پاکستانیوں نے اُمید ظاہر کی ہے آئندہ سماعت میں اُن کے کسی نمائندے کوضرور بلایا جائے گا۔بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے خصوصی شناختی کارڈ NICOP کی زیادہ فیس کے خلاف تحریک چلانے والے حاجی شیر عالم آف بلیک برن اس عدالتی حکم نامے پر تبصرہ کے لیے دستیاب نہ تھے۔

Stoke on Trent, UK; The Supreme Court said on Thursday that Pakistanis who are living abroad should be given monetary concessions by the National Database and Registration Authority (Nadra) in the issuance of identity cards.

A three-judge bench headed by Chief Justice of Pakistan (CJP) Justice Mian Saqib Nisar was hearing a suo motu case initiated after a non-resident Pakistani complained that the issuance fee for a Pakistan Origin Card (POC) had been increased to Rs22,000, and the cancellation fee to Rs31,500. Nadra had on Thursday submitted a report sought in connection with the fee hike. The Nadra chairman explained that overseas Pakistanis are issued two types of cards.

The National Identity Card for Overseas Pakistanis (Nicop) is for people who live in foreign countries for employment purposes but have kept their Pakistani nationality, Yusuf said. These Pakistanis who want to visit the country need not apply for a visa if they possess a Nicop.

The POC is for people living in foreign countries who have given up their Pakistani nationality or for foreigners who have blood relatives who are or were Pakistani nationals. At this, Justice Ijazul Hassan asked why there was a need for a Pakistan Origin Card in the presence of the identity card and passport.

The court asked Nadra why Pakistanis who live abroad and send back foreign exchange are charged a hefty amount for the POC while Pakistanis who live in the country are charged a negligible amount for their identity cards.

پاکستان نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے اپنی اہلیہ فریال مخدوم سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کردیا

Boxer Amir Khan splits with wife in a bitter public row

some image some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔پہلے عامر خان نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے اور فریال نے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے ان کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔ لیکن اس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فریال کی خاطر اپنے اہلخانہ اور دوستوں کو چھوڑ دیا۔

عامر خان نے یہ شکوہ کیا کہ فریال ہمیشہ سے کسی اور کے ساتھ رہنا چاہتی تھی اور وہ دوسرا شخص کوئی اور نہیں، ایک باکسر ہے۔عامر خان نے کہا کہ انہیں فریال سے علیحدگی پر کوئی دکھ نہیں۔ عامر خان نے یہ بھی لکھا کہ وہ جلنے والے نہیں۔ اس لیے فریال انھیں اس شخص کی تصویریں نہ بھیجے جسے وہ پسند کرتی ہے۔

انھوں نے فریال کے کچھ میسیجز بھی شیئر کیے جو بظاہر کسی اور شخص سے بات چیت پر مشتمل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہے وہ فریال جس کی خاطر میں نے خاندان اور دوستوں تک کو چھوڑ دیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اظہار خیال کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ فریال اور میں نے باہمی رضامندی سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میں اس وقت دبئی میں ہوں اور ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فریال اس رشتے کو چھوڑ کر آگے بڑھ چکی تھیں اور ہمیشہ مجھے اس بات کا احساس دلاتی رہتی تھیں کہ وہ کسی اور شخص کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں اور وہ کوئی نہیں بلکہ باکسر انتھونی جوشوا ہیں۔

عامر خان کی ٹوئٹس کے بعد فریال مخدوم بھی پیچھے نہ رہیں اور انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اپنے اہلخانہ کو اس لیے چھوڑا کیونکہ انہوں نے آپ کو لوٹا؟ میری وجہ سے نہیں۔ غلط باتیں کرنا بند کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ دیگر باکسروں پر اس لیے الزامات عائد کر رہے ہیں کیونکہ آپ کا کیریئر ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عامر خان ہمیشہ الکحل اور خواتین کے گرد منڈلاتے رہتے ہیں، وہ برے رول ماڈل ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور چیریٹی بھی چلاتے ہیں۔

London; After months of very public problems, including a family spat, rumours of a sex tape and cheating allegations Amir Khan and his wife Faryal sensationally split . Amir Khan of Mator, Kahuta and Bolton, who is worth £23million, announced their split over Twitter in a tweet reading 'So me and the wife Faryal have agreed to split. I'm currently in Dubai. Wish her all the best'.

The heated argument that proceeded is worlds away from the humble couple who gushed about one another at their engagement back in 2012 - but that's not the only thing to have changed.

Amir Khan has denied claims that his account was hacked after he and wife Faryal Makhdoom launched into a sensational Twitter spat, each accusing the other of cheating, after he announced their break-up.

The British boxer told followers he and wife Makhdoom had decided to go their separate ways after four years of marriage but after a stream of mud-slinging tweets, as he claimed she was sleeping with heavyweight champion Anthony Joshua, Makhdoom claimed they had both been hacked. What ever the outcome the Khan family have been left exposed in public.

پوٹھوار ڈاٹ کوم کا اٹھارواں یوم تاسیس، وٹفورڈ میں تیرہ اگست کو میلے کا انقعاد کیا جائے گا

پوٹھوار ڈاٹ کوم میلہ ،اس سال وٹفورڈ میں پوٹھواریوں کا سب سے بڑا اجتماع ہو گا

Pothwar.com mela to be held in Watford on 13th August

some image

سلاو، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ پوٹھوار ڈاٹ کوم اس سال اپنے اٹھارویں یوم تاسیس کی تقریبات کے سلسلے میں وٹفورڈ میں ایک میلے کا انعقاد کر رہی ہے۔یہ میلہ اتوار تیرہ اگست کو وٹفورڈ کے ہولی ویل کمیونٹی سنٹر میں ہو گا۔پوٹھوار ڈاٹ کو م کی ایگزیکٹو ٹیم کا کہنا ہے کہ وٹفورڈ میں ہونے والا یہ میلہ اس سال پوٹھواریوں کا سب سے بڑا اجتماع ہو گا۔

میلے میں مختلف ایونٹس کا انعقاد ہو گا جس میں نیزہ بازی، کبڈی، والی بال، آرم ریسلنگ(بینی) کے ساتھ ساتھ کبوتر باز اور تیتر باز بھی موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ شکاری کتے بھی عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے کو موجود ہوں گے۔میلے میں ہر عمر کے افراد کی تفریح کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔ بچوں کے لئے جھولے، باونسی کاسل ،خواتین کے لئے خریداری اور مرد حضرات کے لئے مختلف فوڈ اسٹالز اور اپنے ہم عصر دوستوں اور احباب سے ملاقات بھی رونق بڑھانے کو دستیاب ہو گی۔

میلے میں لائیو آن سٹیج موسیقی کے ساتھ ساتھ مشہور شعر خواں حضڑات بھی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ڈھول ٹیم اور سمی ڈانس کی ٹیم بھی میلے کے حاضرین کے لئے اپنے فن کا مظاہرہ پیش کریں گے۔ویب سائٹ کے قارئین کے پرزور اصرار پر اس سال آل فیملی ایونٹ کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ ویب سائٹ کے قارئین اپنی فیملی کے ساتھ اس میلے میں شرکت کر سکیں۔

میلے میں کسی بھی مقابلے میں حصہ لینے کے لئے ، یا اپنے کاروبار یا کمپنی کی پروموشن کا سٹال لگانے کے لئے رابطہ کریں۔ خواتین اگر اپنی کسی کاریگری، فوڈ یا کسی ہنر کا سٹال لگانا چاہیں تو پلیز رابطہ کریں۔

Slough; Pothwar.com has announced to hold Pothwari cultural mela on 13th August 2017, The event is organised to celebrate Pothwar.com 18th anniversary. The mela will be held in Watford at the Holywell community centre.

The Pothwar executive team told that the mela will be biggest in South of England, The events so far organised are Naiza baazi, Kabbadi, Volleyball, Arm wrestling, Pigeon display, Tittar, Greyhound dogs as well as Pothwari entertainment with Dhol team along with Sammi dance.

Their will be entertainment for children as well as stalls for shopping and eating, Their is plenty of parking and fun day out for families.

Pothwar.com Chairman Mohammad Naseer Raja, MZ Bhatti MBE, Habib Rashid, Raja Umar Hayat said we are looking forward to making the mela family event and we still looking for more Pothwai entertainers and sportsmen and women to come forward and contact the website in order to participate.

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کی گاڑی اور کار میں تصادم کے بعد نامعلوم افراد کا ان پر حملہ

Boxer Amir Khan attacked in road rage in Bolton, UK

some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔۔ باکسر عامر خان کی رینج روور غلط ٹرن لینے کے بعد برطانیہ کے علاقے بولٹن میں ایک کار سے ٹکرا گئی جس کے بعد چند افراد نے انکا تعاقب کر کے گلی میں گھیر لیا اور پھر تشدد کا نشانہ بنایا ، باکسر کو ایک حملہ آور نے مکہ بھی رسید کیا ۔ ٹریفک حادثے کے وقت عامر خان اپنی گاڑی میں گھر کی جانب آرہے تھے کہ تعاقب کرنے والی کار میں سوار متعدد افراد نے انہیں ایک جگہ روک کر حملہ کیا اور مکا بھی مارااور پھر اپنی گاڑی میں فرار ہو گئے ، واقعے کے بعد باکسر عامر خان نے پولیس کو طلب کیا جنہوں نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک حادثے کے بعد دونوں اطراف سے جھگڑا شروع ہوا جو ہاتھا پائی کی شکل اختیار کر گیا تاہم ٹریفک حادثے کی وجہ باکسر عامر خان کی غلط ڈرائیونگ تھی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ اگلی گاڑی والے ڈرائیور یعنی باکسر عامر خان نے غلط ٹرن لیا جس کے بعد پچھلی کار سے تصادم ہوا اور پھرجھگڑا شروع ہو گیا ۔ مشتعل افراد نے پہلی گاڑی والے کو مکا رسید کیا اور پھر فرار ہو گئے

LONDON – Boxer Amir Khan of village Mator, Kahuta was attacked during a terrifying road rage incident after being chased through the streets by a group of men, as things seem to go bad to worse for the boxing champion in recent times.

Amir Khan was forced to call police after he was pranged by another vehicle as he drove through his hometown in a white Range Rover. Several men then jumped out of another car and one swung a punch at Amir during the confrontation in Bolton, Gtr Manchester.

Amir, 30, called cops following the incident, which was apparently prompted by him making a wrong turn, but no arrests have been made. A Greater Manchester Police spokeswoman said: “We were called to reports of road rage incident/assault.”

“It appears the person driving has made a wrong turn and this has angered the person behind them and there’s been an altercation. The driver of the first car was punched. There were no arrests

بیڈفورڈ سے نو منتخب رکن پارلیمنٹ اور پوٹھواری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے محمد یاسین کا تعلق میر پور سے ہے

ٹیکسی ڈرائیور محمد یاسین اپنی صاف گوئی پر بہت مشہور ہوئے

New Labour MP Mohammad Yasin vows to 'stand up' for Bedford

some image some image

بیڈفورڈ،پوٹھوارڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ نو منتخب لیبر ایم پی محمد یاسین کا آبائی تعلق پیر گلی گائیاں میرپور آزادکشمیر سے ہے، وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ یہ بات ان کے قریبی دوست کونسلر راجہ وحید اکبر نے بتائی جبکہ ایک انٹرویو میں محمد یاسین ایم پی نے کہا کہ انہیں اپنے پیشے پر فخر ہے۔ راجہ وحید اکبر نے مزید کہا کہ صرف لیبر پارٹی ہی ایک ٹیکسی ڈرائیور کو پارلیمنٹ تک پہنچا سکتی ہے۔

محمد یاسین ملٹن کینز کے علاقے میں ایک پرائیویٹ ہائر ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ایک موقع پر جب ان کے ووٹرز نے ان سے لیبر پارٹی کے منشور کے حوالے سے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ابھی تک منشور پڑھنے کا موقع نہیں ملا جس پر ان کے ووٹرز کو انتہائی شاک لگا۔

ان کے حلقہ انتخاب کے سابق ایم پی کا تعلق ٹوری پارٹی سے تھا اور محمد یاسین کو ایک کمزور امیدوار تصور کیا جارہا تھا مگر ان کی کامیابی نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔متخب ہونے کے بعد انھوں نے اہل علاقہ کو یقین دلایا کہ بیڈفورڈ کے عوام کی امیدوں اور وعدوں کے مطابق کام کریں گے۔

Luton; Mohammad Yasin, The ex Government boys degree college student in Mirpur as stunned everyone by winning election for the labour party. Mohammad Yasin a Bedford Borough Councillor who works as a private hire driver in Milton Keynes, prioritised healthcare, education and police funding in his campaign.

He stunned voters by confessing he had not fully read Labour's manifesto at BoS' hustings event last week, but Bunyan Sports Centre erupted into cheers as Mr Yasin was announced victor of the battle for Bedford and Kempston in the early hours of Friday morning. He pipped Mr Fuller to the post by less than 800 ballots, a total of 22, 712 votes compared to the Tories' 21,923.

"Mohammad Yasin said I would like to thank Theresa May for calling this strong and stable election. It's not strong and stable anymore is it? "I would also like to thank my former MP Richard Fuller for his services to the community." He later told: "Anything not good for Bedford and Kempston I will stand up to it."

When questioned about his plans to halt the Sustainability and Transformation Plan threatening Bedford Hospital services, Mr Yasin said he could do better than his predecessor.First up is a meeting with the chief executive of Bedford Hospital and a letter to the Department of Health.

عشرت شاہ نے مئیر آف سلاو کا حلف اٹھا لیا

Councillor Ishrat Shah takes oath to be next mayor of Slough

some image

سلاو (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی)----- سلاو میں مقیم کوٹلی کی رہائشی عشرت شاہ نے مئیر آف سلاو کا حلف اٹھا لیا- عشرت شاہ لیبر پارٹی کی طرف سے بطور کونسلر سیاست میں آئی اور پہلی بار ہی کامیاب ہوئی اس کے بعد تین بار کونسلر منتخب ہوئی- مئی 2016 میں وہ ڈپٹی میئر منتخب ہوئی تھیں-

کونسلر سے ڈپٹی مئیر اور اب مئیر آف سلاو منتخب- عشرت شاہ کا تعلق کوٹلی آزاد کشمیر تتہ پانی سے ہے- عشرت شاہ ایک ملنسار ہیں اور ان کے دل میں عوام الناس کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ضرورت مندوں،بے سہارا اور دوسروں کی مدد دن کو عملی سیاست میں لے آئی- عملی سیاست میں بھی سچائی اور محنت کو اپنا وطیرہ بنایا- سلاو میں مقیم کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے عشرت شاہ کو مئیر آف سلاو کا حلف اٹھانے پر مبارکباد پیش کی گئی -

Slough; Councillor Ishrat Shah has been elected Mayor of Slough, A full ceremony was held where she was appointed the new mayor of Slough, Councillor Ishrat is a Labour councillor.

The Pakistani community along with other communities have welcomed the appointment of the new Mayor, Councillor Ishrat shah is from Kotli in Azaad Kashmir.

The mayor is the first citizen of the borough and is voted in by fellow councillors at the council's annual meeting in May every year. The mayor chairs council meetings, and attends many different functions in the borough. These include representing the council:

The mayor also hosts visits to the mayor's parlour from various groups and organisations.

برطانیہ میں مقیم 30 پاکستانی نژاد اگلے ماہ ہونے والے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں

Thirty Pakistani-origin candidates in the run in upcoming UK elections

some image

سلاو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) ----برطانیہ میں آٹھ جون کو ہونے والے انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹس پر تیس پاکستانی نژاد برطانوی شہری بھی اپنی قسمت آزمائی کرنے کے لیے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں- جن میں گیارہ خواتین بھی شامل ہیں- سیاسی جماعتوں کی طرف سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق حزب اختلاف جماعت لیبر پارٹی نے دوسری جماعتوں کی نسبت زیادہ خواتین اور پاکستانی نژاد شہریوں کو ٹکٹ دیے ہیں -

لیبر پارٹی کی طرف سے چودہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے 9 پاکستانی نژاد، کنزرویٹیو پارٹی کی طرف سے چھ پاکستانی اور سکاٹش نیشنل پارٹی نے ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو ٹکٹ دیا ہے- زیادہ تر پاکستانی نژاد برطانوی شہری لندن کے حلقوں سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں مختلف جماعتوں کی طرف سے سات پاکستانی نژاد برطانوی شہری میدان میں اتارے گئے ہیں -

یاد رہے کہ اس بار لیبر پارٹی نے اکتالیس فیصد نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ جاری کیے ہیں لیبر پارٹی کی طرف سے پچاس اقلیتی امیدوار بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں- حکمران جماعت کنزرویٹیو پارٹی کی طرف سے انتیس فیصد، لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے تیس فیصد اور سکاٹش نیشنل پارٹی کی طرف سے تینتیس فیصد خواتین کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں - ان انتخابات میں گیارہ پاکستانی نژاد برطانوی خواتین حصہ لے رہی ہیں- الیکشن کو ابھی دو ہفتے باقی ہیں تمام امیدواروں نے ڈور ٹو ڈور الیکشن مہم جاری رکھی ہوئی ہے-

As many as 30 candidates of Pakistani origin will be contesting the June 8 elections in the United Kingdom. According to lists released by different political parties, the Labour Party has given more tickets to Pakistani-origin men and women than any other party.

The Labour Party has 14 Pakistani-origin candidates to represent it in the elections. These include Shabana Mahmood, Khalid Mahmood, and Perry Barr in Birmingham, Yasmin Qureshi in Bolton, Naseem Shah and Imran Hussain in Bradford, and Rosena Allin-Khan in Tooting.

Amongst others, the Liberal Democrats have nine Pakistani-origin candidates, the ruling Conservative Party has six, while the Scottish National Party has one British-Pakistani to represent it during the election.

London has the highest number of Pakistani candidates, with seven contesting in various constituencies. Also interesting is the fact that Labour has chosen women candidates for 41 per cent of the seats. Moreover, as many as 50 members of various minority groups will also be representing the party.

لیبر پارٹی کے انتخابات دو ہزار سترہ کے منشور میں قانون زوجیت میں بڑی ترمیم متوقع

زوج کے ویزے کے لئے کم از کم آمدنی کے قانون میں ترمیم کی جائے گی

Labour party to scrap minimum income rule for foreign spouses

some image some image

لندن، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، مسرت عزیز۔۔۔۔۔۔۔ اس سال آنے والے انتخابات کے لئے لیبر پارٹی کے منشور کے کئی اہم نکات سامنے آئے ہیں جن میں پاکستانی خاندانوں کے لئے بہت بڑی خوش خبری متوقع ہے۔بتایا گیا ہے کہ لیبر پارٹی قانون زوجیت میں ترمیم کر کے کم از کم آمدنی کی پابندی ختم کر رہی ہے۔

پارٹی کے قبل از وقت فاش ہوئے منشور کے مطابق لیبر پارٹی خاندانی حقوق کا تحفظ چاہتی ہے اور آمدنی والے قانون کی وجہ سے صرف دولتمند افراد ہی اپنے حقوق کا تحفظ کر پاتے ہیں۔اور جو افراد ساڑھے اٹھارہ ہزار سالانہ کما نہیں پاتے وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہتے ہیں۔یعنی وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ ایک چھت کے نیچے نہیں رہ پاتے ۔

موجودہ قانون زوجیت سنہ دوہزار دس کے متعارف کروایا گیا تھا۔جس وقت موجودہ وزیر اعظم تھریسا مے برطانیہ کی وزیر داخلہ تھیں۔اس قانون کا مقصد ٹیکس دہندگان پر سے بوجھ کم کرنا تھا۔لیبر پارٹی کے منشور کے مطابق ویزہ کی درخواست میں کام کی غرض سے برطانیہ آنے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ ازدواجی زندگی شروع کرنے کے قوانین میں فرق ہونا چاہئیے۔

London; Labour would scrap the controversial income threshold that separates families and stops thousands of British citizens bringing their foreign husbands and wives to the UK.

The leaked draft version of the party’s manifesto says it does not believe that “family life should be protected only for the wealthy” and that it would replace the threshold with “an obligation to survive without recourse to public funds”.

Immigration rules currently require British citizens to earn more than £18,600 before their foreign partner can join them on a spouse visa. Critics say the policy discriminates against working class people on lower incomes.

The rule was introduced by the 2010 Coalition government when Theresa May was Home Secretary. It was introduced to reduce the burden on the taxpayer. The leaked version of the party’s draft manifesto says: “We believe fair rules mean that a distinction should be made between family connections and migrant labour.

نڑالی جبیر ،گوجرخان اور رائل نواب مانچسٹر کے اونر محبوب حسین کو ایشین ویڈنگ ایوارڈز کی تقریب میں بیسٹ ایشین ویڈنگ سپلائر کا ایوارڈ

Royal Nawab founder Mahbbob Hussain of Gujar Khan awarded in Manchester

some image

مانچسٹر، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔۔ مانچسٹر میں ہونے والے ایشین ویڈنگ ایوارڈز کی تقریب میں رائل نواب آف مانچسٹر کو بہترین ویڈنگ سپلائر کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ رائل نواب آف مانچسٹر کے مالک محبوب حسین کا تعلق نڑالی جبیر، گوجرخان سے ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی شادی بیاہ کی تقریبات کے حوالے سے رائل نواب اپنی ایک منفرد حیثیت اور مقام رکھتا ہے۔

محبوب حسین نے جس وقت مانچسٹر میں واقع ایک سینما گھر کو شادی ہال میں تبدیل کیا تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک وقت رائل نواب برطانیہ میں شادی بیاہ کے حوالے سے رائلٹی کا نشان بن جائے گا۔رائل نواب کے قیام سے لے کر اب تک ایشین شادیوں میں کئی طرح سے جدت انگیز تبدیلیاں آچکی ہیں۔ مانچسٹر کے بعد حال ہی میں رائل نواب نے لندن میں بھی بینکوئٹ ہال کا آغاز کیا۔

ایشین ویڈنگ ایوارڈز کے دیگر کامیاب اداروں اور افراد کے نام یہ ہیں۔ شادی بیاہ کے لئے بہترین جیولری سپلائرز میں سائی فیشنز، بہترین ویڈنگ کیک کے لئے کیک گیلری، بہترین ویڈنگ کیٹرر کے لئے دیسی لائونج، بہترین ویڈنگ مووی میکر ایس ایم ڈیجیٹل، ڈی جے آف دی ائیر کے لئے سول ایشیا، ویڈنگ فلارسٹ کے لئے سپرنگ بنک فلاورز،، ویڈنگ اینٹرٹینر اور میوزک کے لئے دیسی ناچ اور دیگر کو ایوارڈز دئیے گئے۔

some image some image some image

Manchester; The founder of the Nawaab Restaurant Mahboob Hussain of village Narali Jabeer, Gujar Khan in Manchester was honoured with the Outstanding Contribution accolade at the Asian Wedding Awards. Mahboob Hussain from the Royal Nawaab Manchester took a chance when he transformed an old cinema into a wedding banqueting suite. The decision has in many ways revolutionised how Asian weddings were celebrated.

The ceremony at the Mercure Manchester Piccadilly Hotel celebrated the very best of Asian wedding suppliers from wedding planners to card makers. Tributes were also paid to two of the wedding industry’s most respected professionals at the annual Asian Wedding Awards in Manchester.

Tarla Somaiya, of Payal Events, and Robert Bell, of Barkers Catering Equipment Hire, both of whom who passed away in the last 12 months, and were described on the night as trailblazers in the Asian Wedding Industry.

AWARD WINNERS Accessories & Jewellery Supplier of the Year: Sai Fashions (Jewellery), Banqueting Hall of the Year: The Sheridan, Bridal Wear Designer of the Year: Alankar Sarees Cake Company of the Year of the year: The Cake Gallery Caterer of the Year: Desi Lounge DJ of the Year: Soulasia Roadshow Filmmaker of the Year: SM Digital Weddings Florist of the Year: Springbank Flowers Finishing Touches Supplier of the Year: B Inspired Grooms Wear Designer of the Year: Sherwani King Makeup Artist of the Year: Nida Glamour World Musician & Entertainer of the Year: Desi Nach Wedding Photographer of the year: Asia Burrill Wedding Planner of the year: Payal Events, Stationery Supplier of the Year: Ya Habibi Designs Toast Master of the Year: Stephen T Sanders Transport Supplier of the Year: Rolls Royce Chauffeurs Venue & Stage Decorator of the Year: The Wedding Fairy Venue of the Year: Thornton Manor

لندن کے پیش اماموں کا حملہ آوروں کا جنازہ پڑھانے سے انکار

Imams refuse to perform Namaz e janaza for London Bridge attackers

some image some image

سلاو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) -----   لندن کے اماموں نے برج حملہ آوروں کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا ذرائع کے مطابق کم و بیش ایک سو انتیس مساجد کے اماموں نے مشترکہ طور پر برج حملہ آوروں کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا ہے

اور کہا مانچسٹر اور لندن میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہماری ہمدردیاں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد اور ان کی فیملی کے ساتھ ہیں۔ جن کے پیارے ان دہشت گردوں کی وجہ سے ان سے بچھڑ گئے۔

کوئی بھی مذہب حملوں کی اجازت نہیں دیتا اور اسلام امن و بھائی چارے کا درس دیتا ہے حملہ آوروں کا کوئی مذہب نہیں۔ اور کوئی بھی سچا مسلمان کسی بے گناہ اور نہتے پر حملہ کی حمایت نہیں کر سکتا۔اسلام میں تو حالت جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے۔

London; More than 200 Muslim leaders from across the UK have signed a statement condemning the terror attack that took place in London on Saturday - and saying they will refuse to perform namaz e janaza the traditional Islamic prayers for the perpetrators at their funerals.

The statement was published on the website of the Muslim Council of Britain, the UK’s largest Muslim body, which described the decision as an "unprecedented move," noting that the signatories have "not only refused to perform the traditional Islamic prayer for the terrorist – a ritual that is normally performed for every Muslim regardless of their actions – but also have called on others to do the same."

Opening with a strongly worded condemnation of the recent terror attacks, the statement asserts that the terrorists' acts "alienate them from any association with our community for whom the inviolability of every human life is the founding principle."

وٹفورڈ میں مسلم کمیونٹی کی جانب سے اسلامک سنٹر کی تعمیر کے لئے فنڈریزنگ پروگرام کا انعقاد

بیرونیس سعیدہ وارثی کی خصوصی شرکت

Watford Muslim community unite for Muslim Youth Centre banquet at Hilton Hotel

some image

وٹفورڈ، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، افتخار وارثی۔۔۔۔۔۔ ہلٹن ہوٹل وٹفورڈ میں وٹفورڈ کی مسلم کمیونٹی کے لئے نئے اسلامک سنٹر کی تعمیر کے لئے فنڈ ریزنگ ڈنر اور سٹیج پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ بیرونیس سعیدہ وارثی اس تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ تقریب کے آرگنائزرز وٹفورڈ کے کونسلر حاجی منیر بھٹی اور نلہ مسلماناں کے زاہد زریں نے مہمانوں کے لئے استقبالیہ کلمات کہے۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعتیہ کلام سے کیا گیا۔ مختلف فنکاروں نے سٹیج پر اپنے فن پارے پیش کیے۔ اس موقع پر بیرونیس سعیدہ وارثی نے اپنی سوانح حیات پر مبنی کتاب کے دستخط شدہ ایڈیشن حاضرین کے لئے پیش کیے اور اس کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی اسلامک سنٹر کے لئے وقف کر دی۔

تقریب کی ایک اور خصوصیت کرکٹر کبیر علی کی آمد تھی۔ حاجی منیر بھٹی نے مخیر حضرات کا شکریہ ادا کیا جن کی آمد نے اس تقریب کو کامیاب بنایا۔وٹفورڈ مسلم سنٹر ٹرسٹ سنہ دوہزار بارہ میں معرض وجود میں آیا تھا۔ تقریب کی مزید تفصیلات کے لئے نیچے دی گئی ویڈیو ملاحظہ کیجئے۔

Watford; Banquet and fundraising dinner function was held at Hilton Hotel in aid of Watford new Islamic centre, large number of people gathered along with social and political personalities.

Local Watford councillor Haji Munir Bhatti of Doberan Kallan and Zahid Zarin of Nala Musalmana who is Chairman Watford new Islamic centre who welcomed members of the community and thanked their support in order to construct the centre.

Baroness Sayeeda Warsi of Bewal was guest of honour at the occasion and signing her book with all the money raised was given to support the centre, Cricketer Kabir Ali was also present with host of other local stars.

Over £100,000 was raised at the event, Haji Munir Bhatti thanked all the community members who attended the function. The Watford Muslim Youth Centre Trust was set up in May 2012 with the aim of establishing a multipurpose community centre in Tolpits Lane, Watford. This centre will be an interactive space offering a wide range of educational and recreational activities to people of all ages and backgrounds.

Watford, UK - For more details, Please watch the video below...

ووکنگ، برطانیہ میں پوٹھواری کمیونٹی کی جانب سے میر پور میں کورٹ نامی ادارے کے لئے ڈیڑکھ لاکھ پونڈاکٹھے کئے گئے

Pakistani and Kashmiri community in Woking raise mega amount for orphans in Mirpur

some image some image

ووکنگ، برطانیہ، محمد نصیر راجہ آف پوٹيھوار ڈاٹ کوم۔۔۔۔۔۔ ووکنگ میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کی جانب سے میر پور میں قائم کورٹ نامی ادارے کے لئے ایک لاکھ پونڈ سے زائد کے فنڈز اکٹھے کیے گئے۔اس تقریب کا انعقاد امام شاہ جہاں مسجد ووکنگ، حافظ سعید ہاشمی اور سہیل بشارت کی جانب سے کیا گیا تھا ان دونوں کا تعلق کلر سیداں کے علاقے پہر ہالی سے ہے۔

فنڈ ریزنگ کی اس تقریب کا اہتمام ووکنگ کے مشہور ایونٹ سنٹر میں کیا گیا تھا جسے ووکنگ کی مقامی کونسل اور بزنس کمیونٹی نے سپانسر کیا۔ تقریب کے مین فنڈ ریزر حبیب ملک آف پہر ہالی تھے جو گلاسگو، سکاٹ لینڈ میں مقیم ہیں۔سینکڑوں افراد نے تقریب میں نہ صرف شرکت کی بلکہ فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیڑھ لاکھ سے زائدرقوم جمع کیں۔

اس تقریب میں مقامی سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی جن کا تعلق پاکستان سے نہیں تھا۔نیک مقصد کی خاطر ان کی شرکت کو بے حد سراہا گیا۔کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ سنہ دو ہار آٹھ کے تباہ کن زلزلے کے بعد وجود میں لائی جانی والی تنظیم ہے۔ اس ٹرسٹ کی جانب سے قائم کیے گئے سنٹر میں اس وقت چھ سو کے لگ بھگ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں یہ ادارہ نہ صرف ان کی تعلیمی ضروریات بلکہ دیگر تمام ضروریات کا بھی خیال رکھتا ہے جن میں رہائش۔ کھانا اور دوسری تمام بنیادی ضروریات شام ہیں۔

some image

Woking, UK: The Pakistani and Kashmiri community members living in Woking set a example of unity by raising over £150,000 for orphans, The event was organised by Hafiz Saeed Hashmi and Sohail Basharat both of Pehar Hali, Kallar Syedan now living in Woking.

The event was held at HG Wells conference and event centre in Woking and was sponsored by local council and business community, The event host was Habib Malik also of Pehar Hali, Kallar Syedan who is settled in Glasgow, Scotland.

Hundreds of local Pakistani and Kashmiri community members joined in to raise funds for Korts orphanage in Mirpur, Total of £155,500 were raised and the total was announced by Hafiz Saeed Hashmi who is also Imam at the local historical Masjid Shah Jahan.

Social and political leaders were also present who appreciated the community bond. Kashmir Orphans Relief Trust (KORT) started after the devastating earthquake that happened on the 08/10/2005 in Pakistan & Azad Kashmir, it has over 600 orphans in its centre in Mirpur.

some image some image

Pothwar. COM

+44 7763249391 | pothwar@yahoo.co.uk
© Copyright Pothwar.com | Est. 2000-2017

new graphics