Our _Blog_

Our Daily News

خیراتی ادارے کے نام پر عوام اور سرکار سے لاکھوں پونڈ ہتھیانے کے جرم میں برمنگھم کے دو بھائیوں کو جیل بھیج دیا گیا

Twin brothers Arfan and Imran Ali jailed for charity fraud in Birmingham

some image

برمنگھم، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔ خیراتی ادارے کے نام پر عوام اور سرکار سے لاکھوں پونڈ ہتھیانے کے جرم میں برمنگھم کے دو جڑواں بھائیوں عرفان اور عمران علی کو جیل بھیج دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان دو بھائی نے کئی ایک جعلی خیراتی ادارے قائم کر رکھے تھے۔ اور گورنمنٹ سے گفٹ ایڈ کے نام ساڑھے چار لاکھ پونڈ ہتھیا چکے تھے۔

اپنے اداروں کے لیے انھوں نے تیسری دنیا کے غریب ممالک کے غریب افراد کو صاف پانی مہیا کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا تھا جو صرف خیراتی ادارے کے نام تک محدود تھا۔مگر جب ٹیکس اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے ان کی تفتیش کی تو پتہ چلا کہ وہ پبلک کی رقم کو اپنے ذاتی بزنس کی ترویج میں استعمال کر رہے ہیں۔

ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی تفتیش کے مطابق انھوں نے ایک خیراتی ادارے کے تحت کئی ایک مزید خیراتی ادارے بنا لیے۔اور بوگس ڈونیشن کی بنیاد پر حکومت سے گفٹ ایڈ کی مد میں رقم کلیم کرتے رہے۔ گفٹ ایڈ وہ رقم ہے جو حومت کو ٹیکس ادا کرنے والا کسی بھی خیراتی ادارے کو کلیم کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔اس سکیم کے تحت حکومت خیراتی اداروں کو ٹیکس ری کلیم کی اجازت دیتی ہے۔

تفتیشی کے مطابق جڑواں بھائیوں عرفان اور عمران علی نے حکومت سے ساڑھے چار لاکھ کلیم کیے جس کے لیے چیریٹی کی اصل رقم جو انھیں ڈونیشنز کے ذریعے حاصل ہونی چاہیئے تھی وہ ایک اعشاریہ دو ملین پونڈز بنتی تھی۔ مگر ان کے ریکارڈز اس فگر سے کوسوں دور تھے۔ دوسرے وہ خیراتی ادارے سے رقم نکال کر دوسرے اکائونٹس میں ٹرانسفر کر دیتے جس کے ذریعے وہ اپنا کیٹرنگ اور سٹورز کا بزنس چلا رہے تھے۔

Birmingham; Twin brothers Arfan and Imran Ali, who set up fake charities to steal more than £450,000 in Gift Aid repayments have been jailed. Arfan and Imran Ali, 30, both of Inverclyde Road, Birmingham, claimed to be trustees of charities providing clean water to third world countries.

But an HM Revenue and Customs (HMRC) investigation found them to be fraudsters who failed to provide any services or money for good causes. At trials, they were found guilty of conspiracy to cheat the public revenue.

Imran Ali was convicted at Birmingham Crown Court in July 2017 and sentenced to five years in prison. But his twin brother failed to turn up to court and was arrested by HMRC officers in October. At Birmingham Crown Court on Monday, Arfan Ali was given a prison sentence of four years and eight months.

HMRC said the pair used aliases to set up charities and submitted claims for Gift Aid repayments based on bogus donations between May 2009 and August 2012, also using the details of a legitimate charity to submit further fraudulent Gift Aid claims. The scheme allows charities to reclaim tax on a donation.

The £456,408 the brothers falsely claimed, HMRC said, would have needed £1.2m in legitimate donations, but the charities' bank accounts showed "nowhere near this figure". The brothers instead, it said, withdrew large amounts of cash for themselves, or transferred it to the bank accounts of their businesses, which included catering companies and a convenience store.

برطانیہ کے شہر لوٹن میں شوٹنگ کے واقعہ میں حراست میں لیے گئے تمام افراد ضمانت پر رہا

Luton shooting, Two men arrested on suspicion of attempted murder then released on bail

some image

لندن (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم،محمد نصیر راجہ)۔۔۔۔ لوٹن شوٹنگ واقعہ میں حراست میں لیے گئے تمام افراد ضمانت پر رہا تفصیل کے مطابق جمعرات 5 اپریل کو لوٹن میں گن شاٹس سے ایک 30سالہ شخص شدید زخمی ہوگیا تھا جو ابھی تک ہسپتال داخل ہے ایک امام مسجد بھی گن شاٹ سے زخمی ہو گئے تھے جنہیں معمولی زخم أئے تھے امام مسجد کو معمولی زخموں کے ساتھ ہسپتال لے جایا گیا جنہیں بعد ازاں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

شوٹنگ واقعہ میں مشتبہ طور پر جمعہ کے روز پہلے دو افراد حراست میں لے گئے بعد ازاں جمعہ کے روز ہی تین مزید افراد حراست میں لے لیے گئے لیکن پانچوں افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ بیڈفورڈ شائر پولیس کو جمعرات کی شب دس بجے کے قریب ایک 47 سال کی عمر کے شخص کے گن شاٹ سے زخمی ہونے کے واقعے کے بعد پورٹ لینڈ روڈ پر طلب کیا گیا تھا۔

رٹ لینڈ روڈ پر راںعہ مسجد واقع ہے جبکہ واقعہ میں ایک 30 سالہ شخص بھی شدید زخمی ہوا جس کے چہرے پر گولی ماری گئی تھی پولیس نے دو افراد ایک 30اور ایک 32سال کی عمر کے حراست میں لے لیا پھر 21, 26 اور 28 سال کی عمر کے تین دیگر افراد بھی گرفتار کیے گئے جو ضمانت پر رہا کر دیے گئے ہیں

تاہم پولیس نے کہا ہے شوٹنگ قابل تشویش ہے اور پولیس اور عینی شاہدین سے مدد پر زور دے رہی ہے پولیس نے یہ بھی کنفرم کیا ہے کہ رابعہ مسجد کے باہر شوٹنگ کوئی اینٹی مسلم ٹارگٹنگ کا واقعہ نہیں اور وہ ہر زاویہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے

Luton; Two men have been arrested on suspicion of attempted murder following a double shooting in Luton. Police were called to Portland Road just before 10pm on Thursday evening to a report that local Imam had been shot.

When they got there, they also found a second man with serious injuries. The imam was discharged from hospital with minor injuries, but the second man is still in intensive care.

Officers have since arrested two men from Luton, aged 30 and 32, in connection with the incident. "We are treating this as an isolated incident, but are continuing to appeal for information that could help our ongoing investigation," Detective Inspector Craig Laws said.

میرپور کے نوجوان طاہر حسین کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا

Home office deported Tahir Hussain for his criminal activities

some image

لندن (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم افتخار وارثی)---- جرائم اور غیر قانونی قیام پر میرپور کے رہائشی طاہر حسین کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز برطانیہ میں مقیم سنگھوٹ میرپور کے رہائشی طاہر حسین کو غیر قانونی سرگرمیوں اور جرائم میں ملوث ہونے کے باعث پولیس نے گرفتار کر کے ڈی پورٹ کردیا

طسہر حسین چھ سال پہلےسپاوس ویزہ پر برطانیہ آیا تھا - یاد رہے کے برطانوی ہوم آفس اس سال ساٹھ کے لگ بھگ افراد کو ڈی پورٹ کرچکا ہے جن میں آٹھ پاکستانی بھی شامل ہیں- ہوم آفس کی جانب سے چھاپے مارنے کا کام جاری ہے گزشتہ روز سلاو میں بھی ہوم آفس کی ٹیم نے چھاپہ مار کر دو تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے

London; The British government has deported around 60 people who arrived in UK on spouse visa and are found to be involved in illegal activities, the home office is no longer tolerating such acts.

Tahir Hussain of village Sanghot in Mirpur was deported, he had arrived in UK on spouse via six years ago, he was arrested by police and found to be involved in serious illegal activities, he was deported back to Pakistan.

والتھم سٹو میں چکسواری کے رہائشی امان شکور کو نامعلوم افراد نے بے دردی سے قتل کر دیا

Amaan Shakoor of Chakswari shot dead in London

some image some image

لندن(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم افتخار وارثی) ----برطانیہ میں بڑھتی ہوئی وارداتوں سے مسلم کمیونٹی سخت پریشان گزشتہ روز والتھم سٹو لیژر سنٹر میں دو نامعلوم افراد نے ازاد کشمیر چکسواری کے رہائشی امان شکور کو حملہ کر کے شدید زخمی کردیا

نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا پولیسنے اطلاع ملتے ہی علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی نوجوان کے قتل پر مسلم کمیونٹی شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی - پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں یاد رہے کہ رواں سال قتل کے انچاس واقعات رپورٹ ہوئے -

London; The father of a teenager who has become the 48th person killed in London this year has described him as “wonderful son” who had simply gone out to see friends and never came back.

Amaan Shakoor, 16, of Chakswari and Walthamstow was standing with friends outside Walthamstow Leisure Centre when he was approached by two hooded men and shot in the face.

He died of his injuries in hospital at 5.45pm yesterday, becoming the 48th person to be murdered in the capital so far this year.

پاکستان سے لیدر جیکٹس کے اندر چھپا کر اسی ہزار پونڈز مالیتی ہیروئن درآمد کرنے کے جرم میں نعیم یونس کو جیل کی سزا

Naeem Younis jailed for importing £80k of heroin into Birmingham from Pakistan

some image some image some image

From Left, Naeem Younis, Danhyal Khan and Kaif Baha all jailed.

برمنگھم، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ پاکستان سے برمنگھم اسی ہزار پونڈز مالیت کی ہیروئن اسمگل کرنے کے جرم میں تین افراد کو جیل کی سزا سنا دی گئی۔سینتیس سالہ نعیم یونس جو اس گینگ کا سربراہ بھی تھا اسی نے ہیروئن کی اسمگلنگ کا پلان بنایا اور تمام وسائل مہیا کیے۔

عدالت میں بتایا گیا کہ کس طرح لیدر کی جیکٹس کی تہوں میں ہیروئن کو چھپایا گیا تھا۔ نعیم یونس کے ساتھ ساتھ پچیس سالہ دانیال خان اور چوبیس سالہ کیف باحا نے بھی حصہ ڈالا اور اپنے اپنے کردار کے حوالے سے سزا یافتہ ہوئے۔جس پیکٹ میں جیکٹس منگوائی گئیں وہ ایک فرضی شخص کے نام تھیں۔

جب ان کا پیکج ہیتھرو ائرپورٹ پہنچا تو اسے ڈی ایچ ایل کمپنی کے ذریعے متعلقہ پتے پر پہنچنا تھا۔ دانیال خان نے ایک فرضی نام سے ڈی ایچ ایل کو رابطہ کر کے پیکج کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں جب ان کا پیکٹ متعلقہ پتے پر ڈیلیور کیا گیا تو خان نے تمام واجبات ادا کیے۔اور اس پیکٹ کو کیف کی گاڑی کی ڈگی میں رکھ دیا۔

مگر کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ جیسے ہی ان کی گاڑی کچھ ہی فٹ چلی تو پولیس نے انھیں روک لیا۔ گینگ کے سربراہ نعیم یونس جو ایک شیشہ لائونج کا باس بھی رہ چکا ہے نعیم، دانیال خان اور کیف نے عدالت میں اعتراف جرم کیا۔ تینوں کو مجموعی طور پر اکیس سال سے زائد کی سزا سنائی گئی۔

Birmingham; Naeem Younis a former shisha lounge boss who organised heroin worth almost £80,000 to be sent to from Pakistan to Birmingham has been jailed. Naeem Younis, 37, was sentenced to seven and a half years after a court heard how the drug was hidden inside the lining of leather jackets. Younis, of Yately Crescent, Great Barr, had previously admitted a charge of importing the Class A drug.

Birmingham Crown Court heard Younis had played a leading role in the drugs smuggling operation. Danhyal Khan, 25, of Davey Road, Handsworth Wood, had also admitted a charge of importing the Class A drug. He was also sentenced to seven and a half years jail. Kaif Baha, 24, of Freer Road, Aston, was jailed for six and half years after being found guilty of importing drugs following a trial.

The package containing the jackets was addressed to a fictitious person. It arrived at Heathrow Airport and was transported by DHL, Khan and Baha then waited all day for it to arrive, with Khan contacting DHL using a bogus name. When the package was delivered Khan paid the outstanding tax and then put it in the boot of Baha’s vehicle.Yet the pair only drove a few feet before police officers swooped.

In passing sentence Judge Drew said: “As I am sure you are all aware heroin is a highly addictive drug and has devastating effects on those who are addicted. This is all the more serious because of the scale and quantity of drugs involved. "This was an importation of in excess of three quarters of a kilo of heroin. The purity level was high.

پاکستان ڈے کے اعزاز میں برطانیہ کی تاریخی عمارت ویسٹ منسٹر ایبے پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا

Pakistan's flag flown over London’s Westminster Abbey on National Day of Pakistan

some image

لندن(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی)----- برطانیہ کی تاریخی عمارت ویسٹ منسٹر ایبے پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا - ویسٹ منسٹر ایبے کی عمارت کی خاص بات یہ ہے کہ جو بھی برطانیہ میں ملکہ یا بادشاہ بنتا ہے وہ اس عمارت میں عہدے کا حلف اٹھاتا ہے

اس عمارت میں تقریبا شاہی خاندان کی پندرہ شادیاں بھی ہوچکی ہیں پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو کے مطابق اس عمارت پر یوم پاکستان کی مناسبت سے پاکستانی پرچم لہرایا گیا-

برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے سوشل میڈیا پر بھی اس عمارت پر پاکستانی پرچم لہرانے کی تصویر بھی شائع کر دی

London: Pakistan Day Special Memorial Service was held at the Westminster Abbey. In keeping with the past practice, Pakistani flag was also flown on top of the north tower of the Abbey. the British Pakistani community welcomed the gesture.

As per details, Abbey organized a special Evensong in connection with the National Day of Pakistan. Special prayers were offered for the strengthening of Pakistan-UK friendship and the well-being of the people of the two countries. While the national flag kept flying on top of the north tower of Westminster Abbey the entire day.

The special feature of last year's parade was the participation of the People's Liberation Army of China, Saudi Special Force contingent and Turkish Janissary Military band. Pakistan Day commemorates the passing of Lahore Resolution, under which a separate nation for the Muslims of the British Indian empire demanded by Muslim League was passed on March 23, 1940.

Westminster Abbey has strong links to the Commonwealth and prays for the countries of the Commonwealth throughout its regular pattern of daily services. Each year, the high commissioners of the Commonwealth countries are invited by the Dean to evensong on or close to their national day. The National Flag is flown on the day when the High Commission is represented at Evensong.

بریڈفورڈ کے محمد ولایت کو اپنی سابقہ بیوی کا پیچھا کرنے اور جان سے مارنے کے دھمکیاں دینے پر جیل بھیج دیا گیا

Mohammed Wilayat jailed for stalking ex-wife and giving life threats

some image

بریڈفورڈ، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔ بریڈفورڈ کے محمد ولایت کو اپنی سابقہ بیوی کا پیچھا کرنے اور جان سے مارنے کے دھمکیاں دینے پر جیل بھیج دیا گیا۔چھ بچوں کے باپ اکتالیس سالہ محمد ولایت نے دو مرتبہ اپنی سابقہ بیوی کا پیچھا اور اس کے رشتہ دار کے گھر کوآگ لگانے کی دھمکی بھی دی۔

محمد ولایت کو اکیس ماہ جیل کی سزا ہوئی۔اس کے علاوہ اس کی سابقہ بیوی سے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ عدالت میں بتایا گیا کہ کسطرح محمد ولایت کی چودہ سالہ شادی انجام کو پہنچی۔ اور اس نے جانے سے پہلے ایک وین اپنے سابق گھر پر چھوڑ دی۔جب اس کے سابق پارٹنر نے وین کباڑیے کے ذریعے اٹھوادی۔تو اس سے محمد ولایت کو انتہائی غصہ آیا اور اس نے پیچھا کر کے دھمکیاں دینے کی مہم شروع کر دی۔

وین والے واقعے کے بعد محمد ولایت نے ہر روز اپنے سابقہ گھر کے آس پاس آ کر اونچی آواز میں دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا اور اپنی سابق بیوی کو نام سے پکار پکار کر کہا کہ ایک دن وہ اسے آلے گا۔محمد ولایت کی سابقہ اہلیہ کا کہنا تھا کہ وہ اس سار ے واقعے سے انتہائی خوفزدہ ہو گئی تھی۔

محمد ولایت کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ جب اسے وین والے واقعے کا علم ہوا تو محمد ولایت غصے سے بھرا اس کے رشتہ دار کے گھر جا پہنچا جہاں وہ اپنے بچے کی پارٹی کر رہی تھی۔ اور وہ وہاں انھیں گھر جلانے اور کھڑکیاں پھوڑنے کی دھمکیاں دینے لگا۔ ابتدائی تحقیقات میں محمد ولایت نے الزامات سے انکار کیا۔مگر عدالت نے مام شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے اسے جیل بھیج دیا۔

Bradford; Mohammed Wilayat,,41, of Harold Road, Hyde Park, Leeds and father-of-six, who stalked his ex-wife and threatened to burn down her cousin’s house, has been jailed. Mohammed Wilayat, appeared before Bradford Crown Court having pleaded guilty to two charges dating back to September last year.He was sentenced to 21 months in jail. An indefinite restraining order preventing him from contacting his victims was also imposed.

The court heard how Wilayat had split up with his wife of 14 years and had left an old van behind at the family home in Bradford. His former partner had arranged for the vehicle to be scrapped after he failed to return to collect it. His campaign of stalking began a week later when he found out what had happened to the van, prosecutor Tamara Pawson said.

“Every day thereafter, from September 15 to 24, he attended at the house, or close to it, shouting abuse to [his ex-wife] and threatened her.” He shouted: “‘I’m going to get you, watch it’,” said Miss Pawson, adding that his conduct amount to stalking, and that his ex-wife was left scared due to his “erratic behaviour”.

The day after he learned of the van’s fate, he drove by his former partner’s cousin’s house, also in Bradford, where she was hosting a child’s party.

“The defendant drove past shouting that he was going to burn her house down and smash her windows,” said Miss Pawson. The court also heard that when arrested he denied the allegations of stalking and threatening to destroy property.

بریڈفورڈ کی لارڈ مئیر نویدہ اکرام کو عدالت نے تمام الزامات سے بری قرار دے دیا

Naveeda Ikram former Bradford Lord Mayor acquitted by Court of Appeal

some image some image

بریڈفورڈ، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔ لارڈ مئیر نویدہ اکرام کو دو سال کی ذہنی مشقت کے بعد تمام الزامات سے بری قرار دے دیا گیا۔نویدہ اکرام نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انصاف کے لیے ضرور لڑیں گی۔ اور بالآخر دو سال کے بعد عدالت انھیں تمام الزامات سے بری قرار دے دیا۔

نویدہ اکرام پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ایک کئیر کمپنی کو کانٹریکٹ دیتی رہیں جس میں ان کا ذاتی مفاد شامل تھا۔ اور وہ ایک منتخب ممبر ہونے کی حیثیت سے ایسا کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔انھوں نے ہمیشہ اس لزام سے انکار کیا۔مقامی عدالت میں جج نے جب اس کیس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا تو پراسکیوشن نے اس کیس کو کورٹ آف اپیل لندن میں چیلنج کر دیا۔

مگر بالآخر کورٹس اینڈ تریبیونل سروسز نے بھی نویدہ کو تمام الزامات سے بری قرار دے دیا۔نویدہ نے اس موقع پر کہا کہ دوسال کے عرصے میں انھوں نے ہر لمحہ اس تکلیف کو محسوس کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں کیس لے جانے کی بجائے سٹینڈرڈ کمیٹی کو اس کی تفتیش کرنی چاہئیے تھی۔اور عدالت میں کیس لے جاکر عوام کے پیسے کو ضائع کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی انھیں مجرم قرار دے دیا گیا اور ان کی اپنی پارٹی نے انھیں الیکشن میں کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دی۔انھوں نے مزید کہا کہ لارڈ مئیر ہونے کی حیثت سے انھوں نے تمام ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھائیں۔ مگر بلاوجہ انھیں بدنام کیا گیا۔

Bradford; Naveeda Ikram former Bradford Lord Mayor has told of her “two years of living hell” after being acquitted of wrongdoing while in office and has vowed to fight for justice. Naveeda Ikram was accused of seeking care contracts for a company known as Nexus Assist and failing to declare an interest in the firm while an elected member of Bradford Council.

She continued to deny the single charge, alleged to have taken place between November 1, 2014, and August 31, 2015, through a trial at Leeds Crown Court. When the case was thrown out by Judge the prosecution challenged his decision at the Court of Appeal in London. This too was thrown out at a hearing on February 21 and yesterday a judgement was made by Lord Justice Treacy that Mrs Ikram be exonerated.

A spokesman from HM Courts & Tribunals Service confirmed that “the ruling was confirmed and ordered that the defendant be acquitted of the offences”.

Speaking after the hearing, Mrs Ikram said of her relief on being cleared of the charge: “I was put through a living hell for over two years for no reason at all. “I have no issue with someone wishing to make a complaint, but it should have been dealt with by the standards committee. Instead it was taken through the courts and will have wasted hundreds of thousands of pounds of tax payers’ money.

"I was alienated by the Labour and regional party, I was suspended and driven to resign. The Little Horton selections were orchestrated in such a way so I could not stand as a candidate for the party in 2018. “I was treated as a convict before my innocence could be proved.

"I have served this district, its residents and constituents of Little Horton with immense pride and commitment. As the Lord Mayor I took my role very seriously. For over 13 years as an elected member I had never been once been disciplined or called for an investigation and all of a sudden my name was tarnished."

سعیدہ وارثی ہتک عزت کے دعوے کا مقدمہ جیت گئیں یہودی اخبار نے معذرت کرلی بیس ہزار پاونڈ ہرجانہ بھی ادا کرے گا

Sayeeda Warsi wins libel payout from Jewish News over defamatory allegations

some image

لندن(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) ----برطانوی دارالامرا ٹوری پارٹی کی رکن اور دختر پوٹھوار سعیدہ وارثی یہودی اخبار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں یہودی اخبار نے معذرت کرلی بیس ہزار پاونڈ بھی ادا کرے گا -

سعیدہ وارثی پر الزام تھا کے وہ داعش کی صفائی پیش کرتی ہیں اور انہوں نے داعش میں شامل برطانوی مسلمانوں کے خلاف کاروائی میں مخالفت کی - سعیدہ وارثی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمان انتہا پسندی کی حمایت نہیں کرتی مجھ پر داعش کے حملوں کی حمایت کرنے کا الزام لگایا گیا

یہودی اخبار نے میرے خلاف بے شمار آرٹیکل لکھے جس کی وجہ سے میری ساکھ کو نقصان اور لوگوں نے مجھ تنقید کا نشانہ بھی بنایا مگر اب اخبار نے معذرت بھی کی اخبار کے پہلے صفحہ پر معذرت بھی شائع کر دی انہوں نے کہا کہ اخبار مجھے بیس ہزار پاونڈ جرمانہ کے ادا کرے گا جو میں فلاحی اداروں کو دوں گی - سعیدہ وارثی اس کے علاوہ بھی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں

LONDON: Baroness Sayeeda Warsi of Bewal, Gujar Khan and the Britain’s first Muslim female cabinet minister and former Chair of the Conservative Party, has won libel damages and legal costs from the influential Jewish News over an article that wrongly suggested she had sought to excuse the actions of Daesh terrorists.

After Sayeeda Warsi took a legal action and sued the publication for defamation and libel, the Jewish News published a front-page apology and agreed to pay Warsi £20,000 in damages, which she said she is donating to a handful of charities, as well as her legal costs.

The defamatory article, which was also published on Jewish News Online, was written by former army officer Colonel Richard Kemp in which the author claimed that Warsi had objected to action being taken against British Muslims who murder and rape for the terror group. Warsi stated in her libel action that these claims were “untrue and offensive”.

Before the matter reached the London High Court, the Jewish News accepted the allegations were “wholly untrue and should never have been published”.

پی ڈبلیو اے میں بڑا شعرخوانی کا پروگرام،فوک پوٹھواری شعر خوانوں کی شرکت

Hit Pothwari folk singing evening held in Slough, UK

some image

سلاو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) ----پی ڈبلیو اے سلاو کے زیر اہتمام محفل شعر خوانی کا پروگرام گزشتہ روز چالوے میں واقع پی ڈبلیو اے میں منعقد ہوا جس میں پاکستان سے آئے ہوئے مشہور و معروف شعر خوان راجہ عابد ضمیر اور برطانیہ ڈربی میں مقیم ایوارڈ یافتہ شعر خوان راجہ اورنگزیب عالمگیر کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا

دونوں نے اپنی خوبصورت آواز کے جادو سے سلاو کی عوام کے دل جیت لیے اور خوب داد بھی وصول کی اس محفل میں سلاو کے علاوہ چشم ، ڈربی، برمنگھم، لندن سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی

سٹیج سیکرٹری کے فرائض راجہ عمر حیات آف چشم نے اپنے خوبصورت انداز میں نبھائے - محفل کے اختتام پر صدر پی ڈبلیو اے راجہ محمد شبیر صاحب اور ان کی ٹیم نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا-

اردو خبر کی تفصیل

Slough; Pothwari folk evening was held at Pakistan welfare association in Chalvey, Slough, Large number of Pothwari folk singing fans attended the show, in which Pakistani pothari folk singing legend Raja Abid Zameer and award winning folks singing sensation Raja Aurangzaib Alamgeer.

The event was organized by Mohammad Shabbir Raja of Choa Khalsa , President of Pakistan welfare association and friends, who told pothwar.com, that Pothwari folk singing is cultural heritage which we must preserve and our language is being saved via dedication of Pothwari artist in folk singing, pothwari drama and various other artist.

Raja Abid Zameer and Raja Aurangzaib Alamgeer were showered with currency notesby fans, they told coming to Slough has been pleasure, we like to thank Pothwari folk song fans for their support and respect we were given at our show.

Ch Arshad of Pindora horses along with his team were present at the event, While his son who is only 11 performed on Sitar, Mohammad Naseer Raja, Pothwar.com executive team Habib Rashid and Umar Hayat were guest of honor at the event.

برطانیہ کے علاقے اولڈہم(گلاڈوک) میں مقیم گوجرخان کے رہائشی پاکستانی نوجوان نبیل حسن کو قتل کر دیا گیا

British-Pakistani Nabeel Hassan from Gujar Khan stabbed to death in Oldham, UK

some image some image

لندن(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) ----برطانیہ کے علاقے اولڈہم(گلاڈوک) میں مقیم گوجرخان کے رہائشی پاکستانی نوجوان نبیل حسن کو دن دیہاڑے تین سیاہ فام نوجوانوں نے چاقو کے پے در پے وار سے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا

سیاہ فارم نوجوانوں نے پیچھا کرتے ہوئے موقع ملتے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا نبیل کو سخت زخمی حالت میں اولڈہم کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا -

واقعہ کے فوری بعد پولیس نے اسٹریٹ کو گھیرے میں لے لیا اور تفتیش شروع کردی ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی- نبیل کے قتل پر کمیونٹی میں سخت غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے دن دیہاڑے نوجوان کو قتل کر دیا گیا جس پر بہت دکھ ہے ڈرائع کے مطابق نبیل کے والدین کا تعلق تحصیل گوجرخان سے ہے -

MANCHESTER: Nabeel hassan from Gujar Khan was stabbed to death in broad daylight in Glodwick, Oldham. Nabeel Hassan, thought to be in his 20s, died of multiple stab wounds. Greater Manchester Police (GMP) said they were called to reports that a man was unconscious and not breathing near Waterloo Station around 3.20pm. He was taken to hospital where he died.

Witnesses claim Nabeel was chased by a car for around 15 minutes before the stabbing. He was then chased by three men on foot. “Three men with a machete-type knife were seen in the area around the same time,” witnesses further said.

Police confirmed that three men aged between 20 and 22, and a 15-year-old boy were arrested on suspicion of murder. They are currently in police custody for questioning.

Members of the local Asian community are both horrified and baffled by the attack. The attack is a rare incident in the Pakistani-dominated area of Glodwick. According to locals, the incident could be altercation related.

برمنگھم کے عبدل خان اور منصور صنوبر کو دو لاکھ بیس ہزار پونڈز سے زائد بنک فراڈ کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا

Abdul Khan and Mansoor Sanobar of Walsall jailed for Bank fraud

some image

والسال، برمنگھم ،پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ والسال کے عبدل خان اور منصور صنوبر کو ایچ ایس بی سی بنک سے دو لاکھ بیس ہزار سے زائد رقم ہتھیانے کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دونوں دوستوں نے دو ہزار دس مین بنک میں نوکری شروع کی اور جلد ہی بنک کے سسٹم کو چکر دینے کے طریقوں سے آگاہی حاصل کر لی۔

دونوں دوستوں نے مل کر مختلف مواقع پر مختلف طریقے استعمال کر کے بنک کے کمپیوٹر سسٹم کو دھوکا دے کر بڑی بڑی رقوم اپنے اکاونٹ میں ٹرانسفر کراوئیں۔وہ رقم کریڈٹ کارڈ کے ذریعے مختلف اشیا کے ری فنڈ کے ذریعے اپنے بنک میں ٹرانسفر کرواتے۔جس میں سب سے بڑی رقم ایک لاکھ پچیس ہزار پونڈز تھی۔

خان اور صنوبر کے گھر سے کئی ہزار پونڈز کے سونے کے سکے بھی برآمد کیے گئے۔جن کی مالیت دو ہزار سے لے کر ساڑھے تیرہ ہزار تک تھی۔دونوں دوستوں نے معمولی سی جاب کے باوجود عیاشی کی زندگی گزاری۔جو کہ صرف تنخواہ سے ناممکن تھی۔ انھوں نے ایک بڑی مقدار میں بیرون ملک بھی رقوم ٹرانسفر کیں۔اس کے علاوہ وہ کیش مشینوں سے بھی برابر رقم نکلواتے رہے۔

بتیس سالہ عبدل خان کوتین سال دو ماہ جبکہ تینتیس سالہ صنوبر کو دو سال اور گیارہ ماہ جیل کی سزا سنائی گئی۔ دونوں نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ جج کا کہنا تھا کہ کمپیوٹر کے بارے میں تمام معلومات رکھنے کی وجہ سے خان نے اس کا ناجائز استعمال کیا۔ اور بنک کے اندرونی سسٹم کے جوڑ توڑ کے ذریعے اپنی جیبیں بھریں۔

Walsall, Birmingham; Abdul Khan and Mansoor Sanobar are both jailed after crooked bank workers splashed out on holidays and home improvements as one of them plundered more than £220,000 from HSBC. Friends Abdul Khan and Mansoor Sanobar lived “extravagant lifestyles” way beyond what they could have afforded through their salaries. They also withdrew money from cash machines on a regular basis.

Khan used his knowledge of the bank’s computer system to pull off the fraud. The cash went to Sanobar’s credit card and accounts belonging to the pair – with the largest sum more than £125,000. Police found more than £11,300 and over £2,000-worth of gold bullion in a bag at Khan’s home, Birmingham Crown Court heard.

Michael Aspinall, prosecuting, said more than £14,000 had been transferred into foreign currency. Khan, 32, of Heather Avenue, Walsall, who had previously admitted fraud, was sentenced to three years and two months. Sanobar, 33, of Lord Street, also Walsall, was jailed for two years and 11 months after pleading guilty to transferring and converting criminal property.

Both men joined the bank in 2010, with Khan employed as a senior collections associate, based in Calthorpe Road, and Sanobar an underwriter at an office in Edmund Street. Mr Aspinall, prosecuting, said “We say, in particular, Khan used his knowledge of the HSBC computer system to steal about £221,000.” He said the bank had a system involving internal miscellaneous accounts which were used to provide refunds when there was a difficulty or some disagreement with a client’s account.

برطانوی ہائی کمشنر اسلام آباد، کونسلر ہیڈ جان رائن کا ایم سی کلر سیداں میں جبری شادیوں کی روک تھام کے سلسلہ میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب

Officials from British high commission address forced marriage in Kallar Syedan

some image

کلر سیداں؛ نمائندہ پوٹھوارڈاٹ کام ،اکرام الحق قریشی۔۔۔۔ برطانوی ہائی کمشنر اسلام آباد میں تعینات کونسلر ہیڈ جان رائن نے گزشتہ روز ایم سی کلر سیداں میں جبری شادیوں کی روک تھام کے سلسلہ میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 42 فیصد لڑکیوں کی 18 برس کی عمر میں ہی شادی کر دی جاتی ہے جبکہ 08 فیصد لڑکیاں 15 سے 19 سال کی عمر میں ماں بن جاتی ہیں ۔

ثقافتی روایت کی وجہ سے لڑکوں اور لڑکیوں کی کم عمر ی شادی ان کی زندگی کیلئے خطرہ ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں خاص طور پر نوجوانوں اور عورتوں سمیت تمام لوگوں کو یکساں اہمیت اور وقار حاصل ہواور وہ معاشرے کے متحرک افراد کے طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سر انجام دے سکیں

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی اچھی تعلیم ،بہتر صحت ،کم عمراور جبری شادیوں کی روک تھام اور آزادی اظہار رائے برطانوی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔چےئرمین ایم سی کلر سیداں شیخ عبدالقدوس نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جبری شادیوں کے حوالے سے برطانوی حکومت بھی اتنی ہی قصور وار ہے جتنا کہ ہمارا معاشرہ۔برطانوی حکومت جبری شادیوں کیخلاف موثر قانون سازی کرنے کی بجائے سارا ملبہ ہم پاکستانیوں پر ڈال دیتی ہے جو سراسر زیادتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جبری شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے سب سے بڑا قانون ہمارے مذہب میں موجود ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آج معاشرتی مسائل میں پھنسنے کے بعد برطانوی حکومت کو جبری شادیوں کی روک تھام یاد آئی۔ ہمارے کلچر میں جبری شادیوں کا رجحان نہیں تا ہم اس سلسلہ میں پاکستانیوں کو مورد الزام ٹھہرانا بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔تقریب سے برطانوی میں مقیم فورسڈ میرج یونٹ کے جوائنٹ ہیڈ امیر پٹیل،برٹس ہائی کمشنر اسلام آباد میں تعینات وائس کونسلر عازور راحیل اورضلعی لیڈی کونسلر نبیلہ انعام نے بھی خطاب کیا۔سیمینار میں وائس چےئرمین چوہدری محمد ضیارب، ارکان ایم سی چوہدری محمد اشرف ،راجہ محمد حنیف اور عاطف اعجاز بٹ بھی شامل تھے۔

Kallar Syedan; John Ryan from British high commission in Islamabad addressed a seminar at MC Kallar Syedan and spoke about the forced marriage issue effecting British Pakistani community.

John Ryan said currently 42% of girls are married at the age of 18, While 8% of the girls are mothers at the age of 15 to 19, Which is considered dangerous.

At the meeting were officials from forced marriage unit at British high commission, who gave details of forced marriage taking place in British Pakistani community.

The MC Kallar Syedan officials speaking at the seminar said it is wrong to blame the British Pakistani community on forced marriage, The current economic situation in UK has led to British government making issue of forced marriage.

سینٹرل لندن کے 17 روٹس پر ڈبل ڈیکر بسوں پر گو ادر کی ترقی کیلئے اشتہاری بینرز لگوائے گئے ہیں

London buses advert campaign to promote Pakistan’s Gwadar in London

some image some image

لندن؛ نمائندہ پوٹھوارڈاٹ کام ،محمد نصیر راجہ۔۔۔۔ لندن کی 100 بسوں پر ایک ماہ کیلئےگوادر کی ترقی کیلئے اشتہاری بینرز لگوائے ہیں ۔سینٹرل لندن کے 17 روٹس پر یہ ڈبل ڈیک بسیں چل رہی ہیں اور ڈبل ڈیکر بسوں پر گوادر کے خوبصورت بینرز آویزاں ہیں۔

بینرز پر اشتہاروں میں 146146دی گیٹ وے ٹو امرجنگ پاکستان درج ہے ۔سی پیک پروجیکٹ کے تحت پاکستان چین کے ساتھ ملکر بنارہا ہے ،لندن میں یہ مہم چین پاکستان انویسٹمنٹس کارپوریشن کی طرف سے چلائی جارہی ہے اس مہم سے 10 لاکھ لوگوں پر اس کا اثر ہوگا اور یہ ایک ماہ کیلئے لندن کی بسوں پر ہوگا ۔

سی پیک کارپوریشن کے چیف آپریشنز آفیسر سٹوارٹ ریڈ نے دی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ 146146ریڈ گوادر بسیں 145145سینٹرل لندن کے زون ون میں چلائی جارہی ہیں . انہوں نے کہاکہ ہم نے پاکستان اور گوادر کو ہائی پلیٹ فارم میں لایاگیا ہے ،گوادر بسوں کے باعث چند ہی گھنٹوں میں اچھا جواب دیکھنے کو ملا ہے ۔

آج پاکستان ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں میں ہے اور 2030 تک یہ دنیا کی بیسویں بڑی معیشت ہوگی . پاکستان میں بہت مواقع موجود ہیں اور سی پی آئی سی میں ہم عالمی سرمایہ کاروں کیلئے ان مواقعوں کو لائینگے . ستوارٹ ریڈ کے مطابق گوادر عالمی سرمایہ کاری کیلئے اہم شہر ہے ۔ انہوں نے برطانیہ کے ٹیلیگراف میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کا حوالہ بھی دیا ،جس میں کہاگیا کہ گوادر میں اگلے دبئی کیلئے پوٹینشل موجود ہے ۔

London; A leading investment group has launched the most expensive, diverse and creative advertising campaign ever run outside of Pakistan to promote Gwadar as the investment destination and to invite attention towards the future hub of economic activity in the South Asian country.

A total of 100 iconic red double-decker buses in London, the capital city of England, are running across 17 routes, carrying a beautiful banner which reads “Gwadar: The Gateway to Emerging Pakistan”.

A port in Gwadar which is being built and developed with help from China under the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) project has the potential to rival Dubai. The campaign, sponsored by China Pak Investments Corporation (CPIC), has the potential to reach or make an impact on at least 10 million people for the month-long duration it will be featured on London buses.

In an interview with pothwar.com, One Investments Limited Chief Operating Officer Stuart Reid said that the “red Gwadar buses” have been launched in Zone 1 of Central London, the heart of the world’s financial capital, and go out till Zone 4 to celebrate Gwadar.

برمنگھم میں انچاس سالہ شاہین اختر جوے باز شوہر کے ہاتھوں قتل

Mum Shaeen Akhtar stabbed to death by her gambling husband Parvez Akhtar in Birmingham

some image some image

برمنگھم، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ برمنگھم میں پانچ بچوں کی ماں انچاس سالہشاہین اختر کو جوے باز شوہر نے گھر کے دروازےپر چھرے کے وار سے قتل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پرویز اختر جوے کا عادی تھا اور جوے کے لیے رقم حاصل کرنے کی خاطر ہر حد سے گزر جایاکرتا تھا۔اس دن بھی جوے کی عادت سے تنگ بیوی نے اسے گھر سے نکل جانے کو کہا تھا۔کہ پرویز اختر نے اس پر چھرے سے حملہ کردیا۔

پرویز اور شاہین کے بچوں کے مطابق قتل سے ایک دن پہلے ان کے باپ نے اپنی بیوی سے دو سو پونڈز چرائے اور اپنے جوے کی لت کو پورا کرنے نکل پڑا۔ دوسرے روز تین بجے جب وہ گھر میں داخل ہوا تو غصے میں بیوی نے اسے گھر کے اندر داخل ہونے سے روکادونوں میں جھگڑا شروع ہو گیا۔اور پرویز اختر نے بیوی کو دھکے سے ہٹانے کی کوشش کی۔

شاہین اختر دروازے کو مضبوطی سے پکڑے پرویز کو باہر نکالنے کی کوش کرتی رہی کہ اچانک پرویز نے اپنی ٹرائوزر کی داہنی جیب سے ایک چھرا نکالا اور اپنی بیوی کے سینے میں اتار دیا۔جوڑے کے بڑے بیٹے نے دونوں کے درمیان بیچ بچاو کرانے کی کوشش کی اور شاہین اندر کی طرف بھاگی مگر لاونج تک پہنچ کر وہ نیچے گر گئی۔

شاہین کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی مگر وہ خون زیادہ بہہ جانے باعث جانبر نہ ہوسکی۔۔ پرویز اختر نے اپنی بیوی کو قتل کرنے کا جرم تسلیم کر لیا جس پر جج نے اسے تاعمر قید کی سزا سنا دی۔شاہین اور پرویز کی پانچ اولادیں ہیں جن کی عمریں چھبیس سال سے چار سال تک ہیں۔

Birmingham; A mother of five was stabbed to death on the doorstep of her Birmingham home following an argument with her gambling addicted husband. Parvez Akhtar plunged a combat style knife into his 49-year-old wife’s chest after she had asked him to leave.

The horrifying attack was witnessed by a number of their children. Akhtar, 46, who admitted a charge of murdering Shaeen Akhtar was jailed for life. Judge Mark Wall QC said he must serve a minimum of 20 years before being considered for release.

Robert Price, prosecuting at Birmingham Crown Court, said Akhtar and the victim lived in a three bedroom terraced house in Wright Road, Washwood Heath with their children who were aged between four and 26.

On the day before the killing Akhtar stole £200 from the victim, had gone out and did not return until around 3pm the following day, October 15. They had then argued with Mrs Akhtar asking him to leave and holding the front door open which he was trying to push shut.

“He then quickly pulled out a knife from the right side of his trousers and stabbed Shaeen with it to the left side of her chest, “ said Mr Price. Their eldest son “bravely” tried to intervene and pushed his father away while his mother fled to the lounge where she collapsed. Attempts were made to give her CPR but she died from massive blood loss.

ہیروئن کی فروخت سے کمائی گئی رقم کی ترسیل کے جرم میں تین افراد کو جیل کی سزا

Three men jailed over transfer of nearly £32,000 of criminal money

some image

بریڈفورڈ، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نسیر راجہ سے۔۔۔۔ بریڈفورڈ میں جرم کے ذریعے کمائی گئی رقم کی ترسیل کے جرم میں تین افراد کو جیل کی سزا سنا دی گئی۔ ان میں دو آپس میں بھائی بھی ہیں۔ اکتالیس سالہ محمد خان اور اس کا بھائی انتالیس سالہ خالد خان ایک تیسرے فرد سینتالیس سالہ ساجد خان کے ساتھ بریڈفورڈ کراون کورٹ میں پیش ہوئے۔ جہاں ان کے کیس کی سماعت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق والسال کے ساجد خان نے برمنگھم سے بریڈفورڈ کا سفر کیا جہاں سے اس نے بتیس ہزار پونڈز کے دو تھیلے اٹھائے۔ بریڈفورڈ سے واپسی پر پولیس نے روک کر جب ساجد خان کی تلاشی لی تو اس کے پاس سے ہیروئن کے چھوٹے بیگز کے علاوہ رقم بھی ملی وہ رقم جن بیگز کے اندر رکھی گئی تھی ان میں ہیروئن بھی بچی کھچی موجود تھی۔

پولیس کی جانب سے تفتیش پر ساجد خان نے بتایا کہ کہ اس نے ایک دوست کے کہنے پر اس کے لیے یہ بیگز اٹھائے ہیں۔مزید تفصیلات پر محمد خان اور خالد خان کے نام سامنے آئے جو پہلے بھی ڈرگز کیسز میں جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔عدالت میں بیان دیتے وقت محمد خان نے بتایا کہ وہ رقم اس کے بھتیجے کی ہے۔جو ا نے مہنگی کاروں کو کرایے پر دے کر کمائی ہے۔اس رقم کا ڈرگز سے کوئی تعلق نہیں۔

گھر میں موجود پانچ کلو کے قریب کیفین پائے جانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ پاوڈر گھر میں پچھلے دس سال سے موجود تھا اور انھیں اس بارے میں کچھ علم نہیں کہ وہ کیا چیز ہے۔جج نے ان کے ریمارکس کو ریجیکٹ کردیا۔ اور انھیں نان سینس قرار دے دیا۔اور کہا کہ رقم کلاس اے ڈرگ کی فروخت سے حاصل کی گئی ہے۔جس پر تینوں افراد کو جیل بھیج دیا گیا

Bradford - THREE men have been jailed for their part in the transfer of nearly £32,000 of what a judge ruled to be criminal money related to the supply of Class A drugs. Mohammed Khan, 41, and his brother Khalid Khan, 39, both of Park View Road, Heaton, along with Sajid Khan, 47, of Thorpe Road, Walsall, appeared at Bradford Crown Court yesterday to be sentenced for transferring criminal property.

Prosecutor Andrew Semple told the court that Sajid Khan received bags filled with cash from the two other defendants. The money, which amounted to just under £32,000, was separated into two bags. In one, there were some smaller ‘dealer bags’, which were found to contain remnants of heroin. Mr Semple said the crown’s case is that it was criminal money, related to the supply of Class A drugs.

Sajid Khan travelled to Bradford from Birmingham to meet the other two defendants, arriving in the area at around 8pm. As Sajid Khan travelled back to Birmingham following the meeting, police officers pulled him over on the M62 motorway where the money was found in the rear footwell. When interviewed, Sajid Khan said he had been asked by a friend to pick a bag up

Mohammed Khan, who previously served a sentence for possession of Class A drugs with intent to supply, and Khalid Khan, who has a previous conviction for possession of Class A drugs, were arrested around a year later and police found four to five kilograms of caffeine, which can be used as a cutting agent for Class A drugs, at the home of Mohammed Khan.

Giving evidence, Mohammed Khan said the money was related to his nephew hiring out performance cars which had to be paid after one car was involved in a crash and was nothing to do with drugs. He said the caffeine had been in the house for around 10 years and he didn’t know what it was. Judge Jonathan Rose rejected Mohammed Khan’s explanation as a “nonsense” and said he was the “more involved” of the three men.

He concluded that the money came from the supply of Class A drugs. He said that while long-term heroin user Sajid Khan has significant previous convictions, including supplying Class A drugs, he was satisfied he was no more than a driver who had an opportunity to make a “modest” amount of money. Mohammed Khan was sentenced to 19 months imprisonment, Khalid Khan was sentenced to 16 months imprisonment and Sajid Khan was handed a 13-month jail term. A Proceeds of Crime hearing will be held later in the year.

ایشین وومن اچیومنٹ ایوارڈ کے لئے صائمہ اسلم اور سمون ملک کانام شارٹ لسٹ کر دیا گیا

Syima Aslam and Simone Malik on Asian Women of Achievement Awards shortlist .

some image some image

بریڈفورڈ، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ ایک لوکل آرٹسٹ صائمہ اسلم اور پورٹریٹ آرٹسٹ سمون ملک کا نام قومی ایوارڈ ایشین وومن اچیومنٹ ایوارڈ کے لئے شارٹ لسٹ کر دیا گیا۔ صائمہ اسلم بریڈفورڈ لٹریچر فیسٹول کیبانی اور مقامی طور پر ایک آرٹسٹ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ جبکہ سمون اسلم پورٹریٹ آرٹ میں خاصا نام رکھتی ہیں۔

ان دونوں خواتین کا نام ایشین وومن اچیومنٹ ایوارڈ کی آرٹس اینڈ کلچر کیٹیگری کے لئے شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔یہ ایوارڈ نیٹ ویسٹ بنک کی جانب سے برطانیہ بھر کی ایشیائی خواتین کی برطانوی معاشرے میں بامعنی حیثیت اور مقام کو واضح کرنے کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔

ان ایوارڈ کے سرپرستوں میں سابق وزیر اعظم ٹونی بلئیر کی اہلیہ، شیری بلئیر اور شہزادی بدیا بنت الحسن جیسے افراد شامل ہیں۔ اس سال ان ایوارڈ کی تقریب نو مئی کو منعقد کی جارہیہے۔ مسز اسلم نے بریڈفورڈ لٹریچر فیسٹول بریڈفورڈ کی معیشت کو بڑھاوا دینے کے لیے سنہ دو ہزار چودہ میں شروع کیا تھا۔

جبکہ مس ملک نے حال ہی میں ایک تین سالہ کرد بچے کے پورٹریٹ سے خاصی شہرت کمائی تھی۔جو بحیرہ روم کے پانیوں میں شامی پناہ گزینوں کے بحران کے دوران سنہ دوہزار پندرہ میں ڈوب گیا تھا۔ حال ہی میں مس ملک نے ایک اور پورٹریٹ کے ذریعے بھی تہلکہ مچایا جب انھوں نے پاکستان مین ایک قتل کے نامزد مجرم کا پورٹریٹ بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی امیج میں دکھایا جانے والا مجرم اور پاکستانی پولیس کی جانب سے ظاہر کیا گیا ملزم بالکل دو جدا لوگ ہیں۔ شارٹ لسٹ ہونے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ اس لسٹ میں صرف نام آجانے پر بھی وہ انتہائی مسرور ہیں۔

Bradford; A LOCAL artist and the co-founder of the Bradford Literature Festival have both made the shortlist for a top national award. Syima Aslam, who established the festival in 2014, and portrait artist Simone Malik have both made the Arts and Culture category of the Asian Women of Achievement Awards.

The awards are run by Natwest and celebrate Asian women across the UK who are making important contributions to British life. The awards patrons are Cherie Blair and HRH Princess Badiya bint El Hassan, and this year the ceremony will be held on May 9. Mrs Aslam established Bradford Literature Festival to boost Bradford’s economic growth through cultural regeneration.

Miss Malik has recently received acclaim for her paintings including one of Aylan Kurdi, the three-year-old Kurdish boy, who drowned in the Mediterranean Sea in September 2015 during the Syrian refugee crisis.

She also hit the news recently after creating an image of a man wanted for a murder in Pakistan. She had felt the original image produced by Pakistani police looked nothing like the suspect seen in CCTV footage. After making the shortlist she said: “I’m proud to be on the list. It is the first time I have put myself forward for the award.

سلاو پیرش کونسل کی چئیر وومن شاہدہ اکبر کی جانب سے پیرش کونسل پر مسلمانوں کے قبضے کے الزامات کی تردید کر دی

Shaida Akbar denies allegation of Muslim take over at Slough parish council

some image

سلاو، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد افتخار وارثی۔۔۔۔۔ سلاو پیرش کونسل کی چئیر وومن شاہدہ اکبر کی جانب سے پیرش کونسل پر مسلمانوں کے قبضے کے الزامات کی تردید کر دی۔ حالانکہ ان کی جانب سے ان کے فرینڈ کو بھیجے گئے ٹیکسٹ میسج پیغامات ان کی تردید کے خلاف جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کونسلر شاہدہ اکبر چئیر وومن آف ویکسم کورٹ پیرش کونسل نے اپنے پیغامات میں کہا کہ ہم مسلمان کونسلرز کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔تاکہ اس بار چئیر اور وائس چئیر کی کرسی مسلمانوں کے قبضے میں آسکے۔اس کے لیے سب کو ایس ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کونسلر شاہدہ اکبر نے اپنے میسیج میں دوسرے کونسلرز کو خبردار کیا کہ کونسلر سانڈرہ ملک اگلی بار چئیر وومن کے لیے کھڑی ہونے کی تیاری میں ہے اور وہ تمام گوروں کو اپنے ساتھ ملا سکتی ہے۔مسلمانوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں ایک لیڈر چاہئیے جو اس معاملے کو آرڈر میں رکھ سکے۔

سلاو بارو کونسل نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ انھیں شاہدہ اکبر کے بارے مین شکایات موصول ہوئی ہیں۔سلاو لیبر گروپ کی چئیر وومن نے بھی شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ کونسلر شاہدہ اکبر نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ سب جان کر انھیں انتہائی شاک لگا ہے۔ وہ ایسے کسی ٹیکسٹ میسج کے بارے میں نہیں جانتیں۔

Slough; Cllr Shaida Akbar of village Chak Mirza, Kallar Syedan, who is a chairwoman of a parish council has strongly denied pushing for an all-Muslim leadership team – following the emergence of alleged text messages that appear to show she had been.

Cllr Shaida Akbar, chairwoman of Wexham Court Parish Council, allegedly told a colleague in a text that “we need (to) get the chair and vice to be Muslim this time. We all need to work together”.The date of April 22 is displayed in the WhatsApp messages, seen by local newspaper.

Cllr Shaida Akbar, appears to warn in the same messages that another councillor, Cllr Sandra Malik, would stand for chairwoman, and that she would “pump the other Gori (white people) to back her”.A message says: “Muslims need unity. We need someone (to) lead and keep them all in order.”

Slough borough council confirmed it had received the complaint, but said it found no case to answer. Chairwoman of Slough Labour Group, Christine Hulme, also confirmed she had received complaints, but could not confirm their nature.

Cllr Akbar strongly denied she had ever written the texts. She said: “I didn’t know about these texts – it comes as a real shock. I am really gobsmacked that people would come up with that – there are people who have reported me, that hold grudges. I’ve been reported over 20 times, but nothing ever came of it. I work very hard, I’m really flabbergasted that these vicious rumours are circulating.”

<

لندن چچا نے بیس سالہ بھتیجی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلہ کاٹ کر قتل کر دیا ، دوسری لڑکی فرار

Mujahid Arshid jailed for abusing and murdering his niece in London

some image some image

لندن(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی)----- برطانیہ کے علاقے کنگسٹن ساوتھ لندن میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری مجاہد ارشد نے دو لڑکیوں کو منشیات دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا جس میں ایک بھتیجی تھی -

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مجاہد ارشد نے دو کم عمر لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد منشیات دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان کے گلے بھی کاٹ دیے جس میں ایک قاتل مجاہد کی سگی بھتیجی تھی جس کی عمر بیس سال تھی -

رپورٹ کے مطابق اس ظالم شخص نے دونوں لڑکیوں کو کنگسٹن میں واقع زیر تعمیر گھر میں لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اس نے پہلےبھتیجی کا گلہ کاٹ لاش فریزر میں رکھ دی جو اس نے اسی لیے خریدا تھا اس کےبعد جب دوسری لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلہ کاٹنے ہی والا تھا تو لڑکی نے کہا مجھے تم سے پیار ہوگیا ہے مجھے نہ مارو میں تمہارے ساتھ رہوں گی یہ سن کر اسے چھوڑ دیا مگر اس کی گردن پر گہرا زخم ہو گیا

بالآخر لڑکی اس کے چنگل سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی اور پولیس کو اطلاع کر دی جس پر فوری طور پر امجد کو گرفتار کر لیا گیا اور عدالت میں پیش کر دیا گیا جہاں اس کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی کم از کم چالیس سال جیل کاٹنی ہوگی - پاکستان میں ایسے واقعات بیشتر علاقوں میں ہورہے ہیں مگر اب برطانیہ میں ایسی حرکت کر کے مجاہد نے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے

London; An uncle Mujahid Arshid has been jailed for life for kidnapping, raping and slitting the throat of his niece before putting her body in a deep freezer. Mujahid Arshid, 33, was found guilty of murdering Celine Dookhran, 20, and the attempted murder of a second woman.

Arshid, who will serve at least 40 years in prison, snatched the women in July before taking them to a house in Kingston, south west London. His co-accused, Vincent Tappu, 28, was cleared of kidnapping charges.

Both defendants were cleared of possession of a firearm with intent for allegedly using a Taser during the abduction, which took place on 19 July 2017. Arshid, of Homefield Gardens, Mitcham, has also been convicted of sexual assault charges against the second woman between 2008 and 2010.

ہزاروں کی تعداد میں برطانوی شہریوں کی پاکستان سے جعلی ڈگریاں خریدنے کی تصدیق

Thousands in the UK bought fake degrees manufactured in Pakistan

some image some image

برمنگھم نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام شاہد ہاشمی۔۔۔۔۔۔ بی بی سی کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں برطانوی شہریوں نے پاکستان سے جعلی ڈگریاں خریدی ہیں۔ بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام فائل آن فور کی تحقیقات کے مطابق اِن ڈگریوں کی مالیت لاکھوں پاونڈ ہے۔

اِن جعلی ڈگریوں کے خریداروں میں نیشنل ہیلتھ سروسز کے معاونین نرسیں اور ایک بڑا دفاعی کانٹریکٹر بھی شامل ہے۔ یہاں تک کہ ایک برطانوی خریدار نے جعلی دستاویزات حاصل کرنے کے لیے پانچ لاکھ پاونڈ خرچ کیے۔ برطانوی محکمۂ تعلیم کا کہنا ہے کہ وہ جعلی ڈگریوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی ہونے کا دعوی کرنے والی کمپنی ایگزیکٹ سینکڑوں کی تعداد میں جعلی آن لائن یونیورسٹیوں کا ایک نیٹ ورک کراچی میں ایک کال سینٹر کے ذریعے چلا رہی ہے۔

بروکلن پارک یونیورسٹی اور نکسن یونیورسٹی جیسے ناموں کے ساتھ اِس کمپنی کے اشہارات انٹرنیٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں جن میں مسکراتے طلبہ و طالبات نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان جعلی اداروں کی تعریف میں جعلی مضٰامین تک انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ بی بی سی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق 2013 اور 2014 میں برطانیہ میں مقیم خریداروں کو ایگزیکٹ کی تین ہزار سے زیادہ جعلی ڈگریاں بیچی گئیں جن میں پی ایچ ڈی، ڈاکٹریٹ اور ماسٹرز کی ڈگریاں بھی شامل تھیں۔

بی بی سی نے برطانوی خریداروں کی فہرست دیکھی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کے جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والوں میں برطانیہ کے ہسپتالوں میں کام کرنے والے لوگ بھی ہیں جن میں امراضِ چشم کے ماہرین ، نرسیں، ماہرینِ نفسیات اور بہت سے کنسلٹنٹس بھی شامل ہیں۔ 2015 میں ایگزیکٹ کمپنی نے دنیا بھر میں دو لاکھ پندرہ ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کیں۔ یہ ڈگریاں تقریباً ساڑھے تین سو جعلی ہائی سکولوں اور یونیورسٹیوں کے ذریعے بیچی گئیں۔ اگزیکٹ نے اِس کاروبار میں صرف 2015 میں تین کروڑ ستر لاکھ پاونڈ کمائے۔

London; A diploma mill in Pakistan has been making millions of pounds from UK buyers looking for fake degrees, a report by BBC Radio 4 File on Four programme has found. Buyers were willing to spend up to half a million pounds. They include National Health Service consultants, nurses and a large defense contractor.

More than 3,000 fake qualifications were sold to buyers in the UK in 2013 and 2014 by a company named Axact, documents seen by the BBC show. In 2015, the company sold more than 215,000 fake qualifications globally – worth a total GBP37.5 million (US$51 million).

“Degree fraud cheats both genuine learners and employers, so we’ve taken decisive action to crack down on those seeking to profit from it,” a Department for Education spokesman said. There are hundreds of bogus online universities with names such as Brooklyn Park University and Nixon University. They are said to be operated by Axact, which is run by agents from a Karachi call centre. The company claims to be the “world’s largest IT company”.

While doctors with valid medical degrees are allowed to practise, buying a bogus one constitutes fraud and they can be punished for that, Higher Education Degree Datacheck (HEDD) chief executive Jayne Rowley said. However, only 20 percent of UK employers thoroughly check their employees’ qualifications, according to Rowley.

جعلی بنک کارڈز کے ذریعے پچانوے ہزار پونڈز کے قریب رقم انشورنش کمپنیز سے ہتھیانے کے جرم میں تیرہ افراد کے گینگ کو جیل کی سزا

Gang jailed for fraudulent bank cards to claim £95k worth refund insurance policies

some image

مانچسٹر، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ۔۔۔۔ جعلی بنک کارڈز کے ذریعے پچانوے ہزار پونڈز کے قریب رقم انشورنش کمپنیز سے ہتھیانے کے جرم میں تیرہ افراد کے گینگ کو جیل کی سزا سنا دی گئی۔گینگ کے تین ممبرز محمد شعیب، عرفان عجائب اور محمد عباس جعلی ببنک کارڈز کے ذریعے اپنی گاڑی کی انشورنش کرواتے۔ اور بعد ازاں اپنے اصلی کارڈ پر ری فنڈ کروا لیتے۔

دیگر دس ممبرز کو مانچسٹر ، راچڈیل اور ایکرنگٹن میں جیل کی معطل سزا کے علاوہ کمیونٹی آرڈر بھی دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گینگ کے ممبرز جعلی کارڈز کے ذریعے گاڑی کی مکمل انشورنش کرواتے بعد میں اصلی کارڈ کے ذریعے ایک آدھ تبدیلی کروا کر مزید کچھ رقم ادا کرتے۔اور انشورنش کی چودہ دن کے اندر کینسل کیے جانے کے موقعے سے فائدہ اٹھا کر ساری پالیسی کینسل کروا لیتے اور انشورنش کمپنی کو بعد والے جائز کارڈ میں تمام رقم ری فنڈ کرنے کی ہدایت کرتے۔

اس نوسر بازی کا علم اس وقت ہوا جب ایک انشورنش کمپنی کے سٹاف کو ایک بنک اکاونٹ میں بہت بڑی رقم دو بار ری فنڈ کرنے پر خطرے کا الارم بجا۔ وہ اکاونٹ امجدمغل آف راچڈیل کا تھا۔اس واقعہ کے بعد کئی ایک بنک کارڈز اور بنک سٹیٹمنٹ پولیس نے اپنے قبضے میں لیں۔ چار افراد کو جعل سازی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔اور کئی ایک مقامات پر پولیس سرچ آپریشن کیے گئے

راچڈیل کے جن افراد کو جعل سازی کے نتیجے میں کورٹ کیسز کا سامنا ہے ان میں محمد شعیب، وقاص جبار، امجد مغل، عقیل اشرف، عبد المبین، حمزہ مظلوب، فائزہ ارشد، محمد عباس، عرفان عجائب اور یاسمین علی مرفی شامل ہیں۔

Manchester; Three gang members Mohammed Shoaib , Arfan Ajaib and Mohammed Abbas, who used fraudulent bank cards to claim £95k worth of refunds from car insurance policies have been jailed.

A further 10 fraudsters, from Rochdale, north Manchester and Accrington, were handed suspended sentences and community orders after compromised bank cards were used to purchase insurance, which were later refunded to legitimate bank accounts.

An investigation was launched after staff at insurance company 1st Cental noticed two unusually large refunds for motor insurance policies paid into a bank account belonging to Amjad Mughal of Rochdale.

Several bankcards and bank statements were seized. Four people were arrested on suspicion of fraud offences. Following the search warrants another nine people handed themselves into police and were arrested. The following people all from Rochdale were sentenced following court cases, Mohammed Shoaib, Waqaas Jabbar, Amjad Mughal,Aqeel Ashraf, Abdul Mobeen,Hamza Matloob, Faiza Arshad, Mohammed Abbas, Arfan Ajaib and Yasmin Ali Murphy.

بریڈفورڈ کے دو بھائیوں کی ساوتھ ایشین بینی چیمپئین شپ میں دو مختلف کیٹیگریز میں کامیابی

Brothers Nazam and Umar have been celebrating after one successfully defended his world title

some image some image

بریڈفورڈ، پوٹھوار ڈاٹ کوم ، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ بریڈفورڈ سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں نے بینی کی ساوتھ ایشین چیمپئین شپ میں دو مختلف کیٹیگریز میں چیمپئین شپ کا فائنل جیت لیا۔ناظم خان نے بینی مڈل ویٹ چیمپئین کا ٹائٹل پہلی بار جیتا جبکہ اسی کھیل میں ناظم کے چھوٹے بھائی عمر خان نے ہیوی ویٹ بینی چیمپیئن کا ٹائٹل جیت لیا۔

بینی یعنی آرم ریسلنگ پاکستان اور ساوتھ ایسٹ ایشیا کا ایک مقبول کھیل ہے۔جس میں دو کھلاڑی ایک مخصوص انداز میں ایک دوسرے کی بازو پر اپنی گرفت مضبوط کر کے ایک دوسرے کو ہرانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ کھیل چار راونڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔جس میں یا تو دوسرے کھلاڑی سے ہاتھ چھڑانا ہوتا ہے یا دوسرے کو ہاتھ چھڑانے سے روکنا ہوتا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کے پاس تین مواقع ہوتے ہیں۔

ستمبر دو ہزار سولہ میں ناظم خان کے بھائی عمر خان نے سب سے کم عمر ورلڈ ہیوی ویٹ چیپئن کا ٹائٹل جیتا تھا۔ مگر اس سال ہونے والے مقابلے میں ناظم خان نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ اس کھیل میں حصہ لیا۔ یہ مقابلہ ویکفیلڈ برطانیہ میں منعقد کیا گیا۔

ناظم خان کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے تین سال سے اپنے بھائی کے ساتھ ٹریننگ لے رہا تھا کیونکہ وہ اپنے بھائی کی طرح چیمپئین شپ جیتنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے کئی ایک جگہوں پر ٹریننگ حاصل کی۔اور آخر کار مڈل ویٹ کا تائٹل جیت لیا۔دونوں بھائی اپنی اس کامیابی پر انتہائی پر مسرت ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ اس کامیابی کو انجوائے کر رہے ہیں۔

Bradford; Two brothers have been celebrating after one successfully defended his world title and the other became the new world champion in a form of South Asian arm wrestling. Nazam Khan was crowned the new world middleweight champion, at the same event his younger brother Umar Khan defended his world heavyweight title in the sport of Beeni.

A form of arm wrestling, Beeni, popular in Pakistan and South Asia, involves two fighters forming a special grip, and in a four-round bout have to either break free from their opponent’s hold or stop their opponent from escaping the hold. Fighters have three chances to break the grip per round, and points are awarded for breaking free or stopping the opponent from escaping.

In September 2016, Nazam Khan’s brother Umar Khan became the sport’s youngest ever world heavyweight champion aged 22. On Sunday, at the event held at Lightwaves sports centre in Wakefield, Nazam, 25, joined his brother at the top of the sport by picking up the world title.

Mr Khan, who runs his own private hire firm, said he first got into the sport training with his brother three years ago. He said: “I just wanted to follow in my brother’s footsteps.“We train at the same gym and I have followed his workouts for three years.“We have been all over the world training and competing, and now I am middleweight champion.

لندن ہائی کورٹ نے جامع مسجد الیاس کو گرانے کے احکامات جاری کر دیے

Trustees lose legal battle for construction of Tableeghi Markaz, mosque in London

some image

لندن(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی)---- برطانیہ کے علاقے نیوہیم میں قایم تبلیغی جماعت کے مرکز اور جامع مسجد الیاس کو گرانے کے احکامات جاری کر دیے- گزشتہ روز کورٹ نمبر چودہ کے جج نے پورا دن سماعت کرنے کے بعد نیوہیم کی کونسل کے حق میں فیصلہ سنا دیا-

جج نے مسجد کے تین ٹرسٹیز ذولفقار علی ، صولت سکندر، ابراہیم شیخ کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے انہیں باہیس ہزار دو سو سات پاونڈ بطور اخراجات بھی چار ہفتوں میں ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے -

جج نے مسجد کے فیصلے کے خلاف اپیل کا بھی حق نہیں دیا - الیاس مسجد میں تقریبا ڈھائی ہزار نمازیوں کی گنجائش اور وسیع پارکنگ کی گنجائش ہے مرکز اور مسجد کی تعمیر کے بعد کونسل نے اسے منصوبہ بندی کے بغیر ایک غیر قانونی تعمیر قرار دیا- ذرائع کے مطابق تبلیغی مرکز واضح طور پر دو گروپ میں تقسیم ہو چکا آپس میں اختلافاتکے باعث مقدمے میں شکست کا سبب بنا -

LONDON: Trustees of Tableeghi Markaz and Ilyas Mosque in East London have lost a legal battle against Newham Council regarding construction of their Tableeghi Markaz of Abbey Mills Mosque, also known as the London Markaz or Masjid-e-Ilyas, a mosque located in Stratford, accommodating up to 2,500 people.

The high court judge also disallowed the trustees’ plea for an appeal to the judgement reviving chances of demolishing of Masjid-e-Ilyas or Tableeghi Markaz. Judge Walden Smith also ordered to pay £22,207 as expenditure within a period of four weeks.

Trustees have also filed an appeal in the European Union Court of Human Rights where the date of hearing has not been set. The petition was filed by Trustees of Tableeghi Markaz against the Newham Council’s decision to demolish the project of the mosque, that has no planning permission, the Council says. The petition to suspend the demolition injunction for a period of one year was filed on behalf of three trustees of Tableeghi Markaz -- Solat Sikandar, Ibrahim Sheikh and Zulfiqar Ali.

During hearing of the case on 19 January, the court was told that there was currently a mosque with a capacity for 2,500 worshipers and a large parking area on the site. About 15,000 of Tableeghi Jamaat members from different parts of London gather at the mosque every Thursday night for listening “Khutba” and go out for their missionary work.

The counsel for the London Borough of Newham informed the court that it wanted to demolish the mosque, parking lot and other structures which it considers illegal after the trustees’ appeal against secretary of state’s decision to disallow temporary planning permission was rejected by the appeals court in July 2017.

دوسری شادی کے مسئلے پر مانچسٹر کی مرکزی مسجد کے امام قاری جاوید اختر نشانے پر

Manchester Central Mosque imam Qari Javed Akhtar takes leave after marriage row

some image some image

مانچسٹر، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ مانچسٹر کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد کے امام قابل احترام قاری جاوید اختر کو دوسری شادی کے مئلے کی بنا پر اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔اور ان کی ذاتی زندگی میں پیش آنے والے واقعے کی بنا پر انھیں شدید تنقید کا سامنا ہے قاری جاوید پچھلے تیس سالوں سے مسجد کی امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔۔

تفصیلات کے مطابق اٹھاون سالہ امام جو کہ انٹرنیشل نعت ایسوسی ایشن کے چئیرمین بھی ہیں انھیں امامت کے ساتھ ساتھ چئیرمین شپ سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔واقعہ کی تفصیلات کے مطابق قاری جاویداختر نے اپنے سے تیس سال کم عمر خاتون کے ساھ نکاح کیا۔ پانچ بچوں کے باپ قاری جاوید آج کل اپنی پہلی بیوی سے علٰحدگی کےبعد د نئی نویلی دلہن کے ساتھ رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مقامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ انھیں قاری صاحب کے بارے میں کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔اور اگر کسی قسم کی کجی ثابت ہوئی تو معاملہ کو اس کی نوعیت کے مطابق حل کیا جائے گا۔بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ سے قاری جاوید کے نئے سسرال کے کچھ افراد ناخوش ہیں۔ تاہم ان کی نئی اہلیہ کا کہنا ہے کہ امام صاحب مسجد میں اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے رہیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ امام صاحب عارضی طور پر چھٹیوں پر ہیں۔ مگر نعت ایسوسی ایشن نے اپنی ویب سائٹ کے پیج پر قاری جاوید کے استعفے کی خبر شائع کر دی ہے۔ انھوں نے اس واقعے سے کسی کو بھی دکھ پہنچنے پر معذرت کی ہے اور کہاہے کہ یہ قاری جاوید صاحب کا ذاتی معاملہ ہے۔

Manchester; Qari Javed Akhtar a respected imam at one of Manchester’s biggest mosques has temporarily stepped down amid controversy surrounding his personal life.Qari Javed Akhtar has been leader at Manchester Central Mosque for more than three decades but is currently taking a temporary leave of absence.

The 58-year-old has also stood down as chairman of the International Naat Association - an Islamic poetry recital group.The move comes after it emerged that Mr Akhtar had married a woman more than 30 years his junior in an Islamic ceremony.

Father-of-five Mr Akhtar, from Rusholme, is understood to be living with the younger woman after separating from the mother of his children. Local leaders say they have not received any official complaints against Mr Akhtar and any allegations of wrongdoing would be taken seriously. However the community has been left in confusion about Mr Akhtar’s position at the mosque.

It is understood that some members of Mr Akhtar’s new wife’s family are amongst those unhappy with the union. His new wife said after a flurry of speculation about her husband’s absence from the mosque, on Upper Park Road in Victoria Park, near Longsight. She denied that the Imam would be standing down from his duties on a permanent basis and said he was taking a temporary leave of absence.

In a statement posted on their Facebook page members of the International Naat Association said: “We would like to bring this to your attention that Chairman International Naat Association, Qari Javed Akhtar sahb has resigned from his position and he is no longer part of this organisation. “He has also felt sorry for those who have been hurt due to his recent personal family matters.

کمرشل ویسٹ گھر کے بنز میں ڈمپ کرنے پر کوالٹی میٹس کے حامد احمد کو پانچ ہزار پاونڈ سے زاہد جرمانہ کر دیا گیا

Halal butchers Hamed Ahmed fined £5,000 for illegally dumping waste

some image some image

لندن(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی) ----برطانیہ کے علاقے بولٹن میں واقع پاکستانی نژاد حلال گوشت فروخت کرنے والے قصاب کو غیر قانونی طور پر فوڈ ویسٹ ڈمپ کرنے پر پانچ ہزار پاونڈ سے زاہد جرمانہ کر دیا گیا- کوالٹی میٹس کے حامد احمد نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے گھر کئ باہر موجود بنز میں خون آلود فوڈاور دیگر اشیاء پھینکی ہیں - گزشتہ سال کونسل سے کہا گیا ہے گھر کے باہر موجود کمیونل بن کمرشل ویسٹ پھینکا گیا ہے

جس کی وجہ وہاں پر موجود رہائشیوں کو کچڑا ڈمپ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کونسل کے ایکشن پر کہیں ہفتے انفورسٹمنٹ آفیسر نے اس صورتحال کو مانیٹر کیا بالآخر بن سے کوالٹی میٹس کی ٹل رسیدیں اور خون آلودہ پلاسٹک ریپنگ کے بنڈل مل گئے جو بن کے اندر تھے اور قصاب کے آلات ، ٹرے، کھلے پیپر وغیرہ بھی شامل تھے جو بن میں موجود تھے تاہم دوران انکوائری حامد احمد نے اعتراف کر لیا کے سچ ہے

کہ وہ کمرشل ویسٹ اپنے گھر لے جاتا تھا اور زیادہ تر کچڑا کمپاونڈ میں پھینکے لگا حامد احمد کے اعتراف پر بولٹن مجسٹریٹس کورٹ نے سولہ جنوری کو اسے ڈیوٹی آف کئیر کے پانچ الزامات کا مرتکب قرار دیا اور اس پر پانچ ہزار دو سو دو پاونڈ جرمانہ عائدکیا اور اسے حکم بھی دیا گیا کے وہ ایک ہزار پینتس پاونڈ اخراجات اور ایک سو تیس پاونڈ وکٹم سرچارج بھی ادا کرے - بولٹن کونسل کے ایگزیکٹو کیبنٹ ممبرفار انوارمنٹل سروسز نےکہا کہ اس طرح سے کچڑا پھینکنے والےکے لیے کوئی عذر قابل قبول نہیں اس کی وجہ سے دوسرے مکینوں کو مشکالات پیش آتی ہیں

اور کیڑے مکوڑے اور دوسرے جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں- واضح رہے کہ برطانیہ کے مختلف علاقوں میں بے شمار لوگ گھر کا فالتو سامان روڈ کے کنارے یا پارکوں میں پھینک جاتے ہیں جو کے سرا سر غلط ہے کونسل کی طرف سے ہر گھر میں تین تین بن مہیاکیے گئے ہیں اور ہر علاقے میں ایک ایسی جگہ موجود ہے جہاں ہم سب گھر کا کا فالتو سامان بآسانی پھینک سکتے ہیں اگر آپ کو ایسے افراد نظر آئیں جو کچڑا وغیرہ گلیوں میں یا پارکوں میں پھینک رہے ہیں تو فورا کونسل کو بتاہیں ہم سب کو اپنے اپنے علاقوں کو صاف ستھرا رکھنے میں کونسل کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ اپنے علاقوں کو صاف ستھرا رکھنے سکیں-

Manchester; Butcher Hamed Ahmed has been fined more than £5,000 after dumping food waste which attracted maggots in the communal bins at the flats where he lived. Hamed Ahmed of Quality Halal Meats, Deane Road, admitted putting bloody food wrappings and other items in the bins outside his home in Thornbank East.

The council was asked to investigate by housing landlord Bolton at Home after caretakers found large amounts of business waste in a communal bin compound at the flats. It was preventing other residents disposing of their waste properly. An enforcement officer monitored the situation for several weeks during which time paperwork, till receipts for Quality Halal Meats and bundles of white plastic wrapping covered in blood were left in and around the bins.

The officer also found butchers’ equipment, trays, loose paper and food waste which had also attracted maggots. The waste was traced to Ahmed who admitted taking it home from his business. Despite being told that he was committing offences, he left more waste in the compound.

Ahmed pleaded guilty at Bolton Magistrates’ Court on January 15 to five counts of breaching his duty of care by allowing waste to escape his control, three counts of fly tipping and four counts of illegally transporting business waste. He was fined £5,205 and has to pay costs of £1,035 and a £170 victim surcharge.

Pothwar. COM

+44 7763249391 | pothwar@yahoo.co.uk
© Copyright Pothwar.com | Est. 2000-2017

new graphics